سلام،ٹریفک وارڈن

khawaja mazhar nawaz

یہ کوئی سینہ بہ سینہ سنی سنائی کوئی سنسنی پھیلاتی،انہونی اور دل چسپی سے بھری کسی دیو یا پری کی طلسماتی کہانی نہیں، اور نہ ہی صدیوں پرانا کوئی من گھڑت قصہ ہے. جس کا دور دور تک حقیقت سے واسطہ ہی نہ ہو. بلکہ یہ گذشتہ روز ہمارے شہر ملتان کے ایک گنجان آباد علاقے میں پیش آنے والا اور حیران کرتا ایک بلکل سچا واقعہ ہے. جس نے ہمیں تو چونکا دیا ہے. ضرور آپ بھی چونک جائیں گے کہ ابھی ایسے فرشتہ صفت لوگ موجود ہیں. بہرحال یہ ایک دلچسپ قصہ ضرور ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے میں نے تحریر کیا ہے.
قصہ یہ ہے کہ ملتان کے ایک نوجوان ٹریفک وارڈن نے دوران ڈیوٹی سڑک پر ایک تیز رفتار موٹر بائیک سے بھاری بھر کم تھیلا گرتے دیکھا تھا. وہ فوری طور پر آگے بڑھا، تھیلا اٹھایا اور کھولا، تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا، کہ تھیلے میں بارہ لاکھ روپے کی خطیر رقم تھی. چونکہ اسے یہ رقم سڑک پر پڑی ملی تھی. تو اس نے اسی وقت ارادہ کر لیا کہ وہ یہ رقم اس کے مالک تک پہنچا کر ہی دم لے گا. اس نے دل ہی دل میں اس کار خیر کے لئے اللہ سے مدد بھی طلب کی تھی. خدا ضرور اس کی مدد کرتا ہے. جو اپنی مدد آپ کرتا ہے.
پورا قصہ پڑھنے کے بعد آپ تسلیم کریں گے کہ خدا نے اس وارڈن کے ارادے اور عمل میں خیر رکھ دی تھی. ویسے بھی یہ قانون قدرت بھی ہے کہ اللہ تعالی نیک ارادوں کو ضرور پورا کرتا ہے. بندہ رب سے جو گمان کرتا ہے رب ویسا کر دیتا ہے.
شکر خدا کا کہ اس نے جس بائیک سے تھیلا گرتے دیکھا تھا.عین اسی وقت اس موٹر بائیک کا نمبر بھی ذہن نشین کر لیا تھا. وہ تھیلا لے کر جلدی جلدی رجسٹریشن آفس گیا اور اس نے مطلوبہ نمبر کی بائیک کے مالک کا نام اور پتہ ڈھونڈنے کی کوشش میں لگ گیا. اس عمل میں بہت مختصر وقت میں وہ کامیاب ہو گیا. اگلے مرحلے میں اس نے مالک کی تلاش ملنے والے پتے کے مطابق شروع کردی. اسے زیادہ خجل و خوار بھی نہ ہونا پراٹھا. کچھ تگ و دو کے بعد وہ رقم لے کر مالک تک پہنچ گیا..
ادھر دوسری طرف بائیک والا شخص اپنی رقم گر جانے پر بہت حد تک مایوس ہو چکا تھا. اسے رقم مل جانے کی کوئی امید نہ تھی. لوگ سڑک پر پڑے دس روپے نہیں چھوڑتے، لیکن یہ تو بارہ لاکھ روپے تھے. ایماندار وارڈن کی نیت اور ارادے میں ذرا بھی فرق نہ آیا. اس نے ایک لمحے کو بھی نہ سوچا تھا کہ وہ یہ رقم گھر لے جائے اور اپنی ادھوری خواہشات کو پورا کرے. کچھ دن اس سڑک پر سے ملنے والے روپوں سے عیش کرے. جب انسان میں خدا خوفی اور آخرت میں خدا کے سامنے جواب دہی کا ڈر ہو تو وہ بے ایمانی کی بجائے ایماندار کو اختیار کرتا ہے. وہ برائی کو غالب نہیں آنے دیتا. بلکہ اس کے مقابل وہ اچھائی اور نیکی کا انتخاب کرتا ہے . کیسا نیک سیرت وارڈن تھا. جس نے اللہ کی رضا کے لئے فیصلہ کیا تھا کہ مجھے یہ رقم اس کے اصل اور حقیقی مالک کو دینی ہے. نیکی اور بدی کے درمیان واقعی ایک قدم کا فاصلہ ہوتا ہے. ایک ایماندار ٹریفک وارڈن کی دیانتداری نے یہ گم شدہ رقم اس کے حقیقی مالک کو واپس دلوائی تھی. شروع میں مجھے ایمانداری کے اس واقعہ پر یقین نہ آیا. اس واقعہ کی تحقیق کے لئے آر. پی. او ملتان طارق مسعود یاسین سے رابطہ کیا. انہوں نے بتایا کہ یہ حقیقت ہے اور اس ٹریفک وارڈن کا نام فہد حیات ہے. وارڈن فہد حیات کو اس انوکھے، مثالی اور تاریخی کردار پر دو لاکھ روپے انعام میں دیئے گئے ہیں. جو اس عظیم الشان کارنامے کا کسی طور بدل نہیں. مگر وہ وارڈن آج اپنے امتحان میں سرخرو ہوا ہے. آج اس کا پورا ادارہ اس کے اس عمل پر فخر کر رہا ہے.
معلوم ہوا کہ دنیا میں آج بھی ایماندار افراد کی کوئی کمی نہیں. ہم خوامخواہ پورے معاشرے کو کوس کوس کر، برا کہہ کہہ کر اپنے تئیں اپنے اپنے حلق خشک کرتے رہتے ہیں. چاہے کچھ بھی ہو، بھلے افراد اپنے اچھے کردار، اپنی اچھائیوں اور خوبیوں کے ساتھ آج بھی زندہ ہیں. اور یہ کردار کہانیوں میں نہیں بلکہ حقیقی زندگی میں چلتے پھرتے، جیتے جاگتے ہمیں نظر آتے ہیں. میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ایماندارانہ اقدار سے ہمارا یہ معاشرہ کلی طور بانجھ نہیں ہوا. اچھے لوگوں کی اب بھی کسی طرح کمی نہیں ہے. اب دیکھئے ناں کہ فہد حیات کے اس کارنامے کو تمام اداروں کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں سراہا خوب سراہا گیا ہے.
حرف آخر یہ ہے کہ نیکی و خیرخواہی کے اس شاندار جذبے و مظاہرے کی جس قدر تحسین کی جائے کم ہے.

سلام،ٹریفک وارڈن” پر ایک تبصرہ

  • مارچ 4, 2016 at 9:03 AM
    Permalink

    ماشااللہ کیا کہنے اللہ اس نیک بندے کو اور بھی اجر دے

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *