9 کالم۔۔۔جو اشاعت کے منتظر ہیں!

gul

پہلا کالم: کیا بنے گا ہمارا، ملاوٹ، چور بازاری، رشوت اور دھوکا دہی سے ہم برباد ہوچکے ہیں، کیا حکمرانوں کو آخرت کی کوئی فکر نہیں؟ کب ہمیں کوئی ایسا لیڈرنصیب ہوگا جو ہماری ساری تکالیف دور کر دے گا، ہم تباہ ہورہے ہیں، ملک تباہ ہورہا ہے، جاگو مسلمانو، خدا کے لیے ایک ہوجاؤ، میں ساری ساری رات روتا رہتا ہوں کہ آخر ہم کب سدھریں گے۔مہنگائی کو آگ لگی ہوئی ہے، غریب خودکشیاں کر رہے ہیں، امیر عیش کر رہے ہیں، اگر یہی حالات رہے تو میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ ہم سب ایک نہ ایک دن برباد ہوجائیں گے۔
دوسرا کالم: زندہ قومیں کبھی اپنی غیرت کا سودا نہیں کرتیں، ہم تو وہ عظیم قوم ہیں جس کی غیرت کی دنیا مثالیں دیتی ہے، الحمدللہ ہم آج بھی ایک للکار ماریں تو ساری دنیا کے دشمن نیست و نابود ہوجائیں۔ دنیا کو پتا ہی نہیں کہ ہم کون ہیں، ہم تو وہ ہیں جو نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر اپنا لوہا منوا سکتے ہیں لیکن کوئی اس بات پر آمادہ ہی نہیں، کاش ہم ایک ہوجائیں اور مل کر دشمن کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں تو اللہ بھی خوش ہوگا اور پوری دنیا پر ہمارا قبضہ بھی ہوجائے گا۔
تیسرا کالم: آج پھر ایک غریب کو بھوکا دیکھا تو میرا دل بھر آیا۔ کیا قصور ہے اس بیچارے کا، صرف اتنا ناں کہ یہ ایک غریب گھر میں پیدا ہوا ہے۔ اس کے قریب سے نئی نئی گاڑیاں گزرتی جاتی ہیں اور وہ حسرت سے انہیں دیکھتا رہتاہے۔گاڑیوں والوں کو کیا پتا کہ غریب کی زندگی کیا ہوتی ہے ۔انہوں نے تو حرام کا پیسہ جمع کرکے گاڑیاں لی ہوئی ہیں، یہ غریب ہی ہے جو محنت مزدوری کرتاہے اوراللہ پر بھروسہ رکھتاہے۔ امیرو! خدا کا خوف کرو اور اپنی بڑی بڑی گاڑیوں پر نہ اتراؤ،قیامت کے دن تمہیں ایک ایک گاڑی کاحساب دینا پڑے گا۔
چوتھا کالم: کل سے کچھ لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن لکھا ہی نہیں جارہا، ملک کے حالات دیکھ دیکھ کر طبیعت بے چین ہوجاتی ہے، بے چینی بھی عجیب چیز ہے، ڈاکٹر کہتے ہیں یہ ڈپریشن ہے، اب ڈاکٹروں کی کیاپوچھتے ہیں ایک سے ایک لٹیرا بیٹھا ہوا ہے۔ لٹیرے تو ہوتے ہی لوٹنے کے لیے ہیں، لوٹنے کی بات چلی ہے تو میں نے اکثر شاعر ایسے دیکھے ہیں جو اکیلے ہی مشاعرہ لوٹ لیتے ہیں، مشاعرے اب پہلے جیسے نہیں رہے، پہلے تو اعلیٰ ترین شعر سننے کو ملتا تھا، اعلیٰ ترین ہو یا کم ترین انسان انسان ہی ہوتاہے اس کی عزت کرنی چاہیے ، اپنی عزت اپنے ہاتھ ہوتی ہے، ہاتھ ہمیشہ صاف رکھنے چاہئیں تاکہ جراثیم سے محفوظ رہیں، اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
پانچواں کالم: ایک دفعہ ایک استاد نے بچے سے پوچھا کہ بیٹا بتاؤ توانائی کسے کہتے ہیں، تو بچہ آگے سے بولاماسٹر صاحب توانائی کا مطلب ہوتاہے کہ جس توے پر نائی بیٹھا ہو۔ بچے بڑے چالاک ہوگئے ہیں بلکہ شیطان ہوگئے ہیں بلکہ شیطان کے چیلے ہوگئے ہیں۔ان کو ڈانٹیں تو آگے سے بھاں بھاں کر کے رونے لگتے ہیں، کئی بچے بھاں بھاں کی بجائے آں آں کرکے روتے ہیں، کئی ریں ریں کرتے ہیں، کئی تو آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور بس روتے ہی جاتے ہیں، کچھ بچے روتے ہیں تو لگتاہے جیسے ہنس رہے ہیں اور ہنس رہے ہوں تو لگتا ہے جیسے رو رہے ہوں۔بچوں کی شیطانیاں تو اتنی بڑھ گئی ہیں کہ بڑوں کو اپنا آپ بچانا مشکل ہوگیا ہے۔
چھٹا کالم: وجود میں چھائی ہوئی برف نے اپنا احساس چھپانا شروع کر دیا ہے، قلم کی نوکِ خار سے ابلتے ہوئے حروف پامالئ اظہار پر آمادہ ہوتے دکھائی نہیں دے رہے اور بدن ہے کہ اپنے مدار میں لگتا ہی نہیں، ایک عجیب سی ویرانی نے ڈیرہ ڈال لیا ہے جو سر کے بالوں سے روح کی منڈیر تک اپنا آپ منواتی چلی جارہی ہے۔شیشہ دل کے ٹکڑے چبھ رہے ہیں اور آنکھ کی پتلی کی حیرانی نہیں جاتی، ہم ایسے عہدِ بے کنار میں جی رہے ہیں جہاں سلسلہ روز وشب کی مسافتیں غرورِ کمتری کا لاوا اگلتی پہاڑیوں سے درشت لہجے کی سنگلاخ چٹانیں تراش رہی ہیں۔
ساتواں کالم: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک خرگوش نے کچھوے سے دوڑ کی شرط لگائی۔ خرگوش چھلانگیں مارتا ہوا آگے نکل گیا اور کچھوا آہستہ آہستہ چلنے لگا۔ کچھ دور جاکر خرگوش نے سوچا کہ کچھوا تو ابھی بہت دور ہے میں تھوڑی دیر آرام کر لیتاہوں، یہ سوچ کر خرگوش سو گیا۔ اس کی نیند گہری ہوگئی ، اسی دوران کچھوا بھی آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب سے گزرگیا۔ کافی دیر بعد جب خرگوش کی آنکھ کھلی تو اس نے سوچا کہ کچھوا تو ابھی بہت پیچھے ہوگا ،لیکن جب وہ منزل پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ کچھوا وہاں پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔ یہ کہاوت ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ہم آہستہ آہستہ لیکن پوری لگن کے ساتھ محنت کرتے رہیں تو کامیابی ہمارے قدم چوم سکتی ہے۔ ہم اس وقت بالکل بھی محنت نہیں کررہے، سب لوگ سستی کا شکار ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم فوراً محنت شروع کر دیں تاکہ اپنی منزل پاسکیں، شاعر مشرق علامہ اقبال نے ایسے ہی کسی موقع کے لیے کیا خوب کہا ہے’’تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب۔۔۔یہ توچلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے‘‘۔
آٹھواں کالم: صہیونی سازشوں کے نتیجے میں آج ہم ابتری کا شکار ہوچکے ہیں، ہم نے غیروں کی چیزوں کو اپنا لیا ہے، ہم انگریزی بولتے ہیں اور انگریزی لباس پہنتے ہیں اسی لیے ہم خود بھی انگریزی کلچر کے شیدائی ہوتے جارہے ہیں۔ہمیں یہ ساری چیزیں چھوڑ کر اپنا کلچر اپنانا چاہیے، کل مجھے ایک بندہ ملا جس نے پینٹ پہنی ہوئی تھی، میں نے اسے سمجھایا کہ کیوں غیروں کا لباس پہنتے ہو، کیا انگریزوں نے کبھی تمہارا لباس پہنا ہے؟ یہ سنتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے وعدہ کیا کہ آئندہ وہ کبھی پینٹ نہیں پہنے گا۔ میں نے گھر آکر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ آج میری وجہ سے ایک بھٹکا ہوا انسان راہ راست پر آگیا۔میں نے اپنی امی کو بھی یہ بات بتائی تو وہ بھی بہت خوش ہوئیں اور انہوں نے مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیں۔
نواں کالم: مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر ہم امریکہ سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں، امریکہ تو خود ہمارا محتاج ہے۔ حیرانی ہوتی ہے کہ حکومت انڈیا کی دھمکیوں کا بھی جواب دینے کے قابل نہیں، کیا فائدہ ایسے ایٹم بم کا جو انڈیا پر نہ مارا جاسکے۔ اگر کوئی غیرت مند حکومت ہوتی تو ایک منٹ میں انڈیا کو مزہ چکھا دیتی۔ شاید حکومت ڈرتی ہے کہ انڈیا نے بھی اگر جوابی ایٹم بم دے مار ا تو پھر کیا ہوگا؟ اِن جاہلوں کو کون بتائے کہ جناب آپ انڈیا کو اس کا موقع ہی نہ ملنے دیں، ایک ہی دفعہ میں پچیس تیس ایٹم بم گرا دیں تاکہ پورا انڈیا فوراً ہی تباہ ہوجائے، اس طرح اسے نہ ہمارے اوپر بم مارنے کا موقع ملے گا نہ ہمیں کسی نقصان کا خدشہ رہے گا۔ لیکن ظاہری بات ہے سیاستدان ایسا کیوں چاہیں گے ، وہ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ انڈیا سلامت رہے اور نعوذ باللہ ہمارا ملک تباہ ہوجائے ۔
یہ کچھ کالم مجھے بذریعہ ای میل موصول ہوئے ہیں جن کا ایک ایک پیراگراف میں نے یہاں نقل کر دیا ہے، ایسا روز ہوتاہے اوریہ بھائی لوگ مجھ سے شکوہ کرتے ہیں کہ یہاں ٹیلنٹ کی کوئی قدر نہیں اسی لیے ان کا کالم کوئی اخبار شائع نہیں کرتا ۔میں اِن سے متفق ہوں، جینوئن رائٹر کی واقعی کوئی قدر نہیں ، یہ کالم اگر یورپ میں کسی نے لکھے ہوتے تو آج لاکھوں ڈالر کما رہا ہوتا۔۔۔!!!

9 کالم۔۔۔جو اشاعت کے منتظر ہیں!” پر بصرے

  • مارچ 6, 2016 at 1:15 AM
    Permalink

    واہ : یہ چھٹا کالم بڑا چھٹا ہوا لگتا ہے اس کے موجد کا نام ضرور لکھیں تاکہ اُس جناب کی چھٹی حس سے کام لیا جا سکے''''

    Reply
  • مارچ 6, 2016 at 10:44 AM
    Permalink

    بھئی خوب ہے

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *