منتخب تحریریں

لفافہ صحافی اور ناخن کا قرض

Share

اگرچہ دانا لوگ اس راز کو کھولا نہیں کرتے لیکن آپ سے کیا پردہ، درویش ایک لفافہ صحافی ہے۔ ضمیر کی کیا پوچھتے ہیں؟ خانہ برباد نے مدت ہوئی، گھر چھوڑ دیا۔ احوال واقعی یہ ہے کہ جس ادارے کا ملازم ہوں، اس کا سیٹھ ٹھیک تین مہینے سے ایک ایسے سنگین الزام میں گرفتار ہے جسے اب تک باقاعدہ مقدمے کی شکل بھی نہیں دی جا سکی۔ خبر یہ ہے کہ صحافت ایک ناپسندیدہ شعبہ قرار پا چکا۔ کوئی دن جاتا ہے کہ پرچہ لگے گا کہ موجودہ حکومت کو سابق حکومتوں کی نااہلیوں کے علاوہ صحافت جیسا ملک دشمن ادارہ بھی ورثے میں ملا تھا جسے کمال دور اندیشی سے ملیامیٹ کیا گیا۔ ضرورت سے زیادہ بے لگام صحافیوں کو دروازہ دکھا دیا گیا۔ قلم کو فورتھ شیڈول میں رکھ دیا گیا۔ خبر کو ای سی ایل پر ڈال دیا گیا۔ متعدد صحافتی اداروں میں حسب منشا کتربیونت ہو گئی اور بقیۃ السیف کان لپیٹ کر مطبوعہ راگ درباری میں پاٹھ کرنے لگے۔ یہ جو درویش کی کاوش فرومایہ ہفتے میں دو بار باقاعدگی سے آپ تک پہنچتی ہے، اس کی حقیقت بھی کچھ ایسا راز نہیں۔ درویش سچ کو محض بقدر اشک بلبل (بیمار) بروئے کار لاتا ہے۔ معاملہ بھلے سامنے کا ہو، گن کر بارہ پتھر پیچھے ہٹتا ہے اور پھر احتیاط سے چار کھیت الگ ہو کر ایسی داستان طرازی کرتا ہے کہ سچ بھوسے کے ڈھیر میں سوئی کے مانند گم ہو جاتا ہے۔

بہتیرا خود کو سمجھاتا ہوں کہ پیٹ کا جہنم پارہ نان مانگتا ہے، بھرا پیٹ فارسیاں بولتا ہے۔ مگر ہماری مٹی میں کچھ ایسی فتنہ پرور خاصیت ہے کہ منت و زاری کے باوجود نامعلوم کہاں سے اہل وطن کی محبت سر نکالتی ہے۔ یہ کسی پدر سوختہ دانشور کا قول نہیں، جنرل گل حسن کی روایت ہے کہ قائد اعظم نے جنوری 1948 میں ان سے کہا تھا کہ ’’پاکستان کے لوگ مشکل میں ہوں تو ان کی مدد کرنی چاہیے‘‘۔ بابائے قوم نے یہ قومی ذمہ داری کسی سیکشن افسر، محافظ قوم یا کسی برخود غلط تقویٰ کے پتلے پر نہیں ڈالی، مجھے اور آپ کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ درویش نے اپنی بلوچ بہن حسیبہ قمبرانی کی وڈیو دیکھی ہے۔ جنہاں گودیاں ویر کھڈائے نیں۔ تربت کے ضلع کیچ میں 26 مئی کو کمسن بیٹی برمش پر گزرنے والی قیامت کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ بلوچستان میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ درجنوں قصبوں میں شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ کچھ فروعی سوال ہیں۔ قومی ذرائع ابلاغ میں اس موضوع پر بات کیوں نہیں ہو رہی؟ کیا ہم نے 1971میں صحافت کی ریاکار خاموشی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ آدھا ملک کٹ گیا، ہم نے الشمس اور البدر کے تجربے سے عقل کے ناخن کیوں نہیں لئے؟ توجہ فرمائیے مبادا وطن دوستی اور ملک دشمنی کی لکیر غبار آلود ہو جائے۔ سادہ مطالبہ ہے کہ اگر کوئی شہری قانون شکنی کا مرتکب ہوا ہے تو اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ماورائے قانون فعل سے آئین میں دی گئی ضمانتیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ شہری اور ریاست کا رشتہ دستوری معاہدے کے تابع ہے۔ اگر کسی کو دستور کی منشا سے بڑھ کر وطن دوستی کا دعویٰ ہے تو اس دعوے کی تصدیق ریاستی منصب کی اوٹ ختم ہونے کے بعد ہونی چاہیے۔ ریاستی منصب عوام کی بخشندہ ذمہ داری ہے، ورائے دستور فہم و فراست کی سند نہیں۔ جاننا چاہیے کہ اخفا کے اندھیرے میں جرائم پرورش پاتے ہیں۔ یہاں دسمبر 2013 میں عدالت عظمیٰ سے متعلقہ معاملات کا دانستہ ذکر نہیں کیا جا رہا۔ عقل مند کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے۔ پاکستان میں سیاسی اختیار اور معاشی وسائل کی لڑائی میں بلوچستان کو آلہ کار بنانا وطن دوستی نہیں۔

پاکستان چار وفاقی اکائیوں اور متعین منطقوں کے رضاکارانہ مجموعے کا نام ہے۔ ہم نے مرکز کے نام پر ایک تجرید کو وفاقی اکائیوں کے مقابل کھڑا کر رکھا ہے۔ یہ کہاں کی دوستی ہے؟ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے بتایا ہے کہ رواں مالی برس میں صوبے کے لئے تفویض کردہ 835 ارب روپے میں سے 229 ارب روپے منتقل نہیں کئے گئے۔ گویا صوبے کو مالی وسائل کے 27.42 فیصد حصے سے محروم کیا گیا ہے۔ اگر یہ قومی آمدنی میں کمی کا شاخسانہ ہے تو کیا کسی اور مد میں بھی اس نوع کی کٹوتی کی گئی ہے؟ یہ درست ہے کہ وزیر اعظم کو اپنی ٹیم چننے کا اختیار ہے لیکن بات اگر مشیران خصوصی سے آگے نکل جائے اور مشتبہ ساکھ کی حامل ایک غیرملکی خاتون ہمارے سیاسی نظام پر رائے زنی کرے تو سوال کرنا چاہیے کہ صحافت کا وہ غول بیابانی کہاں ہے جو 2011 اور 2012 میں امریکی ویزوں کی تحقیق کے لئے اتاؤلا ہو رہا تھا۔ سنجیدہ صحافت کو کسی کی ذاتی زندگی سے تعلق نہیں لیکن انسانی تاریخ کا ایک سبق یاد رکھیے گا، جب اقتدار عوام کی جوابدہی سے بے نیاز ہو جاتا ہے تو اس میں ناگزیر طور پر چار عناصر نمودار ہوتے ہیں، بدعنوانی، انفرادی پاگل پن، اجتماعی اخلاق باختگی اور معیشت کی تباہی۔ پہلے تین نکات کی خبر آپ لیجئے، معیشت کے بارے میں عرض ہے کہ شرح نمو مسلم لیگ نواز کے دور میں 5.8 فیصد پر تھی اور اب سرکاری بیان کے مطابق منفی 0.38 فیصد پر اتر آئی ہے۔ اسحاق ڈار صاحب کا کہنا ہے کہ حقیقی شرح نمو منفی 1 سے منفی 1.5کے درمیان کہیں واقع ہے۔ فی کس آمدنی 1652 ڈالر سے گر کے 1355 ڈالر پر آ گئی ہے۔ حکومتی قرضے 30 ہزار ارب سے بڑھ کر 43 ہزار ارب روپے ہو گئے ہیں۔ گویا دو برس میں قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 72 فیصد سے بڑھ کے 98 فیصد کو پہنچ گیا۔ صرف یہ دیکھ لیجئے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کو کاغذ کی ناؤ بنانے سے بیٹھے بٹھائے قرضے کہاں جا پہنچے۔ کورونا کی آڑ مت لیجئے۔ کورونا تو فروری 2020 میں نمودار ہوا، معیشت اس سے پہلے جان بلب ہو چکی تھی اور بلوچستان کے بیٹوں کا دکھ تو 2005ء کی تاریک راہوں سے جا ملتا ہے۔