ریاست اور حکومت کو بچائیں

Najam Sethiنجم سیٹھی

جیسا کہ توقع تھی، پی ایم ایل (ن) کی حکومت کی طرف سے امن کو آخری حد تک موقع دینے کی کوشش رائیگاں جائے گی، چنانچہ قائم شدہ دونوں کمیٹیاں مذاکرات تو ایک طرف، اس کے ایجنڈے کا تعین کرنے میں بھی ناکام رہی ہیں۔ اس دوران طالبان کی طرف سے سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں پر ہلاکت خیز حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت دعویٰ کر سکتی ہے کہ اس نے خونی قاتلوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی مخالف جماعتوں جیسا کہ پی ٹی آئی، جے یو آئی، جماعت ِ اسلامی اور لاتعداد دیگر مذہبی گروہوں کو ساتھ ملا کر اس مسئلے کے حل کے لئے درکار قومی اتفاق ِ رائے پیدا کرنے کی آخری حد تک کوشش کی لیکن ان دہشت گردوں کا دل نہ پسیجا کیونکہ ان کے موقف کی بنیاد معروضی حقائق اور قومی مفاد کے بجائے ایک کٹر اور دقیانوسی نظریہ ہے۔
درحقیقت اس تمام کار ِ لاحاصل کا صرف اور صرف طالبان کو فائدہ ہوا کیونکہ میڈیا کوریج کی وجہ سے ان کے موقف کی ترویج ہوگئی اور طالبان کے حامی بلکہ استاد مولانا، جن کو نظرانداز کیا جانا ہی بہتر تھا،ٹی وی پر بحث مباحثے کے پروگراموں میں شریعت، جہاد، خودکش حملوں، شہادت اور قیدیوں کے گلے کاٹنے جیسی درندگی کے نت نئے معنی تلاش کرتے اور ان اقدامات کا جواز پیش کرتے دکھائی دیئے۔ جس دوران طالبان کے بعض حامی میڈیا پر قوم کے ذہن میں طالبان کا ایجنڈا انجیکٹ کرنے میں مصروف تھے، طالبان متوقع فوجی ایکشن کے پیش ِ نظر اپنے مورچے مضبوط کرنے، ہتھیار اکٹھا کرنے، خودکش حملہ آوروں کی کھیپ تیار کر کے ملک کے اندورنی حصوں کی طرف روانہ کرنے کی تیاری کرچکے ہیں۔ تاثر یہ ابھر رہا ہے کہ دفاعی ادارے سول حکومت کی مذاکرات کی حکمت ِ عملی جس کے نتیجے میں طالبان کو تقویت ملی، پر ناخوش ہیں۔
جنرل(ر) پرویز مشرف کو غداری کیس میں سزا دلانے کی پی ایم ایل (ن) کی پالیسی بھی بظاہر ناکام ہورہی ہے کیونکہ مبینہ طور پر فوج کی اعلیٰ قیادت نے سابق آرمی چیف کو عدالت میں پیش کرنے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی۔
اس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ اعلیٰ قیادت میں تبدیلی کے باوجود فوج اپنے سابق چیف کو سول عدالتوں سے سزا سنائے جانے کی اجازت نہیں دے گی۔ اس صورت ِ حال میں عدالت پر دبائو ہے کہ وہ فوج کے سامنے کھڑی ہو جائے لیکن عدالت سول انتظامیہ کی ٹھوس اور عملی حمایت کے بغیر ایسا نہیں کر سکتی۔ پرویز مشرف کا دفاع کرنے والے وکلا نے خصوصی عدالت کے جج صاحبان کی طرف سے اس کیس کی سماعت کرنے کے اختیار کو چیلنج کیا ہے۔ان دفاعی اقدامات کی وجہ سے اس کیس کے غبارے سے ہوا نکلنا شروع ہو گئی ہے جبکہ ابھی تک پرویز مشرف کو باضابطہ طور پر ملزم نامزد بھی نہیں کیا گیا۔ مبینہ طور پر دفاعی اداروں کی طرف سے مشرف کا اس طرح تحفظ کرنے سے عوام میں تاثر جارہا ہے کہ جنرل قانون سے بالاتر ہوتے ہیں۔
اب تک ہونے والی سہ جہتی پیشرفت اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ کالعدم تحریک ِ طالبان کے خلاف فوجی اپریشن ہونے والا ہے۔اس کارروائی کا سب سے پہلا اشارہ یہ ملتا ہے کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے ایک بیان آیا کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران چار سو ساٹھ افراد ،جن میں ایک سو باون سیکورٹی اہل کار بھی شامل تھے، کی ہلاکت کی ذمہ داری طالبان پر عائد ہوتی ہے۔ عام حالات میں آئی ایس پی آر کی طرف سے اس طرح کا بیان نہیں دیا جاتا۔ کہنے کا مطلب یہ کہ موجودہ حکومت کی غیر ضروری نرم خوئی کے باوجود طالبان نے اپنے ہاتھ نہیں روکے اور انسانی جانوں کا ناقابل ِ تلافی نقصان ہوا۔ دوسرا اشارہ یہ ملتا ہے کہ وزارت ِ داخلہ کی طرف سے خبردار کیا گیا کہ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کی طرف سے ملک میں اسلحے اور دہشت گرد گروہوں کی ترسیل ہورہی ہے۔ نیشنل مینجمنٹ کرائسس سیل کے ڈائریکٹر جنرل نے قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلی امور کو بتایا کہ پنجاب کو کالعدم تحریک طالبان اور لشکر ِ جھنگوی، سندھ کو القاعدہ ، کالعدم تحریک ِ طالبان، لشکر ِ جھنگوی، لسانی اور قوم پرست گروہوں اور مافیا، بلوچستان کو القاعدہ، لشکر ِ جھنگوی، کالعدم تحریک ِ طالبان ، بی ایل اے، گلگت بلتستان کی کالعدم تحریک ِ طالبان، لشکر ِ جھنگوی اور آزاد کشمیر کو ان دہشت گرد تنظیموں سے خطرہ ہے جنہیں بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اُنھوں نے کمیٹی کو بتایا کہ دارالحکومت اسلام آباد انتہائی خطرناک شہر بن چکا ہے کیونکہ اس میں بہت سی کالعدم تنظیمیں اور القاعدہ سے وابستگی رکھنے والے گروہ جیسا کہ طالبان اور لشکر ِ جھنگوی اپنی موجودگی رکھتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کراچی کے ایک تہائی حصے پر قابض ہوچکے ہیں۔ تقریباً سات ہزار کے قریب افراد، جن میں زیادہ تر دہشت گرد اور ہائی پروفائل مجرم ہیں، کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے ہیں۔
تیسرا اشارہ یہ کہ شمالی وزیرستان میں کالعدم تحریک ِ طالبان اور القاعدہ کے ٹھکانوں پر پی اے ایف نے سرجیکل اسٹرائیک کی اور دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ یہ حملے ، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہاہے ، طالبان یا القاعدہ کو کسی معاہد ے کی خلاف ورزی پر دی گئی سزا نہیں بلکہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اب شمالی وزیرستان سے ان عناصر کو پاک کیا جائے گا۔ ان فضائی حملوں کا مقصد ریاست دشمن عناصر کی کمر توڑنا تھا۔ یہ بات قابل ِ فہم ہے کہ وزیر ِ اعظم نواز شریف ملک میں کسی جگہ بھی سول حکومت کی معاونت کے لئے فوج کو استعمال کرنے کے حق میں نہیں کیونکہ جب ایک مرتبہ فوج آجاتی ہے، جیسا کہ سوات اور بلوچستان، تو پھر اس کی واپسی مشکل ہوجاتی ہے۔ اس کی موجودگی میں سول ادارے کمزور ہوتے ہیں۔ یہ معروضات اپنی جگہ لیکن ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کی وجہ سے دہشت گرد بھی تو ریاست کی عملداری کے لئے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
اس سے فوج پھر اپنے طور پر کارروائی کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ اب ریاست بچانے کے لئے نواز شریف صاحب نے عسکری طاقت استعمال کرنی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی جمہوری حکومت کے اختیار کا بھی دفاع کرنا ہے۔یہ ایک تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ مشرف کیس سے صرف ِ نظر کرتے ہوئے اس جنگ پر توجہ مرکوز کریں جو ریاست اور حکومت دونوں کواپنی لپیٹ میں لینے کے لئےپرتول رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *