تجھ سے ناراض نہیں"مولانا"حیران ہوں میں!

column kahani

گذشتہ کئی دنوں سے پاکستان میں ایک"بِل" تماشا لگا ہوا ہے۔یوں تو بڑے بڑے ترقی پسند اور سیکولرازم کا دعویٰ کرنے والے ارباب فکر و صحافت بھی مضمحل و بے قرار نظر آئے لیکن مولانا فضل الرحمن تو گویا"بِلبِلا" ہی اٹھے۔اتنا واویلا تو کوئی مرگِ ناگہانی پر بھی نہیں کرتا جتنا مولانا نے اِس بل پر کیا.. بس سینہ کوبی کی ہی کمی رہ گئ ۔دیگر حضرات گرامی نے بھی دہائیاں دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر مولانا تو نہ جانے کیوں بے حد عدم تحفظ کا شکار ہوگئے۔معذرت کے ساتھ، کچھ ایسا محسوس ہونے لگا کہ اس بِل کے تحت پاس کیے جانے والے قانون میں عورت پر تشدد کرنے والے مرد کو عورت سے خاص فاصلے پر رکھنے کے لیے جو"کڑا" تجویز کیا گیا ہے اس کیً چھنکً مولانا کو اپنے آس پاس سنائی دے رہی ہے۔ حالانکہ مولانا کا شخصی رکھ رکھاؤ دیکھ کرکہاجاسکتا کہ کہ وہ بہ باطن بہت ملُوک شخصیت کے حامل ہونے کے ناطے اپنی زوجہ محترمہ کے باقاعدہ مرید ہوں گے۔ان کی عورت سے متعلق معاملات میں حسّاسیت اورتمام جزئیات پر گہری نظر رکھنایونہی تو نہیں۔ آخر اس امر کے لیے خاص طرح کی جمالیاتی حس کا ہونا ضروری ہے ورنہ صنفِ کرخت عموماً کہاں اِن تفصیلات میں جاتی ہے۔ مولانا جی نے حافظ حمد اللہ صاحب اورجملہ مصاحبین کی مدد سے اس اقدام کے غیر شرعی پہلوؤں ، مردوں کے حقوق کی پامالی ،شادیوں کی تباہ حالی اور معاشرے کی زبو ں حالی پر غضب کے بیانات دیے۔ ہماری حیرت تو بس اتنی ہے کہ وہ حضرات تو ناگواری محسوس کریں یا شورشرابا کریں کہ جو عورت پر جبر کے عادی ہیں .. مگریہ عورتوں کے حقوق اور اپنے فرائض کاخیال رکھنے والے اہلِ دیں اتنے مضطرب کیوں ہیں؟ ہمارا دین تو حق دار کا حق مارنےوالےکوخواہ وہ مرد ہو یا عورت، ہرگز بھی معاف نہیں کرتا۔ عورت کا اپنے گھر کی چاردیواری میں محفوظ رہنا اُس کا حق ہے جس کی نشاندہی شریعت بار بار کی گئی ہے۔چاہے وہ رشتہ شوہر کا ہو، بھائی کا یاباپ کا۔ ویسے ہمارے یہ تسّلط پسند مردبلاوجہ پریشان ہیں۔ ان کی طرف سےکسی عورت پر کیے جانے والے ظلم و زیادتی کے پس منظر میں بعض اوقات تو کوئی حاکم مزاج عورت ہی ہوتی ہے. ظالم مرد بیچارہ تو محض آلہء کار ہوتاہے۔ اس کے نفسیاتی بگاڑ کے عقب میں دیکھا جائے تو دور یا نزدیک عموماًنسوانی عکس ہی دکھائی دیتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اگر استحصال کرنے پر آئے تو عورت ہی عورت کو نشانہ بنانے میں بالکل عار محسوس نہیں کرتی۔گویا یہ منفی رویے کسی بھی صنف اور فرد کی شخصیت کا حصہ ہوسکتے ہیں اور جو افراد مثبت فکر رکھتے ہیں, اُن پرعذاب بھی گذر جائیں تب بھی ردّ عمل میں دوسرےکو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ خیر بات 'مولانا' کی ہورہی تھی ۔۔۔یقیناًاُن کا شمار اُس قبیلے میں ہوتا ہوگاجو اپنی شریکِ حیات کی کنگھی چوٹی تک کا خیال رکھتے ہیں۔اجی یہ صاحب, جو '' ڈیزل'' سے گہری انسیت و محبت رکھتے ہیں تو وجودِ زن کے لیے دل کشادہ کیوں نہ رکھتے ہوں گے کہ جناب بقولِ اقبالً وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگً ۔۔۔۔۔۔ گرامیء قدر اگر منصف مزاج شوہر ہیں تو ڈر کاہے کا؟؟ جانے کیوں شبہ سا ہورہا ہے کہ اِس شورشرابہ کےجذبہٴ vپشیمانی تو نہیں چھپا ہوا .. ایسا ہوتا ہے۔۔۔کبھی کبھی انسان اپنا احساسِ جرم چھپانے کے لیے بھی بلند آہنگ لہجے اختیار کر لیتا ہے۔بالکل ایسے جیسے چند ماہ پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے شوہر آصف علی زرداری نے بھی فلک شگاف لہجے میں آرمی اسٹیبلشمنٹ کی اپنے تئیں اینٹ سے اینٹ بجائی تھی۔اس کے تناظر میں بھی موصوف کا شدید ذہنی خلفشار کارفرما تھا کیونکہ جب احتساب کے حوالے سے ان کے عزیز واقارب، وزیر و مشیر زد میں آنے لگے تو موصو ف کو یقین نہ آیا.۔وہ تو وقت کے کسی لمحے میں خود کو ناقابل تسخیر سمجھ بیٹھے تھے اور اس زعم میں بیشتر , حاضر و سابق حکمرانوں کی طرح اپنی ذات کو جوابد ہ نہیں سمجھتے تھے،نہ اللّہ کی عدالت میں، نہ عوام کی۔۔۔ تو بس زرداری صاحب کو زور کا دھچکا لگا اوربالآخر اپنا جذباتی توازن کھو بیٹھے۔پاکستان کی سرزمین کا تو مقدر ہی یہی ہے کہ اس پر جو بھی حکومت کرتا ہے وہ اپنے قول و فعل میں (نعوذباللہ) خدائی کا دعویدار بن بیٹھتاہے۔ خالق کائنات نے قرآن کی سورہ العصر جب کہمیں قسم کھا کر کہا ہے کہ"بے شک انسان خسارے میں ہے "۔۔۔رہے نام اللّہ کا!!!!!!

تجھ سے ناراض نہیں"مولانا"حیران ہوں میں!” پر بصرے

  • مارچ 13, 2016 at 3:00 PM
    Permalink

    نوشی جی آداب یہ کالم تو ایک واردت مولانا ہی لگ رہا ہے بہت داد عورتوں سے معذرت کے ساتھ

    Reply
  • مارچ 14, 2016 at 6:04 PM
    Permalink

    ایک شاعرہ کا انداز شاعری میں الگ اور عام تحریر میں بالکل الگ نظر آرہا ہے

    Reply
  • مارچ 16, 2016 at 11:21 PM
    Permalink

    محترمہ نوشی گیلانی صاحبہ آپکوشایداپنےحقوق کاعلم ہی نہیں آپ مطالعہ اسلام فرمائیں آپکواپنےحقوق سمجھ آجائیں گے وہی نافذکرادیں کسی کوکوئ اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔۔مغرب نے تواپنےماں باپ کےحقوق چھین لیےہیں ۔۔۔بیوی کاتوکوئ حق ہیں نہیں آپ نےوہ قانون پاس کرنےکےشادیانےبجائےہیں جومغرب میں بھی نہیں۔۔۔۔

    Reply
  • مارچ 22, 2016 at 4:23 AM
    Permalink

    مولانا کو اپنے " اعمال " ڈرا رھے ہیں ـ

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *