women protection bill

قومی اسمبلی میں پیش کردہ صورت میں مجموعہ تعزیرات پاکستان، مجموعہ ضابطہ فوجداری اور دیگر قوانین میں مزید ترمیم کرنیکا بلچونکہ دستور کا آرٹیکل ١١٤ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ شرف انسانی اور قانونکے تابع، گھر کی خلوت قابل حرمت ہو گی۔
چونکہ دستور کا آرٹیکل ٣٧ سماجی انصاف کو فروغ دینے اور سماجی برائیوں کا خاتمہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
چونکہ یہ ضروری ہے کہ قانون کے غلط اور بیجا استعمال کے خلاف خواتین کی داد رسی کی جائے اور تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے استحصال کو روکا جائے۔
چونکہ اس بل کا مقصد ایسا قانون لانا ہے جو بالخصوص دستور کے بیان کردہ مقاصد اور اسلامی احکام سے مطابقت رکھتا ہو۔
چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعدازیں ظاہر ہونے والی اغراض کے لئےمجموعہ تعزیرات پاکستان ١٨٦٠ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٦٠ء) مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) قانون انفساخ ازواج مسلمانان ١٩٣٩ء (نمبر ٨ بابت ١٩٣٩ء) زناء کا جرم (نفاذ حدود) آرڈیننس، ١٩٧٩ء (نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) اور قذف کا جرم (حد کا نفاظ) آرڈیننس، ١٩٧٩ء (نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء) میں مزید ترمیم کی جائے۔
لہذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔١- مختصر عنوان اور آغاز کا نفاذ:-
(١) یہ ایکٹ، قانون فوجداری ترمیمی (خواتین کا تحفظ) ایکٹ ٢٠٠٢ء کے نام سے موسوم ہو گا۔
(٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

٢۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) میں جس کا حوالہ بعدازیں ‘مجموعہ قانون‘ کے طور پر دیا گیا، دفعہ ٣٦٥ الف کے بعد، حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی یعنی ۔۔۔
٣٦٥ ب۔ عورت کو نکاح وغیرہ پر مجبور کرنے کے لئے اغوا کرنا لے بھاگنا یا ترغیب دینا:-
جو کوئی بھی کسی عورت کو اس اردادے سے کہ اسے مجبور کیا جائے، یا یہ جانتے ہوئے اسے مجبور کرنے کا احتمال ہے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف کسی شخص سے نکاح کرے یا اس غرض سے کہ ناجائز جماع پر مجبور کی جائے یا پھسلائی یا اس امر کے احتمال کے علم سے کہ اسے ناجائز جماع پر مجبور کر لیا جائے یا پھسلا لیا جائے گا، لے بھاگے یا اغوا کر لے تو عمر قید کی سزا دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا اور جو کوئی بھی اس مجموعہ قانون میں تعریف کردہ تخریف مجرمانہ کے ذریعے یا اکتیار کے بیجا استعمال یا جبر کے کسی دوسرے طریقے کے ذریعے، کسی عورت کو کسی جگہ سے جانے کے لئے اس ارادے سے یا یہ جانتے ہوئے ترغیب دے کہ اس امر کا احتمال ہے کہ اسے کسی دوسرے شخص کے ساتھ ناجائز جماع پر مجبور کیا جائے گا یا پھسلا لیا جائے گا تو بھی مذکورہ بالا طور پر قابل سزا ہو گا۔

٣۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں دفعہ ٣٦٧ کے بعد حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی یعنی ۔۔۔۔۔
٣٦٧ الف ۔ کسی شخص سے غیر فطری خواہش نفسانی کا نشانہ بنانے کی غرض سے اغوا کرنا یا لے بھاگنا:-
جو کوئی بھی کسی شخص کو اس غرض سے کہ مذکورہ شخص کسی شخص کی غیر فطری خواہش نفسانی کا نشانہ بنایا جائے یا اس طرح ٹھکانے لگایا جائے کہ وہ کسی شخص کی غیر فطری خواہش نفسانی کا نشانہ بننے کے خطرے میں پڑ جائے اس امر کے احتمال کے علم کے ساتھ مذکورہ شخص کو بایں طور پر نشانہ بنایا جائے گا یا ٹھکانے لگایا جائے گا، لے بھاگے یا اغوا کرے تو اسے موت یا پچیس سال تک کی مدت کے لئے قید سخت کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٤۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعات کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں دفعہ ٣٧١ کے بعد حسب ذیل نئی دفعات شامل کر دی جائیں گی یعنی ۔۔۔۔۔
٣٧١ الف ۔ کسی شخص کو عصمت فروشی وغیرہ کی اغراض کے لئے فروخت کرنا:-
جو کوئی بھی کسی شخص کو اس نیت سے کہ مذکورہ شخص کسی بھی وقت عصمت فروشی یا کسی شخص کے ساتھ ناجائز جماع کی غرض سے یا کسی ناجائز اور غیر اخلاقی مقصد کے لئے کام میں لگایا جائے گا یا استعمال کیا جائے گا یا اس امر کے احتمال کا علم رکھتے ہوئے کہ مذکورہ شخص کو کسی بھی وقت مذکورہ غرض کے لئے کام میں لگایا جائے گا یا استعمال کیا جائے گا، فروخت کرے، اجرت پر چلائے یا بصورت دیگر حوالے کرے تو اسے پچپن سال تک کی مدت کے لئے سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔
تشریحات۔
(الف) جب کوئی عورت کسی طوائف یا کسی شخص کو کسی چکلے یا مالک یا منتظم ہو فروخت کی جائے، اجرت پر دی جائے، بصورت دیگر حوالے کی جائے تو مذکورہ عورت کو اس طرح حوالے کرنے والے شخص کے متعلق تاوقتیکہ اس کے برعکس ثابت نہ ہو جائے یہ تصور کیا جائے گا کہ اس نے اسے اس نیت سے حوالے کیا تھا کہ اسے عمت فروشی کے مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
(ب) دفعہ ہذا اور دفعہ ٣٧١ ب کی اغراض کے لئے ‘ناجائز جماع‘ سے ایسے اشخاص کے مابین جماع مراد ہے جو رشتہ نکاح میں منسلک نہ ہوں۔
٣٧١ ب ۔ کسی شخص کو عصمت فروشی وغیرہ کی اغراض سے خریدنا:-
جو کوئی بھی کسی شخص کو اس نیت سے کہ مذکورہ شخص کو کسی وقت عصمت فروشی کے لئے یا کسی شخص کے ساتھ ناجائز جماع کے لئے کسی ناجائز اور غیر اخلاقی مقصد کے لئے کام میں لگایا جائے گا یا استعمال کیا جائے گا، خریدے، اجرت پر رکھے یا بصورت دیگر اس کا قبضہ حصل کرے تو اسے پچیس سال کی مدت کے لئے سزائے قید دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔
تشریح:-
کوئی طوائف یا کوئی شخص جو کسی چکلے کا مالک یا منتظم ہو کسی عورت کو خریدے، اجرت پر رکھے یا بصورت دیگر اس کا قبضہ حاصل کرے تو تاوقتیکہ اس کے برعکس ثابت نہ ہو جائے یہ تصور کیا جائے گا کہ اس عورت پر اس نیت سے قبضہ کیا گیا تھا کہ اسے عصمت فروشی کے مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

٥۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں دفعہ ٣٧٤ کے بعد ذیلی عنوان ‘زنا بالجبر‘ کے تحت حسب ذیل نئی دفعات شامل کر دی جائیں گی، یعنی ۔۔
٣٧٥۔ زنا بالجبر:-
کسی مرد کو زنا بالجبر کا مرتکب کہا جائے گا جو ماسوائے ان مقدمات کے جو بعدازاں مستثنٰی ہوں، کسی عورت کے ساتھ مندرجہ ذیل پانچ حالات میں میں سے کسی میں جماع کرے۔
(اول) اس کی مرضی کے خلاف۔
(دوم) اس کی رضا مندی کے بغیر۔
(سوم) اس کی رضا مندی سے، جبکہ رضا مندی اس کو ہلاک یا ضرر کا خوف دلا کر حاصل کی گئی ہو۔
(چہارم) اس کی مرضی سے جبکہ مرد جانتا ہو کہ وہ اس کے نکاح میں نہیں ہے اور یہ کہ رضا مندی کا اظہار اس وجہ سے کیا گیا ہے کیونکہ وہ یہ باور کرتی ہے کہ مرد وہ دوسرا شخص ہے جس کے ساتھ اس کا نکاح ہونا وہ باور کرتا ہے یا کرتی ہے، یا
(پنجم) اس کی رضا مندی سے یا اس کے بغیر جبکہ وہ سولہ سال سے کم عمر کی ہو۔
تشریح:-
زنا بالجبر کے جرم کے لئے مطلوبہ جماع کے تعین کے لئے دخول کافی ہے۔‘
٣٧٦۔ زناءبالجبر کے لئے سزا:-
(١) جو کوئی زناءبالجبر کا ارتکاب کرتا ہے اسے سزائے موت یا کسی ایک قسم کی سزائے قید جو کم سے کم پانچ سال یا زیادہ سے زیادہ پچیس سال تک ہو سکتی ہے دی جائے گی اور جرمانے کی سزا کا بھی مستوجب ہو گا۔
(٢) جب زناءبالجبر کا ارتکاب دو یا زیادہ اشخاص نے بہ تائید باہمی رضامندی سے کیا ہو تو، ان میں سے ہر ایک شخص کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی۔

٦۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں، بابت بیس میں، حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی یعنی ۔۔
٤٩٣ الف۔ کسی شخص کا فریب سے جائز نکاح کا یقین دلا کر ہم بستری کرنا:-
ہر وہ شخص جو فریب سے کسی عورت کو جس سے جائز طریق پر اس نے نکاح نہ کیا ہو، یہ باور کرائے کہ اس نے اس عورت سے جائز طور پر نکاح کیا ہے اور اسے یقین کے ساتھ ہم بستری پر آمادہ کرے تو اسے پچیس سال تک کے لئے قید سخت دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٧۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں دفعہ ٤٩٦ کے بعد، حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی، یعنی ۔۔
٤٩٦ الف۔ کسی عورت کو مجرمانہ نیت سے ورغلانہ یا نکال کر لے جانا یا روک رکھنا۔
جو کوئی بھی کسی عورت کو اس نیت سے نکال کر لے جائے یا ورغلا کر لے جائے کہ وہ کسی شخص کے ساتھ ناجائز جماع کرے یا کسی عورت کو مذکورہ نیت سے چھپائے یا روک رکھے تو اسے سات سال تک کی مدت کے لئے کسی بھی قسم کی سزائے قید دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٨۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں، دفعہ ٥٠٢ الف کے بعد، حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی، یعنی ۔۔۔
٥٠٢ ب۔ زناءبالجبر کی صورت میں کسی عورت کی شناخت کی تشہیر کرنا:-
اگر کوئی زناءبالجبر کے کسی مقدمے کی تشہیر کرتا ہے جس کے ذریعے کسی عورت یا اس کے خاندان کے کسی فرد کی شناخت کو ظاہر کرے تو اسے چھ ماہ تک کی سزائے قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

٩- ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء میں نئی دفعات کی شمولیت:-
مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں دفعہ ٢٠٣ کے بعد، حسب ذیل نئی دفعات شامل کر دی جائیں گی، یعنی ۔۔۔
٢٠٣ الف ۔ زناء کی صورت میں نالش:-
(١) کوئی عدالت زناء کے جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس، ١٩٧٩ء (نمبر مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ٥ کے تحت کسی جرم کی سماعت نہیں کرے گی ماسوائے اس نالش کے جو کسی اختیار سماعت رکھنے والی مجاز عدالت میں دائر کی جائے۔
(٢) کسی نالش جرم کا اختیار سماعت رکھنے والی عدالت کا افسر صدارت کنندہ فوری طور پر مستغیث زناء کے فعل کے کم از کم چار چشم دید بالغ گواہوں کی حلف پر جرم کے لئے ضروری جانچ پڑتال کرے گا۔
(٣) مستغیث اور عینی گواہوں کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے مواد کو تحریر تک محدود کر دیا جائے گا اور اس پر مستغیث اور عینی گواہوں کے علاوہ عدالت کے افسر صدارت کنندہ کے بھی دستخط ہوں گے۔
(٤) اگر عدالت کے افسر صدارت کنندہ کی یہ رائے ہو کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود ہے تو عدالت ملزم کی اصالتاَََََََ حاضری کے لئے سمن جاری کرے گا۔
(٥) کسی عدالت کا افسر صدارت کنندہ جس کے روپرو نالش دائر کی گئی ہو یا جس کو یہ منتقل کی گئی ہو اگر وہ مستغیث اور چار یا زائد عینی گواہوں کے حلفیہ بیانات کے بعد یہ فیصلہ دے کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود نہیں ہے، نالش کو خارج کر سکے گا اور ایسی صورت میں وہ اس کی وجوہات قلمبند کرے گا۔
٢٠٣ ب قذف کی صورت میں نالش:-
(١) دفعہ ٦ کی ذیلی دفعہ (٢) کے تابع، کوئی عدالت قذف کا جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء) کی ذیلی دفعہ ٧ کے تحت کسی جرم کی سماعت نہیں کرے گی ماسوائے اس نالش کے جو اختیار سماعت رکھنے والی مجاز عدالت میں دائر کی جائے۔
(٢) کسی نالش جرم کا اختیار سماعت رکھنے والی عدالت کا افسر صدارت کنندہ فوری طور پر مستغیث کی قذف کے فعل کے جرم میں ضروری جانچ پڑتال کرے گا۔
(٣) مستغیث کی جانچ پڑتال کے مواد کو تحریر تک محدود کر دیا جائیگا اور اس پر مستغیث کے علاوہ افسر صدارت کنندہ کے بھی دستخط ہوں گے۔
(٤) اگر عدالت کے افسر صدارت کنندہ کی یہ رائے ہو کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود ہے تو عدالت ملزم کی اصالتاَََََََ حاضری کے لئے سمن جاری کرے گا۔
(٥) کسی عدالت کا افسر صدارت کنندہ جس کے روپرو نالش دائر کی گئی ہو یا جس کو یہ منتقل کی گئی ہو اگر وہ مستغیث کے حلفیہ بیانات پر غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ دے کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود نہیں ہے،تو نالش کو خارج کر سکے گا اور ایسی صورت میں وہ اس کی وجوہات قلمبند کرے گا۔

١٠۔ ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء کے جدول دوم کی ترمیم:-
مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں دول دوم میں ۔۔۔

١١۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی نئی دفعہ ٢ کی ترمیم:-
(١) زناء کے جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) میں دفعہ ٢ میں شقات (ج) اور (ہ) حذف کر دی جائیں گی۔

١٢۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٣ کا حذف:-
زناء کا جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس، ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ٣ کو حذف کر دیا جائیگا۔

١٣۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٤ کی ترمیم:-
زناء کا جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء میں دفعہ ٤ میں لفظ ‘جائز طور پر‘ اور مذکورہ دفعہ کے آخر میں تشریح کو حذف کر دیا جائیگا۔

١٤۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعات ٦ اور ٧ کا حذف کرنا:-
زناء کا جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعات ٦ اور ٧ کو حذف کر دیا جائے گا۔