Site icon DUNYA PAKISTAN

وہ مچھلی جس میں انسانی جسم کے زخم بھرنے کی صلاحیت ہے

Share

فرینکی کا آدھا چہرہ غائب تھا۔ میکسیکو سٹی کی آبی گزرگاہوں میں رہنے والے اس ایمفیبیئن (خشکی اور تری پر رہنے والا جانور) کے چہرے پر فنگل انفیکشن ہو گئی تھی۔

لیکن دوسرے ایگزولوٹلز کی طرح فرینکی کے پاس بھی ایک خصوصی ہنر تھا۔ جانوروں کی ڈاکٹر اور ایگزولوٹل پر تحقیق کرنے والی ایرک سیروِن زامورا، جو فرینکی کی دیکھ بھال بھی کرتی تھیں، کہتی ہیں کہ جب انھوں نے تعلیم حاصل کرنے کے دوران اس جانور کی تخلیقِ نو (ری جینیریٹ) کی حیرت انگیز صلاحیتوں کو پڑھا تو وہ دنگ رہ گئیں۔ میکسیکو سٹی کے چاپلٹیپیک کے چڑیا گھر میں فرینکی نے صرف دو ماہ کے دوران بالکل ٹھیک طریقے سے کام کرنے والی ایک نئی آنکھ ’اگا‘ لی تھی اور وہ اپنے پانی کے ٹینک میں نارمل زندگی گذار رہی تھی۔

چڑیا گھر سے صرف 30 کلو میٹر دور اپنے قدرتی مسکن میں فرینکی شاید اتنی خوش قسمت نہ ہوتی۔ یہ ایگزولوٹل اگرچہ میکسیکو سٹی کے نشان یا علامت کے طور پر دلچسپی حاصل کر رہے ہیں، خصوصاً جنوبی علاقے زوچیمیلکو میں، جو کہ یونیسکو کی ایک ثقافتی ورثے کی جگہ ہے، لیکن ساتھ ساتھ ان کو مچھلیوں کی مختلف جارحانہ سپیشیز اور شہر کی نہروں میں آلودگی کی وجہ سے معدومیت کا بھی خطرہ ہے۔ اس پہ سونے پہ سہاگہ یہ کہ فرینکی ایک البینو ایگزولوٹل ہے، جس کے ہلکے گلابی حاشیے دار گلپھڑے تھے جو اس کے سر سے باہر نکلتے تھے، اور یہ ہی اسے آسانی سے زوچیمیلکو کے تاریک اور دھندلے پانیوں میں رہنے والی جارحانہ ٹلیپیا کا شکار بننے کی وجہ بن سکتے تھے۔

مقامی طور پر ’واٹر مونسٹرز‘ کہلائے جانے والے ایگزولوٹلز کی ظاہری وضع اس طرح کی ہے کہ یا تو آپ اس سے پیار کر سکتے ہیں یا پھر دور بھاگ سکتے ہیں۔ کچھ لوگ ان 20 سینٹی میٹر لمبے نرم جلد کے پانی کے باسیوں کو پیارا سمجھتے ہیں جن کے چہرے پر ایک دائمی مسکراہٹ دکھائی دیتی ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ چار ٹانگوں والے ایمفیبیئنز عجیب بے جوڑ سی چیز ہیں۔

ان کی دو مختلف خاصیتوں والی شباہت کے باوجود سائنسدان امید کرتے ہیں کہ فرینکی جیسے ایگزولوٹلز شاید ہمیں انسانی اعضا کی تخلیقِ نو کے متعلق کسی دن کچھ راز بتا سکیں۔

سیروِن زامورا کہتی ہیں کہ ’سائنسدان ایگزولوٹلز کی ری جنریٹیو صلاحیتوں کو ان لوگوں کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں جو ایکسیڈنٹس اور جنگوں میں زخمی ہو چکے ہیں یا بیماری کا شکار وہ لوگ جن کے اعضا ضائع ہو چکے ہیں۔‘

’دوسرے وہ طریقے ڈھونڈ رہے ہیں جن کے ذریعے ایگزولوٹل کی ری جینیریشن کی صلاحیت انسانی اعضا کو فائدہ پہنچا سکتی ہے جیسا کہ دل یا جگر کو صحت مند کرنا وغیرہ۔

ایگزولوٹلز سیروِن زامورا اور دوسرے سائنسدانوں کی کینسر کے خلاف مزاحمت کو سمجھنے میں مدد کر رہے ہیں۔ پانی اور خشکی پر دونوں جگہ رہنے والے سبھی جانوروں میں یہ صلاحیت نظر آتی ہے۔ ’15 سالوں میں میں نے کسی بھی ایگزولوٹل کے اندر مہلک ٹیومر کا کوئی کیس بھی نہیں دیکھا، جو کہ ایک دلچسپ بات ہے۔‘

’ہمیں شبہ ہے کہ ان کی خلیوں اور جسمانی اعضا کو دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت اس سلسلے میں ان کی مدد کرتی ہے۔‘

اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔

روایتی طور پر میکسیکو میں ایگزولوٹلز کو زچگی، کمزوری اور سانس کی بیماریوں سے جڑی حالتوں کا علاج سمجھا جاتا ہے۔ میکسیکو کے علاقے پازکوارو میں راہبائیں قانونی طور پر ایگزولوٹل کی ایک سپیشیز، ایمبسٹوما ڈیومیریلی، کی افزائشِ نسل کرتی ہیں تاکہ اس جانور کو کھانسی کے شربت میں ایک جزو کے طور پر استعمال کیا جائے، اگرچہ روایتی طور پر انھیں شوربے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

دائمی ’ٹین ایجر‘

فرینکی کا تعلق ایمبسٹوما میکسیکانم سپیشیز سے ہے جو کہ میکسیکو میں ایگزولوٹل کی 17 سپیشیز یا اقسام میں سے ایک ہے۔ یہ زیادہ تر میکسیکو، پویابلا اور میچواکان کی ریاستوں میں پائی جاتی ہیں اور ان میں سے اکثر انتہائی معدومیت کا شکار ہیں۔

کچھ سپیشیز اپنی مینڈک کے بچے جیسی دم اور سر سے گلپھڑے ختم کر کے اپنے آپ کو زمین پر چلنے والے سلامینڈر کی طرح بنا لیتی ہیں۔ تاہم اس کا انحصار بھی ماحول پر ہے۔ مثال کے طور پر فرینکی اس طرح کے ماحول میں رہی جہاں اس پر ہر وقت نظر رکھی جاتی، اس لیے اس پر دوسرے جانور حملہ نہیں کرتے اور یہ دائمی ٹین ایجر رہ سکی ہے۔ وہ سلامینڈر کبھی نہیں بنتے، اور اس طرح کے ایگزولوٹلز اپنی وہ دم سلامت رکھتے ہیں جو ان کے لاروا ہونے کے دنوں میں بنی تھی اور یہ مکمل طور پر پانی ہی میں رہتے ہیں۔

سیروِن زامورا کہتی ہیں کہ، دراصل ماحولیاتی مسائل کو دیکھ کر انھیں یہ فیصلہ خود کرنا ہوتا ہے کہ انھوں نے میٹامورفسس مکمل کرنا ہے یا نہیں۔ ’اگر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پانی کے باہر رہنا بہتر ہو گا تو وہ سلامینڈرز بن جائیں گے، لیکن یہ ایک دباؤ والا عمل ہو گا کیونکہ اس دوران وہ کھانا مکمل طور پر چھوڑ دیں گے۔ حالیہ تھیوری یہ ہے کہ ارتقائی وجوہات کی بنا پر ایمبسٹوما میکسیکانم ایک جوینائل حالت میں رہیں گے (جو کہ ٹیڈپول اور سلامینڈر کے درمیان کی چیز ہو گی) کیونکہ پانی میں زیادہ خوراک ہے (جیسا کہ تازہ پانی کی ایک چھوٹی مچھلی چاریلز) اور وہاں پریڈیٹرز یا شکاری بھی کم ہیں، سو باہر نکلنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔‘

اپنی فارم بدلنے کی اس صلاحیت کی وجہ سے ایگزولوٹلز کی ایزٹک (میکسیکا) کاسوگومنی یا نظریائے تخلیق میں بڑی موجودگی ہے۔ ان کو اکثر انڈر ورلڈ کے خدا زولوٹل کی شبیہہ اور پروں والے اور نقصان پہنچانے والے ناگ خدا کویٹزاکواٹل کا جڑواں سمجھا جاتا ہے، جسے اکثر سورج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

جب خداؤں کو کہا گیا کہ دنیا بنانے کے لیے قربانی دیں تو زولوٹل پانی میں بھاگ گیا۔ اس کے ڈرپوک ہونے اور مدد کرنے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے اس کو یہ سزا ملی کہ وہ ہمیشہ پانی میں رہے گا اور دائمی طور پر جوان رہے گا۔ ایزٹیک لوگوں کے لیے موت ایک ماورائی شے ہے، اور چکر مکمل نہ کرنے کا مطلب ہے بادشاہت یا دائرے کی بلندی پر پہنچنے پر پابندی لگنا۔

سیاحوں کی توجہ کا مرکز

ایگزولوٹل کے معدومیت کے خطرے کے باوجود، فرینکی اور ان کے دوستوں کی تصاویر میکسیکو شہر کی دیواروں پر بطور سٹریٹ آرٹ چسپاں ہیں، اور گفٹ شاپس میں روئی دار کپڑے سے بنے تحفوں کے طور پر بھی بک رہے ہیں۔ سنہ 2022 میں جاری ہونے والے 50 پیسو کے نوٹ پر بھی ایمبیسٹوما میکسیکانم ایگزولوٹل کی تصویر ہو گی۔ میکسیکو سٹی کا دورہ کرانے والی سیاحتی ڈبل ڈیکر بسوں کے باہر بھی البینو ایگزولوٹل کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔

برسوں پہلے جب آپ کو ایگزولوٹل کا پتہ چلانا ہوتا تھا تو آپ سیدھے نہروں کا رخ کرتے تھے۔ میکسیکو سٹی ایک بہت بڑی جھیل پر بنایا گیا ایک شہر ہے، جس پر ایزٹیک نہریں اور چائنامپاز یا بہتے ہوئے جزیرے بناتے تھے جو درختوں اور مٹی سے مل کر بنائے جاتے تھے اور خوراک پیدا کرتے تھے۔

اگرچہ جھیلیں اور نہری نظام کا ایک بڑا حصہ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے آہستہ آہستہ ختم ہوتا گیا، لیکن ابھی بھی زوچیملکو کو علاقے میں 183 کلو میٹر لمبی نہریں موجود ہیں اور زوچیملکو کے ایکولوجیکل پارک میں تقریباً 165 ہیکٹرز کے علاقے کی زمین اور پانی کو محفوظ علاقہ قرار دیا گیا ہے۔

لیکن آج کل یہاں آنے والوں کو ایگزولوٹلز کی بجائے نقل مقانی کرنے والے پرندوں کی زیادہ سپیشیز ملیں گی۔ یہ علاقہ ایک مشہور سیاحتی مقام بن چکا ہے اور اپنی رنگ برنگی کشتیوں کی وجہ سے بہت مقبول ہے۔ ان کشتیوں کو ٹراجینیراز کہتے ہیں۔

ماحولیاتی خطرہ

چونکہ ٹراجینیراز بغیر موٹر والی کشیاں ہیں اس لیے ان کا ایگزولوٹلز پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ تاہم چائنامپاز شہر کے سیویج سسٹم سے نہیں جڑے ہوتے اس لیے فضلہ اکثر نہروں میں ہی آ جاتا ہے۔ ان امفیبیئنز کے لیے دوسرے خطروں میں شامل غیر مقامی پودوں کی جلدی نشونما، سجاوٹ کے لیے لگائے جانے والے پانی کے پودے، صنعتی کھاد سے ہونے والی آلودگی اور کارپ اور تیلیپیا جیسی حملہ آور سپیشیز ہیں جنھیں 1970 کی دہائی میں حکومت نے سابق دیہی علاقے کی خوراک کی سپلائی کے لیے متعارف کرایا تھا۔ سیروِن زامورا کہتی ہیں کہ خوراک کے حوالے سے نیت تو اچھی تھی لیکن یہ بالکل نہیں سوچا گیا تھا کہ کارپ اور تیلیپیا ان نوجوان ایگزولوٹلز کو کھا جائیں گی۔

وہ کہتی ہیں کہ زوچیمیلیکو کو صرف ماحولیاتی مسائل کا ہی سامنا نہیں بلکہ سماجی مسائل کا بھی ہے۔ لوگ اپنے چائنامپاز یا ایکو ٹور ازم سے اتنے پیسے نہیں کما پاتے، سو وہ اپنے چائنامپاز کی زمین پر گھر بنا لیتے ہیں اور اس لیے ان علاقوں میں شہر بننے کا عمل تیز ہو رہا ہے۔ بدقسمتی سے ان تمام گھروں سے خارج ہونے والا فضلہ سیدھا نہروں میں جاتا ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ آلودگی پیدا ہو گئی ہے۔

سنہ 2017 میں نینشل آٹونومس یونیورسٹی آف میکسیکو (یو این اے ایم) نے نہروں پر ایک تحقیق کی تھی۔ اگرچہ اس کے نتائج کا ابھی بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، لیکن اس میں یہ سامنے آیا تھا کہ زوچیمیلکو کے ان علاقوں میں جہاں شہری آبادی زیادہ ہو رہی ہے وہاں پانی میں آلودگی بہت زیادہ ہے۔

سیروِن زامورا کہتی ہیں کہ ابھی بھی ان علاقوں کے بچ جانے کی امید ہے جہاں ذراعت ہوتی ہے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہونے والی آلودگی کا وہاں ممکنہ طور پر کم اثر ہو گا۔ ’اگر ہم تعلیم، تحقیق اور علاقے میں براہ راست کام کرنے کو ترجیح دیں تو ہم اسے بچا سکتے ہیں، اگرچہ چاہے یہ ایک حصہ بھی ہو۔‘ تاہم یونیورسٹی کی اس تحقیق میں زوچیمیلکو کے جنگلی علاقے میں صرف ایک زندہ ایگزولوٹل پایا گیا۔

ایگزولوٹلز کو بچانا ہے!

آج کل زیادہ ایگزولوٹلز کیپٹیویٹی یا محفوظ ماحول میں رہتے ہیں۔ یانین کارباجال کاسا ڈیل ایگزولوٹل کی شریک بانی ہیں۔ یہ ایک میوزیم اور ایکویریئم ہے جو عوام کو ایگزولوٹلز کے متعلق آگاہی دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ پویوبلا کے شہر چگناہواپان میں واقع ہے۔ یانین کارباجال نے یہ پراجیکٹ کئی سال پہلے اپنی خاندانی رینچ میں افزائش کے تلابوں میں شروع کیا تھا جو سیارا مادرے اوریئنٹل پہاڑوں میں واقع ہے۔ ایک سال پہلے شہر میں کھلنے والے میوزیم میں چار مختلف سپیشیز کے 15 سے لے کر 20 تک ایگزولوٹلز موجود ہیں۔

کارباجال کہتی ہیں کہ وہ ایگزولوٹلز کی دیکھ بھال کے لیے متحرک ان کے میکسیکو کے کولمبیا کے پہلے کی تاریخ سے مظبوط تعلق کو دیکھ کر ہوئیں۔ تاہم وہ ممکنہ ایگزولوٹل کو پالتو جانور کے طور پر پالنے والوں کو کہتی ہیں کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اگرچہ انھیں دنیا کے دوسرے ممالک میں پالتو جانور کے طور پر نہیں رکھا جا سکتا لیکن میکسیکو میں انھیں اس نرسری سے لینا جائز ہے جس کی منظوری ماحولیات کے سیکریٹری نے دی ہوتی ہے۔

کارباجال کہتی ہیں ’لاعلمی ایک بڑا مسئلہ ہے، لوگ ان کو جنگل سے لا کر پالتو جانور بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ کیسز میں انہیں آگے بیچ دیتے ہیں۔ اگر لوگ ان کی افزائشِ نسل کریں تو یہ مثبت ہو گا۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو اس سے سپیشیز کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ کیونکہ یہ کھڑے پانی کی جھیلوں اور ساحلی جھیلوں میں رہتے ہیں جہاں درجہ حرارت اتنی تیزی سے نہیں بدلتا جتنی تیزی سے کیپٹیویٹی میں بدل سکتا ہے (اس لیے کیپٹیویٹی میں رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے)۔

میکسیکو سٹی میں ایسی کچھ جگہیں ہیں جہاں کیپٹیویٹی میں ایگزولوٹلز کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں چاپولٹیپیک کا چڑیا گھر، ’زولوجیکو لاس کویوٹیز‘ اور ٹور آپریٹرز کا صدر دفتر ایگزولوٹِٹلان اور امبرال ایگزوشیاٹل بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں زوچیمیلیکو میں واقع ہیں۔

پامیلا ویلینشیا ایگزولوٹِٹلان کی بانی ہیں۔ یہ میکسیکو سٹی میں مقیم ایک آپریٹر ہے جو مقامی لوگوں اور سیاحوں کو زوچیمیلیکو کے حساس ایکو سسٹم کے متعلق آگاہ کرتا ہے۔ یہ تعلیم مقامی چائنامپیروز کے تعاون سے ایکولوجیکل پارکس کے ٹورز کی شکل میں دی جاتی ہے۔

ویلینشیا کہتی ہیں کہ ’میکسیکو میں ایگزولوٹل ایک تھیم ہیں جس کا تعلق سیاست، سماج، ذرائع کے استعمال، ماحولیاتی اور سسٹمائزڈ تعلیم سے ہے۔ یہ ایک ایسا مضمون ہے جو معاشرے کی سبھی سرخیوں کو کسی نہ کسی طریقے سے چھوتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ایگزولوٹل ہمارے شہر، ملک اور شاید دنیا کو بچانے کا خفیہ راز ہے۔ یہ ناقابلِ یقین حد تک ایک ایسا اہم جانور ہے جو لوگوں کے دل میں یہ بات ڈال سکتا ہے کہ وہ ایسی چیزیں نہ کریں جو وہ بطور سماج ایک لمبے عرصے سے کر رہے ہیں، اور بہت طریقوں سے بہتر بھی کر سکتے ہیں۔‘

ڈیونسیو ایسلاوا امبرال ایگزوشیاٹل کے صدر ہیں جو ایگزولوٹِٹلان کے ساتھ مل کے ٹور آپریٹ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مرکزی میکسیکو سٹی اور جنوب کے کسانوں کے درمیان حائل جغرافیائی، ثقافتی، اور سماجی اور معاشی خلیج کو کم کرنا زون صاف کرنے میں مدد کا ایک طریقہ ہے، جس سے ایگزولوٹلز کو بھی علاقے میں واپس آنے میں مدد ملے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایکوسسٹمز حفاظت کی ایک قسم ہے، نہ صرف خوراک بلکہ پانی کے لیے بھی، آکسیجن کے لیے اور آب و ہوا کی تبدیلی کا سامنا کرنے کے لیے یہ ایک اتحادی بھی ہے۔ بڑے شہروں کو ہمارے ایکوسسٹمز کی حمایت کرنی چاہیئے۔‘

نا صرف یہ چھوٹا اور اکثر نظر انداز کیا جانے والا جانور زمین کی حفاظت کرنے میں ہمیں گائیڈ کرے گا، بلکہ اس کے پاس ممکنہ طور پر مختلف سائنسی رازوں سے پردہ اٹھانے کی چابی بھی ہے۔

فرینکی تقریباً آٹھ سال زندہ رہا اور 2010 میں چاپولٹیپیک کے چڑیا گھر میں قدرتی موت مر گیا۔ کیپیٹیوٹی میں رکھے ہوئے ایگزولوٹلز 12 یا اس سے زیادہ بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ سیروِن زامورا کے دل میں اس کے لیے خاص مقام ہے کیونکہ وہ ان پہلے ایگزولوٹلز میں سے ایک تھا جن کے ساتھ زامورا نے کام کیا تھا۔ انھوں نے اس سے بہت کچھ سیکھا۔ امید ہے کہ باقی دنیا بھی اس سے کچھ سیکھے گی۔

Exit mobile version