اسیر ذہنوں میں سوچ بھرنا کوئی تو سیکھے

imad zafar

دنیا میں بدترین غلامی کی قسم جہالت کی غلامی ہوتی ہے. اس غلامی میں گرفتار معاشرے سوچ و فکر اور تحقیق سے منہ موڑ کر اپنے بنائے ہوے تصورات اور خیالات کی ریت میں شتر مرغ کی طرح منہ چھپائے بیٹھے رہتے ہیں. بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی کچھ اسی قسم کی غلامی کا اسیر نظر آتا ہے. ہم شاید یہ ماننے کو تیار نہیں کہ زمانہ  اب تیز رفتاری سے ترقی اور شعور کی منازل طے کرنے کے بعد بہت آگے جا چکا ہے.  ماضی میں ہم کون تھے یا ہمارے آباو اجداد نے کیا کیا دنیا کو اس سے غرض نہیں ہے .ہم اس وقت کون ہیں اور مستقبل کیلئے کیا کر رہے ہیں دنیا اس کو دیکھ کر ہماری حیثیت اور مرتبہ طے کرتی ہے. بدقسمتی سے پچھلے کئی سو سالوں سے بقول جون ایلیا " ہم نے تاریخ کے دستر خوان پر سوائے حرام خوری کے کچھ نہیں کیا"ـ صرف ماضی کے قصے ماضی کی مثالیں اور دنیا بھر سے نفرت کے سوا پچھلی کئی صدیوں سے بحیثیت معاشرہ اور بحیثیت مسلمان دنیا کی ایجادات ،تخلیقات اور دریافتوں میں ہمارا کنٹریبیوشن صفر ہے. ایسا نہیں کہ وطن عزیز کی مٹی باصلاحیت افراد پیدا کرنے میں بانجھ ہے،  یہاں ایک سے ایک باصلاحیت افراد آپ کو مل جاتا ہے لیکن ان کی صلاحیتوں کو ہمارا مجموعی معاشرتی منافقانہ سوچ و اقدار اور یہ گلا سڑا نظام کبھی بھی آستعمال میں نہیں لاتے. ہم بھی عجیب لوگ ہیں ہم ہیروز بھی انہیں تسلیم کرتے ہیں جو ایک خاص گروہ کے پراپیگینڈے سے وجود میں آتے ہیں.شرمین عبید چنائے ہمیں اچھی نہیں لگتی کیونکہ وہ پارسی ہے ،وہ پاکستان کا امیج دنیا بھر میں خراب کرتی ہے. نرگس موالوالہ بھی پارسی ہے باہر امریکہ میں پلی بڑی ہے ثقلی موجوں کی دریافت میں حصہ ڈال کر آئن سٹائن  جیسے کافر کی تھیوری کوسچا ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس لیئے ہماری طرف سے بھاڑ میں جائے.  ملالہ یوسفزئی کیونکر نوبل انعام جیتی وہ بھی محض ایک گولی طالبان سے کھانے پر اس لیئے ہمارے نزدیک تو وہ پکی یہودی ایجنٹ ہے. ارفعہ کریم رنداوا بیچاری کم عمری میں ہی خدا کو پیاری ہو گئی وگرنہ ابھی تک بل گیٹس کی خصوصی شفقت اور توجہ پانے کے جرم میں وہ بھی کفار کی ایجنٹ قرار دی جا چکی ہوتی. ڈاکٹر عبدالسلام،  تو خیر تھے پی قادیانی اس لیئے ان کی تحقیقات کو تو ہم کبھی اون ہی نہیں کرتے .البتہ ایٹم بم کا فارمولا ہالینڈ سے چرا کر لانے والی شخصیت ہماری ہیرو ہے. منٹو فحش لکھاری تھا ننگا سچ لکھتا تھا اس لیئے ہمارے لیئے تو ایک فحش نگار ٹھہرا جون ایلیا تو تھا ہی مرتد اس کی ادبی تخلیقات سے ہمیں کیا لینا دینا. غرض زندگی کے ہر شعبہ میں ہمارے ہیروز صرف وہ ہیں جو نرگسیت پسندی اصلاف پرستی اور قومی و مذہبی تعصب پھیلانے میں ماہر و یکتا ہوں.  جسطرح کی سوچ ہمارے ذہنوں میں بھر کر اسیر بنا دیا گیا ہے اس کے مطابق  شرمین کا آسکر پاکستان کو بدنام کر کے ملا اس نے غیرت کے نام پر قتل کو دنیا بھر میں دکھا کر ہمارا قومی وقار خراب کیا. ہمیں بدنام کیا. اس ناہنجار عورت کی جرات کیسے ہوئی کہ وہ ہمارے معاشرے میں ہونے والے اس گھناونے فعل کو دنیابھر کے سامنے لائے. اس کو یقنا کفار نے پیسہ دیا ہو گا کہ جاو اور پاکستان کے بارے میں منفی امیج پر مبنی ایک ڈاکیومینٹری بناو کیونکہ ہم پاکستان کی ترقی سے بے حد خائف ہیں ایک تو پاکستان پوری دنیا کو قرضوں اور امداد کی بھیک دیتا ہے اوپر سے دنیا کی سپر پاور ہے.اس وقت جو ایجادات و تخلیقات ہیں وہ  سب پاکستان کی دریافت شدہ ہیں لہازا شرمین کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ ایسا معاشرہ جہاں غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور عورت کو جتنی عزت پاکستان میں ملتی ہے دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتی ایسے ملک کے خلاف غیرت پر قتل کے نام پر فلم بنائے. اور حد ہے اس عورت پر بھی جس نے جھوٹ بولا اور ان تمام ریسرچ اور فگرز پر بھی جن کے مطابق روز پاکستان میں بے شمار خواتین غیرت کے نام پر قتل ہو جاتی ہیں. بھلا قتل اور وہ بھی ہمارے جیسے مثالی اور پر امن معاشرے میں ؟ بہت بڑی سازش ہے یہ ہمارے خلاف. اس ناہنجار بچی ملالہ یوسفزئی کو بھی دیکھئے کہ  کیسے کمال ڈھٹائی سے طالبان جیسے امن پسند گروہوں کو بدنام کرتے ہوئے ان سے گولیاں کھا کر زخمی ہونے کا جھوٹا ناٹک کیا.بھلا طالبان جیسے امن پسند اس طرح کر سکتے ہیں اور پھر کفار نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے نہ صرف اس کو اپنے ہاں بلا کر اس کا علاج معالجہ کیا بلکہ اسے نوبل پرائز دے کر ہمارے طالبانی بھائیوں اور جہادی تنظیموں کے افراد کے ساتھ سخت زیادتی کی.اگر امن کا نوبل پرائز دینا ہی تھا تو طالبان یا شدت پسند جماعتوں کو دیتے جو پوری دنیا میں پرامن کاروائیوں کے زریعے ہمارا نام روشن کرتے ہیں. اور تو اور نرگس موالوالہ جیسی عورت کو بھی گوروں نے ہمارے خلاف استعمال کیا. ثقلی موجوں کی دریافت دوارے تحقیق کا  اگر کوئی انعام کا حقدار تھا تو وہ  ہمارا انجینئر فرید اختر تھا جس نے بنا کسی علم تحقیق یا تجربے کے ایک ہی آن میں نیوٹن آئن سٹائن کو جھٹلاتے ہوئے کشش ثقل کی موجودگی کو ہی رد کر دیا.بھلا ایسے ذہین آدمی کو بھی کوئی ایوارڈ نہ دینا کفار کی سازش نہیں تو اور کیا ہے.  ان کفار مشرکین اور گوروں نے تو ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی صرف اس لیئے ایوارڈ دیا تھا کیونکہ وہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوانے کا سبب تھے ورنہ ان کی تھیوری سے ہمیں کیا لینا دینا . ہمارے محسن قوم نے اتنی محنت سے بیرونی ممالک سے ایٹم بم کا فارمولا چرایا اتنی عظیم تخلیقاتی کاوش پر بھی نوبل نہ ملا تو بس پھر اور کیا شک کی گنجائش ہے کہ ہمارے خلاف ہمہ وقت سازش ہوتی ہے . ان کفار اور گوروں کو زرا برابر بھی شرم نہیں ،سوئی سے لے کر کمپیوٹر، بجلی سے لیکر زندگی بچانے والی ادوایات.  میڈیکل سائنس سے لیکر جدید نفسیات. گاڑیوں سے لیکر بچوں تک کا دودھ ہمارا بنایا اور تخلیق کردہ استعمال کرتے ہیں اور پھر ہمارے خلاف ہی سازشیں کرتے ہیں.زرا ان کفاروں کا اخلاقی دیوالیہ پن دیکھیں کیری لوگر بل کے تحت اربوں ڈالرز ہم سے لیتے ہیں ہمارے ہی بنائے ہوئے لڑاکا طیاروں سے لے کر جدید اسلحہ استعمال کرتے ہیں لیکن ہم ہی سے ہمہ وقت ڈرتے بھی رہتے ہیں اور تو اور ہم سے ڈالروں میں اربوں روپے کے قرض اور بھیک بھی لیتے ہیں. لیکن ہم سے حسد کرنا نہیں چھوڑتے. ہمارے پاکستانی پاسپورٹ اور ویزے کیلئے یہ کفار خصوصا امریکہ برطانیہ کینیڈا والے لائینیں لگا کر پوری دنیا میں ہماری ایمبیسیوں کے سامنے پاکستانی شہریت اور ویزے کی بھیک مانگتے رہتے ہیں اور پھر ہٹ دھرمی دیکھئے ہمیں ہی تباہ و برباد کرنے کی کوششیں بھی کرتے رہتے ہیں. خوامخواہ میں ہمارے مثالی ترقی یافتہ معاشرے کو بدنام کرنے کیلئے اتنے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں کہ ہم کہیں اتنا سب کچھ دنیا اور عالم انسانیت کو دینے کے بعد کہیں دنیا پر غلبہ ہی نہ پا لیں. آخر کو ہم سے لڑ جو نہیں سکتے، کہ سپیس سایینس سٹلایٹ ٹیکنالوجی اور سٹیلتھ جیسی ٹیکنالوجیز ہمارے پاس ہوتے ہوئے ہمارا کیا کر سکتے ہیں .لگتا ہے یہ  کفار بہت جلد ہمارے ڈرون حملے اور ایبٹ آباد جیسے واقعات بھول جاتے ہیں.انہیں جلد ہی پھر ان کی اوقات یاد دلانی پڑے گی.اور ان کا فارغ پن دیکھئے کیونکہ ان کے پاس کرنے کو تو کچھ ہے نہیں اس لیئے اب ہمارے معاشرے میں حقوق نسواں بل اپنے ایجنٹوں کے زریعے لے آئے.  ہم عزت دار لوگ ہیں عورت پر ہاتھ اٹھاتے ہیں جنسی لزت لیتے ہیں لیکن اسے گھر سے دو قدم باہر نہیں نکلتے دیتے. کفار کی طرح تھوڑی ہیں جو منی اسکرٹ میں اپنی خواتین کو باہر جانے دیں .اور کفار کی خواتین کی بے عزتی کیلئے تو یہی کافی ہے کہ ان کی بے حیا خواتین کی سب سے زیادہ  عریانی کی فلمیں  تصاویر اور ویڈیوز ہم لوگ ہی چند روپے دے کر دنیا میں ان کی عورتوں کی نے حیائی دیکھنے والی اول نمبر قوم ہیں.اور ان کی ہمت دیکھئے ہمارے ہاں حقوق نسواں کی بات کرتے ہیں. اب ساری دنیا کو کون سمجھائے کہ ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں زندگی کے ہر شعبے میں بے مثال ترقی کے بعد  ہم نے یہ مقام حاصل کیا ہے جسے کفار اور گورے ہمہ وقت سازشیں کر کے ہم سے چھین نہیں سکتے. کاش کہ اسیر ذہنوں میں سوچ بھری جا سکتی.

اسیر ذہنوں میں سوچ بھرنا کوئی تو سیکھے” پر ایک تبصرہ

  • مارچ 6, 2016 at 10:20 AM
    Permalink

    بہترین محترم آئینہ دکھاتی ایک عمدہ تحریر

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *