موبائل اور فیس بک کے گھوڑے

gul
آجکل ایک بزرگ صحافی صاحب نے میراجینا حرام کر رکھا ہے۔ قبلہ نے ڈیڑھ سو دیگر لوگوں کے ساتھ مجھے بھی موبائل کے گروپ میں ایڈ کر لیا ہے اور ہر دس منٹ بعد اپنے ارشادات عالیہ پوسٹ فرما دیتے ہیں۔ پچھلے دنوں میری گاڑی ٹریفک میں پھنسی ہوئی تھی، میرے ایک عزیز کی طبیعت سخت خراب تھی اور میں ان کی عیادت کرنے ہسپتال جارہا تھا۔اچانک موبائل کے میسج کی بیل ہوئی۔ میں بے چین ہوگیا، بڑی مشکل سے گاڑی سڑک کے ایک طرف لگائی اور میسج پڑھا ۔۔۔لکھا تھا’’یہ گھٹیا لوگوں کی حکومت اب نہیں رہے گی، انشاء اللہ ہم سب مل کر اس ظلم کے نظام کا خاتمہ کریں گے‘‘۔میں نے بے بسی سے فون بند کیا اور سامنے کی طرف دیکھا جہاں اشارہ پھر بند ہوچکا تھا۔ ڈیڑھ منٹ بعد جب اشارہ کھلا تو میں نے گاڑی آگے بڑھائی، یکدم پھر میسج کی ٹون بجی۔ گھبرا کر پھر گاڑی روک لی اور میسج پڑھا’’ذلت کی رسوائیوں میں ڈوبا معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔‘‘ میں نے دانت بھینچے اور اپنا سر ڈیش بورڈ پر دے مارا۔۔۔!!!
یہ صاحب دن میں چھ دفعہ مجھے میسج کرتے ہیں، ہر میسج میں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جو کچھ یہ فرما رہے ہیں اسے ہی ٹھیک تصور کیا جائے اور سارے کام چھوڑ کر بس ان کا میسج ہی پڑھا جائے اور سر دھنا جائے۔پرسوں میں ایک جنازے میں شریک تھا، نماز جنازہ تیار کھڑی تھی کہ اچانک موصوف کا میسج آگیا، مجھے چونکہ بہت سے معاملات کی فکر رہتی ہے اس لیے میرے لیے میسج پڑھنا بھی ضروری ہوتاہے کہ کہیں خدانخواستہ گھر میں نہ کوئی پرابلم ہوگئی ہو۔ میسج یہ تھا’’مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘۔میں نے سرکھجایا ، اتنی دیر میں نماز جنازہ شر وع ہوگئی۔ تدفین کا وقت آیا تو پھر ان کی طرف سے میسج آگیا۔بادل نخواستہ پڑھنا پڑا، لکھا تھا’’وقت آگیا ہے کہ ظالموں ، خبیثوں اور بے غیرتوں کے ساتھ کتے والا سلوک کیا جائے۔‘‘ مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا، میں نے فوری طور پر انہیں میسج کیا کہ خدا کے لیے یہ سلوک میرے ساتھ تو نہ کریں، پلیز مجھے موبائل کے فرینڈز گروپ سے نکال دیں ۔اس کے بعد سے اب تک ان کا کوئی میسج نہیں آیا، یقیناًانہوں نے مجھے گروپ سے بھی نکال دیا ہوگا اور اپنی ’’لال زبان‘‘ سے کچھ ارشاد بھی فرمایا ہوگا۔
سچ بتاؤں تو میرا بڑا دل چاہتا ہے کہ اِن صاحب سے پوچھوں کہ آپ کالم بھی لکھتے ہیں، فیس بک پر بھی گندی ترین زبان میں زہر اگلنے والی پوسٹس لگاتے ہیں، پھر بھی آپ کا دل نہیں بھرتا؟؟؟ کیوں لوگوں کو بلاوجہ میسج بھیج کر تنگ کرتے ہیں۔ کیا ضروری ہے کہ ہر بندہ آپ کا ہم خیال ہوجائے۔ساری دنیا آ پ کے ’کردار‘ سے واقف ہے پھر بھی آپ باز نہیں آرہے۔ اب کی بار میں نے سوچ لیا ہے موصوف کا کوئی میسج آیا تو کسی کی ڈیوٹی لگا دوں گا کہ ہر ایک منٹ بعد قبلہ کو مسڈ کال مار دے ۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ 60سال کے ہونے کے باوجود یہ ذہنی طور پر ابھی بڑے کیوں نہیں ہوپائے۔ایمان کے دعویدار ہیں اور زبان گندی ترین۔۔۔ہر وقت آگ اگلتے رہتے ہیں، پتا نہیں غصے کو حرام کیوں نہیں سمجھتے۔ ان کے بس میں ہو تو خود سے اختلاف کرنے والوں کو پکڑ پکڑ کر ذبع کرتے چلے جائیں۔ اب کی بار میرا ارادہ ان سے بالمشافہ مل کر ان کی تسلی کرانا ہے۔۔۔!!!
ایسے لوگوں کا کیا علاج کیا جائے۔۔۔کوئی اہم میسج بھی انہی لوگوں کی وجہ سے پڑھنے سے رہ جاتاہے کہ دل میں خیال ہوتاہے کہ پھر انہی کی طرف سے ہی آیا ہوگا۔ میں اپنے تمام محترم چاہنے والوں سے گذارش کرنا چاہوں گا کہ پلیز مجھے اقوال زریں بھیجنے سے گریز کریں مجھ پرکوئی اثر نہیں ہونا۔ایک صاحب نے کہیں سے میرا موبائل نمبر حاصل کرکے مجھے روزانہ کی بنیاد پر ’آج کی اچھی بات‘ بھیجنا شروع کر دی ہے۔ روز ان کی طرف سے ایک ہدایت نامہ موصول ہوجاتا ہے کہ زندگی کیسے گذارنی چاہیے۔ ایک دن میں نے انہیں جوابی میسج کردیا کہ حضرت! دوسروں کے سر پر سوار ہوکر نیکی کی تبلیغ مت کیجئے، بلاوجہ کسی کو تنگ کرنا بھی اخلاق کے منافی ہوتاہے۔ تھوڑی ہی دیر میں ان کا غصے سے بھر ا میسج آگیا کہ آپ کو شیطان نے اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے اسی لیے آپ نیکی کی بات سننا ہی نہیں چاہتے اللہ آپ کو ہدایت دے۔
یہ کون لوگ ہیں جن کا دل ہی نہیں بھرتا۔ فیس بک کے میسنجر میں آئے روز کوئی نہ کوئی گروپ بنا کر بغیر پوچھے سب کو ایڈ کر لیتے ہیں اور پھر خواہش رکھتے ہیں کہ گپ شپ لگائی جائے۔ چونکہ خود فارغ ہوتے ہیں لہذا سب کو فارغ سمجھتے ہیں۔واٹس ایپ پر بھی یہی عذاب نازل ہونا شروع ہوگیا ہے۔احباب کئی دفعہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کو کسی گروپ میں ایڈ کرتے ہیں اور آپ وہاں سے فرار ہوجاتے ہیں ،وجہ؟۔۔۔وجہ یہی ہے کہ ایک ایک گروپ میں لگ بھگ ایک سو کے قریب بندے ایڈ ہوتے ہیں اور سب ہی اپنا اپنا حصہ ملا رہے ہوتے ہیں، گروپ جوائن کرنے کا مطلب ہے کہ ہر دو منٹ بعد آپ کا فون بجے گا، کوئی تصویر، کوئی وڈیو، کوئی لطیفہ یا کوئی اقوال زریں ظاہر ہوگا اور آپ کے فون کی میموری کو چاٹ جائے گا۔
کچھ تو سوچئے کہ جب آپ کسی کو ایسی کوئی چیز بھیج رہے ہیں تو یقیناًاس کے موبائل پر بیل ہوگی، میسج کا عندیہ ملے گا، عین ممکن ہے کہ وہ کسی جگہ مصروف ہو، کسی پریشانی میں ہو۔۔۔اگر اس موقع پر وہ بمشکل موبائل آن کرکے میسج پڑھے گا تو اسے کیا حاصل ہوگا؟ سوائے اس کے کہ وہ اپنا سر پیٹ لے گا۔لیکن یہ بات سمجھانی بہت مشکل ہے۔ ہماری اکثریت کا خیال ہے کہ جس وقت وہ خوشگوار موڈ میں ہوتے ہیں اس وقت ساری دنیا خوش ہوتی ہے۔ایسا نہیں ہوتا بھائی!آپ جتنا اچھا مرضی نیکی والا میسج بھیج دیں لیکن اگر دوسرا کسی جگہ الجھا ہوا ہے تو اسے وہ میسج زہر لگے گا۔اس کا نقصان یہ ہوتاہے کہ میری طرح کئی لوگ جھنجلا کر فون آف کر دیتے ہیں اور ا س دوران کوئی ضروری میسج بھی آجائے تو وہ کھوہ کھاتے لگ جاتا ہے۔میں نے تو اکثر نوٹ کیا ہے، میرا فون آن رہے تو دنیا جہان کے لاوارث میسج آتے رہتے ہیں، لیکن جونہی میں فون بند کرو، یا کچھ میسج اگنور کر دوں توپتا چلتاہے وہی میسج تو اہم تھے ۔
اپنی رائے دوسروں پر مسلط کرنے والوں نے یہ اچھا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔گروپ بنایا اور سب کو ایک میسج بھیج کر گمان کر لیا کہ ہم خیالوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسے لوگ ذاتی طور پر ملنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ان کی گفتگو دلائل سے عاری ہوتی ہے۔ ذاتی ملاقات میں یہ غصہ بھی نہیں دکھا سکتے کیونکہ دوسری طرف سے بھی ری ایکشن کا امکان ہوتاہے۔ یہ موبائل اور فیس بک کے گھوڑے ہیں۔۔۔یہی ان کا میدان جنگ ہے کیونکہ یہاں دشمن کے سامنے آکر لڑنے کا خطرہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ دن رات دوسروں کو تنگ کرتے ہیں اور دوسرے یہ سوچ کر انہیں بلاک نہیں کرتے کہ کہیں یہ حرکت غیر اخلاقی نہ شمار ہوجائے۔ روز محشر جب مخلوق سے اپنے حقوق بخشوانے کا معاملہ درپیش آئے گا تو عین ممکن ہے ایسے لوگوں کے بائیں پلڑے میں انہی کے میسج رکھ دیے جائیں۔۔۔!!!

موبائل اور فیس بک کے گھوڑے” پر ایک تبصرہ

  • مارچ 7, 2016 at 3:15 AM
    Permalink

    حاصلِ کلام

    جیسے ہی فون بند ہو........وہی میسج اہم تھے.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *