صحرائی باسیوں کے لیے امید کی کرن، ہوا سے پانی کشید کرنے کا تجربہ

Water

دنیا میں پینے کے پانی کے ذخائر محدود ہوتے جارہے ہیں۔ اسی بنیاد پر ماہرین کئی برس سے پیش گوئیاں کررہے ہیں کہ مستقبل میں اقوام کے مابین جنگیں پانی پر ہوں گی۔ دنیا کی بڑی آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، مگر کئی خطے ایسے ہیں جہاں کے باسیوں کو صاف تو کیا آلودہ پانی بھی بڑی مشقت اٹھانے کے بعد دست یاب ہو پاتا ہے۔ ان خطوں میں بالخصوص صحرائی علاقے شامل ہیں۔ صحرائی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے زندگی بڑی سخت ہوتی ہے۔ پانی کا حصول دشوار ہوتا ہے۔ اس نایاب جنس کو حاصل کرنے کے لیے لوگ روزانہ کئی کئی میل تک پیدل چلتے ہیں۔

صحرائی باشندوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے سائنس داں بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی توجہ کا مرکز ایسے آلات کی ایجاد پر ہے جو ہوا میں شامل نمی کو ’ قید‘ کرکے پانی میں تبدیل کرسکیں۔ اس ضمن میں ہارورڈ یونی ورسٹی کے سائنس دانوں نے اہم پیش رفت کی ہے۔ انھوں نے ایک ایسا میٹیریل یا مادّہ تیار کرلیا ہے جو ہوا سے پانی کشید کرسکتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ میٹیریل ناگ پھنی، کوزہ برگ پودے جیسی صحرائی نباتات اور ریگستانی کیڑوں کی خصوصیات سے متأثر ہوکر تیار کیا گیا ہے۔ صحرائی پودے اور ریگستانی فضا میں اڑنے والے بھونرے ہوا سے پانی کشید کرسکتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق ان کی یہ تحقیق ایک ایسے نظام کی بنیاد بنے گی جس کے ذریعے ریگستانی علاقے کی فضا میں پائی جانے والی نمی کو پانی میں تبدیل کرکے اسے آؓبی ذخیرے میں جمع کیا جاسکے گا۔ دوران تحقیق ماہرین نے نمیبیا کے صحرا میں پائے جانے والے پردار کیڑے کو پیش نظر رکھا جو اپنے خول پر اُبھری ہوئی ساختوں کے ذریعے آبی قطرے جمع کرتا ہے۔ اسی طرح ناگ پھنی کے تیز کانٹے فضا کی نمی کو اپنی ’ گرفت‘ میں لے کر پانی کے قطروں میں بدل دیتے ہیں۔ یہ قطرے کانٹوں پر سے پھسلتے ہوئے پودے کے تنے میں جذب ہوجاتے ہیں۔ تحقیقی ٹیم کی رکن جوآنا آئزنبرگ نے اس بارے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا،’’ ہم نے صحرائی کیڑوں اور پودوں کی آب گیر خصوصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میٹیریل ڈیزائن کیا ہے۔ اس میٹیریل میں پودوں اور حشرات کی یہ خصوصیات یکجا کردی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں اس میںSlippery Liquid-Infused Porous Surfaces (SLIPS) ٹیکنالوجی بھی استعمال کی گئی ہے، جس کے ذریعے یہ ہوا سے آبی بخارات کو ’ گرفت‘ میں لے کر انھیں قطرۂ آب میں تبدیل کردیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے اس میٹیریل کی مدد سے وہ جلد ہی ایک ایسا نظام تشکیل دینے میں کام یاب ہوجائیں گے جو ہوا سے پانی کشید کرکے اسے آبی ذخیرے میں جمع کرے گا۔ یہ نظام صحرائی باشندوں کے لیے ایک بڑی نعمت ثابت ہوگا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *