راقم الحروف سے سیاستدانوں کےناموں تک

A_U_Qasmi_convertedعطاء الحق قاسمی

کسی زمانے میں، میں اپنا نام ’’پیرزادہ محمد عطا الحق قاسمی امرتسری ایم اے‘‘ لکھا کرتا تھا جبکہ والد محترم مجھے ’’عطا الحق‘‘کہہ کر پکارتے او ر جون ایلیا ’’اُلحق‘‘ کہتا تھا۔ گھر میں میرا نِک نیم ’’شہزادہ‘‘تھا۔ سب سے پہلا اعتراض لفظ ’’پیرزادہ‘‘ پر ہوا۔ ایک ماہر اقبالیات نے کہا ’’تم نے پنجاب کے پیرزادوں کے حوالے سےاقبالؒ کی لکھی ہوئی نظم نہیں پڑھی؟تم اچھے عاشق اقبالؒ ہو کہ پھربھی اپنے نام کےساتھ ’’پیرزادہ‘ ‘ لکھتے ہو۔‘ ‘ میں نےجواب دیا ’’میں پنجاب کا نہیں کشمیر کاپیرزادہ ہوں۔‘‘ اس نے جواب میں وہی بات کہی جوبلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی نےکہی تھی یعنی ’’کیا فرق پڑتا ہے۔ پیرزادہ تو پیرزادہ ہی ہوتاہے‘‘ چنانچہ میں نے اپنے نام کے ساتھ پیرزا دہ لکھنا چھوڑدیا۔ دوسرا ا عتراض یہ ہوا کہ تمہارا نام اخبار میں چھپتا ہے جو اگلے روز ردّی میں چلا جاتا ہے اور اس میں پکوڑے باندھ کر بیچے جاتے ہیں جس سے مقدس لفظوں کی توہین کاپہلو نکلتاہے چنانچہ میں نے اپنا نام صرف ’’عطا الحق قاسمی امرتسری ایم اے‘‘ لکھنا شروع کردیا۔ اس پر ایک امرتسری نے اعتراض جڑ دیا۔ اس نے کہا کہ تم امرتسر کے ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ امرتسری خود کو ’’امبرسری‘‘ کہتا ہے جبکہ تم امرتسری کہلاتے ہو۔ میں نے امرتسری اور امبرسری کی بحث میں پڑنے کی بجائے صرف ’’عطا الحق قاسمی ایم اے‘‘ پر اکتفا کرنا شروع کردیا۔ مگر اس پر ایک بہت جینوئن اعتراض ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنے نام کے ساتھ ایم اے لکھتا ہے تو اسے پڑھا لکھا بھی لگنا چاہئے مگر تم اپنے شعرو ں میں خود اقرار کرتے ہو کہ:
ہمیں تو اپنے ماجھے گامے اچھے لگتے ہیں
سو میں نے ایم اے لکھنا بھی ترک کردیا۔ اس کے بعد میں صرف ’’عطا الحق قاسمی‘‘ رہ گیا۔ اعتراض کرنے والے تو اب بھی باز نہیں آتے مگر میں نے سوچا:
ہم کہاں تک تیرے پہلو سے سرکتے جاویں
سو میں ڈھیٹ بن گیا اور اب میں عطا الحق قاسمی ہوں۔ اس پر بھی اگر کوئی کچھ کہتا ہے تو وہ کہتا رہے۔ مجھے تو اگر کوئی ڈر ہے تو صرف یہ کہ میری بہنیں جو مجھے ابھی تک ’’شہزادہ‘‘ہی کہتی ہیں کہیں کسی روز وہ بھی میرے اس نک نیم پر اعتراض نہ کریں کہ اب تمہاری عمر ’’شہزادہ‘‘ کہلانے کی نہیں رہی مگراس کا جواب میرے پاس موجود ہے اور وہ یہ کہ اگر ابھی تک برطانیہ کا چارلس ’’شہزادہ چارلس‘‘ کہلا سکتا ہے اور کوئین الزبتھ کو اس پر کوئی تر س نہیں آتا، تو مجھے امید ہے کہ میرے شہزادہ کہلانے پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہوگا!
کچھ اسی قسم کی صورتحال بعض دوسرے افرادکو بھی درپیش ہے جن میں ایک میاں شہباز شریف بھی شامل ہیں۔ وہ اپنے نام کے ساتھ اگرچہ ’’میاں‘‘ نہیں لکھتے لیکن یہ ان کی خوش نصیبی ہے کہ انہیں ’’میاں‘‘ کہنے والے تو کیا ’’میاں‘‘ سمجھنے والے بھی موجود ہیں۔ میاں صاحب پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں۔ کروڑو ں اربوںکے مالک ہیں۔ وہ بآسانی خود کو شہزادہ کہلا سکتے ہیں اور صرف کہلا نہیں سکتے بلکہ شہزادوں جیسی زندگی بھی بسر کرسکتے ہیں مگر انہیں شاہوں اور شہزادوں سے نفرت ہے۔ وہ وزیراعلیٰ بھی نہیں کہلاتے، خود کو خادم پنجاب کہلانا پسند کرتے ہیں مگر چونکہ ’’خادم پنجاب‘‘ بہت سے ہیں لہٰذا کچھ لوگوں نے ازخود انہیں خادم اعلیٰ قرار دے ڈالا ہے کہ پنجاب کے لئے ان کی خدمات سب سے زیادہ ہیں تاہم جہاں تک ان کے رہن سہن کا تعلق ہے میں نے ن کا جاتی عمرہ کے گھر کابیڈروم دیکھا ہے۔ ان کےاس بیڈروم اور ان کے ڈرائیور کے بیڈروم میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے اگر فرق ہوگا تو صرف اتنا کہ سردیوں میں شہباز شریف کے اس بیڈروم میں سنگل راڈ کا ہیٹر جلتا ہے اور ان کے ڈرائیور کے بیڈ روم میں ڈبل راڈ کا ہیٹر ہوگا۔ یہ وہ شخص ہے جس نے پنجاب کے غریب عوام کے لئے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے بلکہ اب وہ پاکستان بھر کے لوگوں کے لئے توانائی کی فراہمی میں لگا ہوا ہے جس کے بغیر نہ ہمارے چولہے جل سکتے ہیں، نہ گرمیوں میں ہمارا پسینہ خشک ہوسکتا ہے اور نہ ہمارے کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں اٹھ سکتا ہے۔ وہ صرف پنجاب نہیں بلکہ اپنے قائد میاں محمد نوازشریف کی قیادت میں پورے پاکستان کے درو دیوار اور پاکستانیوں کے دل روشن دیکھنا چاہتا ہے۔ ویسے میاں صاحب جس طرح کی غریبانہ زندگی گزارتے ہیں مجھے پسند نہیں اگر انسان کے پاس پیسہ ہو تو اسے خود پر اور دوسروں پر کھل کر خرچ کرنا چاہئے۔ شہباز شریف دوسرں پر تو خرچ کرتے ہیں مگر اپنی ذات پر خرچ نہیں کرتے۔ ان کے مقابلے میںمجھے نوازشریف کا رہن سہن پسندہے میرے بس میں ہو تو میں بھی اسی طرح رہوں۔ اس مسئلے پر شہباز صاحب سے جدہ میں میری بحثیں ہوتی رہی ہیں بہرحال میری تجویزیہ ہے کہ شہباز شریف کو اپنے نام کے ساتھ خادم وغیرہ نہیں لکھنا چاہئے بلکہ اپنے انقلابی خیالات کےباعث ان کے لئے موزوں ترین لفظ اب ’’کامریڈ‘‘ ہی ہے!
اور ہا ں یاد آیا گزشتہ دنوں کامریڈ شہبازشریف نے توانائی کے بحران کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ وہ یہ بحران ختم کرنے کے لئے اپنی جان لڑا دیں گے بلکہ اس کے لئے انہیں اگر اپنا کوٹ بھی بیچنا پڑا تو وہ بیچ دیں گے۔ توانائی کا بحران ختم کرنے کے لئے اربوں کھربوں روپوں کی ضرورت ہے اس کا کچھ حصہ شہبازشریف کے کوٹ کی فروخت سے پورا ہو جائے گا۔ کم از کم ڈھائی سو روپے تو کہیں نہیں گئے ہوئے۔ تحریک انصاف کے میاں محمودالرشید نے ان کا کوٹ خریدنے کی پیش کش کی ہے۔ کامریڈشہبازشریف ان کے جھانسے میں نہ آئیں کہ وہ تو کروڑوں کی پراپرٹی کا مول ہزاروں میں لگانے والوں میں سے ہیں۔ وہ کہیں ان کے کوٹ کی بھی بے قدری نہ کردیں۔
میں نے جہاں اپنے اور شہباز شریف کے ناموں میں کچھ ’’غیر آئینی ترامیم‘‘ کی ہیں وہاں میاں نواز شریف کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے نام پر نظرثانی کریں مثلاً’’میاں‘‘ تو انہیں صرف ہماری بھابھی محترمہ کلثوم نواز ہی کہتی ہیں لہٰذا ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ ’’نوازشریف‘‘ ہی کہلائیں بلکہ ان کی دلنوازی بہت مشہور ہے چنانچہ اگر وہ اپنا نام بدلنے پرراضی ہوں تو میرے خیال میں ان کے لئے ’’دل نوازشریف‘‘ زیادہ بہتر نام ہے! ان کی ’’پاکستانیت‘‘ کا بھی بہت شہرہ ہے چنانچہ وہ ’’دل نوازشریف پاکستانی‘‘ بھی کہلاسکتے ہیں آخر ہم لوگ اپنے ناموں کے ساتھ سندھی، بلوچی اور خان وغیرہ بھی تو لگاتے ہیں۔ خان سے یاد آیا کہ عمران خان ان کے صوبے کے حالات اچھے نہیں جارہے جبکہ وہ اپنے بیانات سے بہت زیادہ ’’خان‘‘ لگتے ہیں لہٰذا اگر انہوں نے اپنے صوبے کے حالات ٹھیک کرنا ہیں تو وہ اگر چاہیں تو انہیں ’’عمران خان خاناں‘‘ بننا پڑے گا! اسی طرح مولانا فضل الرحمٰن مولانا فضل ربّی بھی کہلائیںتو کوئی حرج نہیں۔ بلوچستان کے چیف منسٹر ڈاکٹر عبدالمالک کی عوام دوستی اس امر کی متقاضی ہے کہ وہ ڈاکٹر عبدالمالک کی بجائے کامریڈ عبدالمالک کہلانا شروع کردیں البتہ بلاول بھٹو زرداری کو اپنا نام مختصر کرنے کی ضرورت ہے وہ اپنے نام کے آخر میں سے زرداری نکال باہر کریں۔ وہ بلاول بھٹو ہی ٹھیک ہیں۔ اگر اس پر کسی کو اعتراض ہے تو وہ ان کی تقریروںکی ڈی وی ڈی منگوا کر دیکھ سکتا ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *