تارا مسیح ، جس نے بھٹو کو پچیس روپے میں پھانسی لگایا!

ConfessionsofanEXECUTIONER_4851پاکستان کا پہلا سرکاری جلاد تارا مسیح تھا۔ اس کا تعلق ایک غریب مسیحی خاندان سے تھا۔ مجرموں کو پھانسی دینا اس کا خاندانی پیشہ تھا۔اس کا خاندان ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور سے یہ کام کرتا آرہا تھا۔ وہ ایک ان پڑھ شخص تھا ۔ اس کی کوئی باقاعدہ تنخواہ نہیں تھی۔ جب بھی اس کو یہ ناگوار فرض سونپا جاتا، اسے صرف اس کام کے پیسے ملتے۔ وہ تاریخ میں ایک گمنام جلاد ہی رہتا لیکن پاکستان کے پہلے باقاعدہ منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوکو پھانسی دینے کا فریضہ اسے مشہور کر گیا۔اس کے لیے اسے بہاولپور سے پنڈی جیل لایا گیا۔ وہ اس دن زندگی میں پہلی اور آخری مرتبہ جہاز پر بیٹھا تھا۔ اسے کوئی علم نہیں تھا کہ وہ کس مشہور اور بڑے آدمی کی زندگی کا چراغ گل کرنے جارہا ہے۔ اسے تین اپریل یعنی بھٹو کی پھانسی کے ایک دن پہلے جیل لایا گیا اور ایک کوٹھری میں بند کر دیا گیا۔اسے آخری لمحے تک معلوم نہیں تھا کہ وہ کسے پھانسی دے رہا ہے۔ اس بات کا بھی قوی امکان ہے اس کے بعد بھی اسے اس بات کا علم نہیں ہو سکاتھا۔ اس کے خاندان کے ایک دوسرے فرد بشیر مسیح کے بقول تارا مسیح سے منسوب بھٹو کے حوالے سے تمام کہانیاں خود ساختہ ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی موت تک کسی صحافی کے ہاتھ نہیں لگا ۔ دراصل معلوم ہونے پر وہ خوف کا شکار ہو گیا تھا۔ تارا مسیح کو بھٹو کو پھانسی دینے کے پچیس روپے ملے تھے ۔ اس وقت اس کام کا یہی ’’ریٹ‘‘ تھا۔ تارا مسیح سات جولائی 1984 کو انتقال کر گیا اور اس کے خاندان کے دوسرے لوگ ابھی تک اس پیشے سے وابستہ ہیں ۔تصویر میں آپ اس کے خاندان کے حاضر سروس جلاد بشیر مسیح کو دیکھ رہے ہیں ، جو دوسو افراد کو پھانسی لگا چکا ہے۔

تارا مسیح ، جس نے بھٹو کو پچیس روپے میں پھانسی لگایا!” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *