نکاح، شادی کا فرق اور لونڈی کی لذت

naeem baloch1 مفتی عبدالقوی کے ’’درفنطنی‘‘ نما فتوے نے مرَدوں کوجوگدگدی کی  وہ قارئین پڑھ بھی رہے ہیں اور محسوس بھی کر رہے ہیں۔ ہمار ے خیال میں یہ فتویٰ اس طرح کے خلطِ مبحث سے پیدا ہو ا ہے کہ’ شرعی حکم اور ملکی قانون کیا دو مختلف چیزیں ہیں؟ گناہ اور جرم میں کیا فرق ہے اور وہ جرائم جن کی ملکی قانون میں سزاہے ، کیا ان کے مجرمین کو گناہ ہوتا ہے یا نہیں ؟
ان سوالوں پر بحث بعد میں کرتے ہیں پہلے ایک دلچسپ واقعہ سن لیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ایک ایسے پبلشنگ ہاؤس سے وابستہ تھا جو اسلام پر سب سے معیاری کتب شائع کرنے کی شہرت رکھتاہے ۔ اس کے ایم ڈی کے ہمراہ ہم مال روڈ سے الحمرا کی طرف جارہے تھے جہاں نمایشِ کتب جاری تھی۔ ڈرائیونگ موصوف خود فرما رہے تھے ۔ انھوں نے راستے میں آنے والے کسی ’’اشارے‘‘ کو درخورِ اعتنا ‘‘ نہ سمجھا۔ جب وہ ریگل چوک پر متعدد گاڑیوں کو جل دے کر فراٹے بھرتے ہوئے کامیابی سے گزر گئے تو میں نے باقاعدہ صدائے احتجاج بلند کی۔ ساتھ ہی کہا کہ قانون توڑنا تو ویسے بھی گناہ ہے۔ تب انھوں نے فرمایا : ’’کس حدیث میں لکھا ہے کہ اشارہ توڑنا گناہ ہے‘‘۔ان کے کہنے کامطلب یہی تھا کہ شریعت میں کیونکہ ایسی کوئی پابندی بیان نہیں ہوئی اس لیے یہ گناہ کیسا ؟یہ توآج سے کوئی پندرہ برس پہلے کی بات ہے ۔کل سٹاف روم میں جب ’’ایک شادی اور متعدد نکاحوں پر ’’ پرُ لذت ‘‘ گفتگو ہو رہی تھی تو ہم نے ایک مولانا قسم کے کولیگ سے پوچھا:حضرت ،اگرکوئی شخص گواہوں اورمہر کی شرط پوری کرکے نکاح کرلے لیکن اس کی رجسٹریشن نہ کرائے اورنکاح نامے پر دستخط کے بجائے زبانی ایجاب و قبول کروالے تو کیا نکاح ہوگا؟ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے ’’حلال‘‘ کہلائیں گے؟ انھوں نے پورے اخلاص سے فرمایا: بالکل ، مگریہ شرعی نکاح ہوگا، مگرقانونی نہیں!
تو صاحبان! ہمارے ہاں وہ حکم جوقرآن وسنت سے اخذ کیا جاتا ہے ،اسے شرعی کہا جاتا ہے اور آئین و دستور کے لحاظ سے جو کچھ ملک میں نافذ ہے اسے قانون۔ جو لوگ اس فرق کو روا رکھتے ہیں، ان کے نزدیک ملکی قانون کا ذکر اگر قرآن وحدیث میں ہے تو اس کی خلاف ورزی گناہ ہوگی ورنہ نہیں۔یعنی ٹیکس ادا نہ کرنا غیر قانونی حرکت تو ہے لیکن گناہ نہیں ، البتہ زکوٰۃ فرض ہونے کے باوجود ادا نہیں کی جاتی تو یہ گناہ ہے۔ اسی طرح اگرکوئی شخص بیوی کی اجازت کے بغیردوسری شادی کرتا ہے ، تو یہ قانون کی خلاف ورزی تو ہے لیکن شریعت کی نہیں ، اسی لیے یہ ایک جائز کام ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہیں سے ’’فلسفہ داعش والقاعدہ ‘‘ کی بنیاد پڑتی ہے۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے اس کی سنگینی واضح کرنے کی غرض سے میں قبلہ اوریا مقبول جان کے تازہ فتوے کی طرف توجہ دلانا مناسب سمجھوں گا،(محترم دوست آصف افتخار سے معذرت کے ساتھ ، شاید انھیں اب بھی اندازہ نہیں کہ القاعدہ اور داعش کے فلسفے کی آبیاری کرنے والے اسلام کے یہ نادان دوست کس قدر خطرناک اثرات کے حامل ہیں۔)ان کے نزدیک آج کے اس دور میں لونڈیاں بالکل جائز ہیں اور اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت خلیفہ وقت ہوتے تو جنگ ستمبر میں کھیم کرن کے معرکے میں گرفتار ہونے والی عورتیں (جوبھارتی مسلمان بھی ہوسکتی ہیں) فوجیوں میں تقسیم ہوتیں۔
اس فلسفے کی لےَ جب تک عبادات اور چند دیگر بے ضرر رسوم واحکام تک رہی تو ریاست نے بھی اسے برداشت کیا اور معاشرے نے بھی، مگر جب اس کی زد میں جہادو قتال اور جرم و سزا کے معاملات آئے تو ریاست کے کان کھڑے ہو گئے۔ جہاد و قتال کا معاملہ جب تک ریاست کے مخالفوں یا غیرمسلموں تک محدود رہا تو اسے بھی قبول کیا گیا لیکن جب اس کی زد میں’’ امریکی اتحادی‘‘یا ’’گمراہ فرقے‘‘ یا ’’گستاخان رسالت‘‘ آئے تو یہ غیر سرکاری مگر مقدس مجاہد ’’ باغی‘‘ قرار پا ئے۔ اسی طرح معاملہ جب تک یہ رہا کہ نماز اور روزہ شریعت کے احکام ہیں، اسی لیے ملکی قوانین کو ان سے کوئی لینا دینا نہیں اور ٹریفک کا اشارہ توڑنا ، یا سمگلنگ نہ کرنے کے بارے کوئی ’’نص ‘‘یعنی قرآن وشریعت میں کوئی حکم نہیں اس لیے یہ کوئی گناہ نہیں۔ ویزا ، پاسپورٹ بھی دور حاضر کی بدعات ہیں لہٰذاان کی پابندی کی بھی چنداں ضرورت نہیں۔اسی لیے جب یہ حقیقت بیان کی جاتی تھی سرحدی علاقوں میں لوگ نماز روزے کے بہت پابند ہیں لیکن سمگلنگ میں بھی ملوث ہیں تو اس پر حیرانی ظاہر کی جاتی تھی، تو اس کی اصل وجہ بھی یہی تھی کہ اس کام میں ملوث لوگ اسے کسی ’’شرعی حکم ‘‘ کی خلاف ورزی نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ جب القاعدہ اور داعش کے ’’منافقت ‘‘ سے پاک ’’سچے مسلمانوں ‘‘نے دین اور دنیا کی تفریق ختم کی اور تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نماز اور روزہ، پردہ اور داڑھی اور اس طرح کے ’’شرعی حکم ‘‘ کی پروا نہ کرنے والوں کے لیے سزا کا اعلان کیا تو یہ گویا قانون او ر شرعی حکم کے فرق کو ختم کرنے کی بات تھی ۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کم و بیش تمام مذہبی لوگوں نے طالبان اور القاعدہ کی حمایت کی البتہ اختلاف صرف حکمت عملی کا تھا ورنہ اصول میں ان میں سے کسی کو اختلاف نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے طالبان نے ’’ فرقہ واریت ‘ سے اوپر اٹھ کر ممتاز قادری کے قتل کا بدلہ لیا کیونکہ ان کے نزدیک اس کا عمل ’’شریعت کے عین مطابق ‘‘ تھا۔ ہمارے خیال میں جب تک شریعت اور قانون میں یہ فرق روا رکھا جائے گا داعش، القاعدہ اور طالبان کا فلسفہ زندہ رہے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کی تعبیر ہر ایک فرقے میں علیحدہ علیحدہ ہے ، اور ہر فرقہ اپنے اپنے مقلدین اور عقیدت مندوں کو یہ پابند کرتا ہے کہ اسے اسی شریعت پر عمل کرنا ہے جس کو وہ درست سمجھتا ہے ، اور اگر اس پر عمل کرتے ہوئے وہ ملکی قانون توڑتا ہے تو یہ کوئی جرم نہیں ، بلکہ عین اسلام ہے۔ اسی لیے ہمارے ہاں شیعہ حضرات نے اپنے آپ کو زکوٰۃ کی ادائیگی سے مستثنیٰ کروایا۔ان کے ہاں وقتی نکاح یعنی متعہ کوئی جرم نہیں ، ہر فرقے کے مولوی صاحب کے نزدیک اگر کوئی مرد بیوی کی اجازت کے بغیر شادی کرتا ہے تو بالکل جائز ہے ، نافرمان بیوی کی ٹھکائی کرتا ہے تو لاکھ ملکی قانون کی خلاف ورزی ہو ، شریعت کی رو سے عین جائز کام ہے ، وغیرہ۔ اس سے بھی آگے بڑھیں اصل فتویٰ یہی ہے کہ اگر کوئی مسلمان شخص اسلام چھوڑ دیتاہے تو وہ واجب القتل ہے ۔ ریاست کے نزدیک یہ کوئی جرم نہیں، اس لیے وہ کوئی سزا نہیں دے گی لیکن کوئی شخص’’ غیرت ‘‘ میں آکراسے ’’ جہنم رسید ‘‘ کر دے تو اوریا مقبول جان یہی فرمائیں گے کہ اس غیرت مند نے وہی کام کیا جو عمر فاروقؓ ہوتے تو کرتے ، اس لیے یہ قابل تحسین فعل ہے۔ ایک قدم اور آگے بڑھائیں ، ایک اہل حدیث یہ کہے گا کہ بریلوی غیر اللہ سے مانگ کر شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اور مشرک واجب القتل ہے، لہٰذاجس نے غیر اللہ سے مانگا وہ مرتد بھی ہو گیا ،اس لیے ’’مباح الدم ‘‘ہے ۔ بریلوی کہیں گے کہ اہل حدیث ہمارے رسول ﷺ کی شان کم کرنے کے مجرم ہیں جو کہ توہین رسالت کی ذیل میںآتا ہے اس لیے یہ گستاخ بھی واجب القتل ہے۔ یوں اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ اگر شریعت اور قانون میں تمیز روا رکھی گئی تو یہ نقطہ نظر کیا گل کھلا سکتا ہے اور یقین جانیے کہ اس کی ابتدا ہو چکی ہے۔ لال مسجد میں اور کچھ نہی اسی سوچ کو عملی جامہ پہنا یا گیا تھا۔ اس لیے اس کا اس کے سوا کوئی حل نہیں شریعت اور ملکی قانون کی گمراہ کن اور انتہائی ناقابل عمل اور خوفناک تفریق ختم کر دی جائے۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ حکم کہاں بیان ہوا ہے تو عرض ہے اس ملک پر وہ آئین نافذ ہے جسے ہر مکتبِ فکر نے قبول کیا ہے اور اس کی پابندی کرنے کاحلف اٹھایا ہے۔ ہم سب پر لازم ہے کہ اگر اس کے کسی حکم سے اختلاف بھی ہے تواس کی پابندی کریں کیونکہ قرآن مجید ہمیں حکم دیتا ہے کہ: ’’ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول اور اپنے حکمرانوں کی۔’ (سورہ النساء آیت 59) پھر ہمارا آئین اس بات میں واضح ہے اس میں کوئی قانون قرآن وسنت کے منافی نہیں ہو سکتا۔ اگر ہے تو اس کو ختم کرنے یا تبدیل کرنے کا طریقہ کار بھی موجود ہے ۔ اس لیے کسی گروہ کو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنا اپنا قانون نافذ کرنے بیٹھ جائے ۔ رہی یہ بات کی اگر کوئی قانون خلاف اسلام ہو پھر کیا کریں ۔ اس پر اگلی نشست میں بات ہو گی لیکن ابھی اس سوال پر غور کریں کہ کیا شریعت اور قانون میں فرق کرکے اس ملک میں قانون کی پاس داری ممکن ہے ؟کیا اس اجازت کے ہوتے ہوئے کسی عبدالقویٰ کے فتوے کا رستہ روکا جا سکتا ہے ؟

نکاح، شادی کا فرق اور لونڈی کی لذت” پر بصرے

  • مارچ 13, 2016 at 7:06 AM
    Permalink

    غیر سرکاری مقدس مجاہد ایک عمدہ ترکیب. واہ.

    Reply
  • مارچ 13, 2016 at 9:08 AM
    Permalink

    Naeem Baloch raised a very important issue which indicates an anamoly between state laws and Islamic shariya. Unfortunately we, as a nation, are victim of hypocrisy and pulling our cart of life by two mustangs. Since we have not strived to cook both laws (state & Islamic) as one dish so we are facing a hypocrisy at height. This is a failure of the governments and the institutions

    Reply
  • مارچ 14, 2016 at 6:17 PM
    Permalink

    Do you have Twitter account please?

    Reply
  • مارچ 16, 2016 at 1:40 PM
    Permalink

    It means if the indian soldiers are raping muslim girls and women in kashmir and Serbs in Bosnia then they are also doing the right thing. It is great of you Mr Orea Maqbool JanYou are nothing but an infernal beast

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *