طالبان کی اسلامی امارت کے خدوخال

Irfan Hussainعرفان حسین

ایسا لگتا ہے کہ طالبان اُس ریڈیو سے اپنا پیغام نشرکررہے ہیں جس کی فریکوینسی پر زیادہ تر پاکستانیوں کے ریڈیو نہیں ملائے گئے لیکن اس کے باوجود وہ ان کا پیغام واشگاف الفاظ میں سن رہے ہیں... ہمارا نظامِ شریعت اپنالو ، ورنہ!طالبان کے پیغام کا قابلِ سماعت حصہ یہی ہے، تاہم وہ دنیاوی زندگی کی ترقی اور اس میں کامیابی و کامرانی کا وعدہ اُس طرح نہیں کرتے جیسا کہ ان کے بزرگوں کیا کرتے تھے کیونکہ یہ وہ بھی جان گئے ہیں کہ ان کے شرعی نظام میں ایسا کوئی مغالطہ نہیں۔ ہم ان کی حکومت کے دور میں افغانستان میں دیکھ چکے ہیں وہاں رائج حکومت، یا اس کے نام پر جوکچھ بھی قائم تھی... امارت یا خلافت... میں ہم زندگی کا ایک دن بھی بسر نہیں کرسکتے۔
طالبان کی تازہ ترین لہورنگ سفاکیت، جس میں تئیس جوانوں کے گلے خنجر سے کاٹے گئے، کے باوجود نواز شریف پنجاب کو ان کے غضب سے بچانے پر تلے ہوئے ہیں چا ہے دھشت گرد کتنے ہی پاکستانیوں کو بہیمانہ طریقے سے ہلاک کیوں نہ کردیں۔ چنانچہ کراچی، فاٹا، پشاور اور ملک کے دیگر حصوں میں دھشت گردی کی کاروائیاں جاری ہیں لیکن وزیرِ اعظم کی سیاست کے مرکز میں اس بھونچال کا ارتعاش محسوس نہیں ہوتا۔ جب راولپنڈی میں حملہ ہوا تو فوج اور ائیرفورس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے شمالی وزیرستان میں درجنوں دھشت گردوں کو ہلاک کردیا۔جب ہم ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ ان جنونیوں کے سامنے سرنڈر کرتے چلے جارہے ہیں(ردِ عمل میں کیے گئے وقتاً فوقتاً حملوں سے ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوگا)تو ہمارے سامنے اس زندگی کا نقشہ واضح ہونا چاہیے جو ہمیں طالبان کے نظام کے تحت بسر کرنا پڑے گی۔ ہو سکتا ہے کہ طالبان کو اپنی شریعت صرف اپنے مفتوحہ علاقوں، فاٹا، میں ہی نافذ کرنے کی اجازت ملے لیکن کوئی دیوانہ ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ صرف ان علاقوں تک ہی محدود رہیں گے۔ دراصل وہ فاٹا کو اپنا مضبوط ٹھکانہ بنا کر ملک کے دیگر حصوں کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ اس کی مثال ہم سوات میں دیکھ سکتے ہیں کہ جب اُس وقت کی حکومت نے وہ جنت نظیر وادی ان گلا کاٹنے والے انتہا پسندوں کو تھالی میں رکھ کر پیش کردی تو اُنھوں نے وقت ضائع کیے بغیر پیش قدمی شروع کردی یہاں تک کہ دارلحکومت ان سے صرف ساتھ کلو میٹر دور رہ گیا۔پانی سر سے گزرنے کے بعد کاروائی کرنے کی ہماری روایت دم توڑتی دکھائی نہیں دیتی ... اس دنیا میں کچھ چیزیں فانی نہیں بھی ہوتیں، چنانچہ مجبور ی ہے۔
ریاست کو جس مسلے کا سامنے ہے اس میں ایک طرف تو اپنی دقیانوسیت کو ہم پر مسلط کرنے پر تلا ہوااسلحہ بردار دشمن تو دوسری طرف سراسیمگی اور کنفیوژن کا شکار کمزور حکومتیں۔ ٹیکس چور ، قرض نادہندگان، بدعنوان سیاست دان ہوں یا قوم کو فرقہ واریت کے خونی عفریت کی بھینٹ چڑھان والے ملا، ہر عیار طبع صیاد کا دام من پسند شرعی نظام سے ہی مزّین ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں ، بقول غالب ...’’بک جاتے ہیں ہم آپ متاعِ سخن کے ساتھ۔‘‘ اس نظام کی حقیقت کیا ہے؟ اس کی تفہیم زیادہ مشکل نہییں کیونکہ طالبان کے ایک ترجمان کے مطابق ’’اسلامی امارت پاکستان ‘‘ کے امیر کے لیے ملا فضل اﷲ موزوں امیدوار ہے اور ملا فضل اﷲ کو سب جانتے ہیں کہ جب وہ ’’والئ سوات ‘‘ تھا تو اس خنجر بردار ہاتھ سے کیسا کیسا فوری انصاف ہوتا تھا اور اس نظام کے سربریدہ عملی نمونے کس طرح درختوں کے ساتھ الٹے لٹکے ہوتے تھے۔ چنانچہ حکومت کی مذاکراتی کوششوں کے نتیجے میں جب طالبان کی حکومت، معاف کیجیے امارت، قائم ہوگئی تو عوامی مقامات پر کوڑے مارنے اور انسانوں کو لٹا لٹا کرذبع کرنے رسم من پسند تفریح کا درجہ حاصل کرلے گی۔ کالعدم تحریکِ طالبان ملالہ یوسفزئی پر فائرنگ کر کے اپنی ’’تعلیمی پالیسی ‘‘ پہلے ہی واضح کرچکی اور قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخواہ میں سینکڑوں سکولوں کی تباہی کے بعد اگر کسی کو مزید انکوائری درکار ہو تو بات کرکے دیکھ لے کیونکہ اس فانی زندگی میں مغالطے دورہوجانے چاہییں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ مسلّم کہ طالبان نے اس ضمن میں کبھی بھی ابہام نہیں پھیلایا ۔ وہ واشگاف انداز میں کہتے رہے ہیں کہ وہ صرف اپنے مدرسوں میں ہی تعلیم کی اجازت دیں گے اور نصاب ان کا ہی تجوید کردہ ہوگا۔ اُس ’’ تحصیلِ علم‘‘ کے بعد جو جادہِ زیست ہمارا منتظر ہوگا، وہ سب جانتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اعلیٰ ترین عہدہ خود کش جیکٹ پہننے والے کوہی ملتا ہے۔
جہاں تک طالبان کی معاشی پالیسی کا تعلق تو اُنھوں نے فی الحال اس کو مخفی رکھا ہوا ہے لیکن چونکہ ان کے شرعی نظام میں سود کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی ، اس لیے وہ ملک پر واجب الاادا تمام غیرملکی قرضے واپس کرنے سے انکار کردیں گے۔ اس کے نتیجے میں مالیاتی ادارے مستقبل میں نہ صرف قرضے کی سہولت واپس لے لیں گے بلکہ ہماری درآمد برآمد کا عمل بھی معطل ہوجائے گا۔ اس سے ملک میں ایک مالیاتی بحران پیدا ہوگا، صنعتی سرگرمیاں رک جائیں گی اور لوگ بیروزگار ہوکر جوق در جوق جہادی گروہ میں شامل ہوجائیں گے۔ خارجہ پالیسی استوار کرنے کی پہلی اور آخری شرط دوسرے ملک کا ’’ اچھے مسلمان ‘‘ کی شرط پر پورا اترنا ہوگا ، اور طالبان اور ان کے بہی خواہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’اچھائی ‘‘ کے اس معیار پر کون کون پورا اترتا ہے۔ ٹخنوں سے اوپر شلوار چڑھائے باریش فوج بھارت پر چڑھائی کے لیے تیار ہوگی جب کہ اسپِ تازی پر سوار شمشیر بکف زاہد حامد اسلام کا پرچم لہراتے، نعرے لگاتے دہلی کے لال قلعے کی طرف رواں دواں ہوں گے...گڈ لک۔
نرم الفاظ میں بتایا جائے گا کہ خواتین کا اصل مقام گھرہے اور اس کومان لینے میں ہی عافیت ہوگی۔ اس لیے بیک جنبشِ قلم ملک بھر میں محنت مزدوری کرتے ہوئے اپنے بچوں اور اہلِ خانہ کا پیٹ پالنے والی عورتیں کام چھوڑ کر گھرکی چار دیوار میں قید ہوجائیں گے۔ وہ صرف برقع پہن کر کسی محرم کی موجودگی میں ہی گھر سے باہر آسکیں گی۔ وہ کسی مرد ڈاکٹر سے علاج نہیں کرسکیں گی...خواتین ڈاکٹر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ طالبان لڑکیوں کی جدید تعلیم کے خلاف ہیں۔ اگر کسی عورت کے جسم کا ایک انچ بھی برہنہ دکھائی دے گیا تو کوئی بھی ’’طالب‘‘ اسے درّے مارسکے گا... اور یہ مبالغہ آرائی نہیں کیونکہ افغانستان میں ایسا ہی ہوتا تھا۔
عدم برداشت کوبرداشت کرنے اور دیگر ممالک میں جہادی دستوں کی روانگی سے چشم پوشی کرتے ہوئے پاکستان پہلے ہی قوموں کی برادری سے دور ہورہا ہے، چنانچہ اُس وقت کا تصور کریں جب تمام دنیا پاکستان کا سبز پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے اپنے دروازے بند کردی گی۔ اگر ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ دنیا ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ کر آگے بڑھ جائے گی تو ہماری بھول ہے کیونکہ ایٹمی ہتھیار طالبان کے ہاتھ لگ جانے کا تصور بھی عالمی برادری کے لیے ایک بھیانک خواب سے کم نہیں، اس لیے دنیا انسانیت کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے ہمارے ساتھ کچھ بھی کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ کئی سالوں سے ہمارے ٹی وی اسٹوڈیوز میں یہ سدابہار موضوع رہا ہے کہ امریکہ ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کو ’’بے اثر ‘‘ کرنا چاہتا ہے۔ یہ خدشہ سچ ثابت ہوجائے گا اگر طالبان ریاست کا کنٹرول سنبھالتے دکھائی دیے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر یہ خدشات حقیقت روپ دھارے تو بہت خون خرابا ہوگا لیکن مجھے یقین ہے کہ باقی دنیا کو اس پر کوئی تاسف نہیں ہوگا کیونکہ ہم جان بوجھ کر اس اندھے کنویں میں گرنے جارہے ہیں۔ اقلیتوں کوعلم ہونا چاہیے کہ ان کی اس اسلامی ریاست میں کوئی گنجائش نہیں، اس لیے وہ کسی اور ملک ، جو بھی انہیں پناہ دینے کے لیے تیار ہو، میں جانے کی درخواست دینے کی تیار ی کریں ۔ اس ملک میں غیر مسلم تو ایک طرف، غیر سنی بھی دوسرے درجے کے شہری بن کررہیں گے۔ وادیِ کیلاش والوں کو الٹی میٹم مل چکا اور ان کو نیک و بد کے معروضات سمجھائے جاچکے ۔ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ کون سا راستہ اپناتے ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں نے بھی داڑھی بڑھانے ، ٹخنوں سے اوپر شلوار چڑھانے اور اس کے جملہ لوازمات پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔ کیا کہا، کالم کس زبان میں ہوگا؟ کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے؟

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *