Site icon DUNYA PAKISTAN

سفر حجاز: مدینہ منورہ کی سیر و سیاحت

Share

مدینہ منورہ میں آخری دن اس شہر مقدس کی سیر و سیاحت اور زیارات میں گزرا۔ تین برس قبل بھی میں نے زیارتوں کی سعادت حاصل کی تھی۔ اس مرتبہ کا تجربہ مگر منفرد تھا۔ اور خوشگوار بھی۔ وجہ حافظ قاسم روف مدنی صاحب تھے۔ حافظ صاحب مدینہ منورہ میں حج و عمرہ کمپنی خدام الحرمین انٹر نیشنل کے نمائندہ خصوصی ہیں۔ صاحب علم شخص ہیں۔ مدینہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ اپنی دو کتابیں لکھنے میں مصروف ہیں۔ جتنے دن ہم مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہے، حافظ قاسم صاحب ہر طرح کی مدد اور رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ انہوں نے زیارتوں کی پیشکش کی تو ہم سب تیار ہو گئے۔ اگلے دن وقت مقررہ پر وہ اپنی گاڑی سمیت ہوٹل پہنچ گئے۔ ہمیں کئی گھنٹے گھماتے رہے۔ ہر مقام کی تفصیلی تاریخ اور اہمیت سے آگاہ کرتے رہے۔ راستہ بھر اسلامی واقعات اور ایمان افروز باتیں بتاتے رہے۔
اس شہر مقدس میں گھومتے پھرتے خیال آتا کہ کیسا پیارا شہر ہے۔ کو بہ کوپیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یادیں جہاں ثبت ہیں۔ مسجد قبا کی زیارت کی۔یہ تاریخ اسلام کی پہلی مسجد ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے یثرب پہنچے تو اس بستی میں قیام فرمایا۔ دوران قیام اس مسجد کی بنیاد رکھی۔ کیسی با سعادت مسجد ہے جسکی شہادت قرآن کریم کی سورت توبہ میں بھی ملتی ہے۔ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اس میں دو رکعت نفل پڑھنے کا ثواب، ایک عمرہ کے برابر ہے۔ ہم سب نے بھی نوافل پڑھے۔ کبوتروں کو دانہ ڈالا۔ کچھ تصاویر لیں۔ کچھ برسوں سے عادت میری یہ ہے کہ جب بھی کسی دوسرے ملک کا سفر کرتی ہوں۔ دعا مانگتی ہوں کہ بار بار مجھے یہاں آنا نصیب ہو۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ بیشتر اوقات اللہ انہی جگہوں پر دوبارہ لے جاتا ہے۔ میں انہی ہوائی اڈوں (air-ports) سے گزرتی ہوں۔ انہی ہوٹلوں میں ٹھہرتی ہوں۔ انہی شاپنگ مالز سے خریداری کرتی ہوں۔ انہی مقامات پر گھومتی پھرتی ہوں۔ مسجد کی زیارت کرتے، مجھے مسجد قبا کی گزشتہ زیارت اور اس وقت مانگی دعا یاد آگئی۔ ایک مرتبہ پھر دعا کی کہ اللہ پاک دوبارہ یہاں آنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔مسجد قبلتین کی زیارت کی۔ پہلے پہل مسلمانوں کا قبلہ مسجد اقصی ہوا کرتا تھا۔پیارے نبی نماز کی ادائیگی فرما رہے تھے۔ دوران نماز سورت بقرہ کی آیت 144کے ذریعے تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا۔حضور نے اپنا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ (کعبہ) کی طرف پھیرلیا۔ ایک نماز چونکہ دومختلف قبلوں کی جانب رخ کر کے پڑھی گئی تھی، اس لئے یہ “مسجد قبلتیں ” یعنی دو قبلوں والی مسجد کے نام سے جانی جاتی ہے۔
عبرت کی تصویر بنا کعب بن اشرف کا قلعہ دیکھا۔ کعب عرب کا مالدار شاعر تھا۔ اس کی اسلام دشمنی اور بغض حد سے متجاوز تھا۔ اپنے اشعار میں یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ اور صحابیات کے متعلق ہرزہ سرائی کیا کرتا۔ صحابی رسول محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اسے جہنم واصل کیا تھا۔ اس قلعے کی دیواریں اور دیگر آثار تاحال موجود ہیں۔ پہلے اس میں داخلہ کی اجازت تھی۔ کچھ برسوں سے اس کے گرد باڑھ لگا کر داخل ہونے کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔
جبل احد کا تذکرہ ہم بچپن میں اسلامیات کی کتابوں میں پڑھا کرتے تھے۔ اس پہاڑ کے متعلق حضور نے فرمایا ہے کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ احدپہاڑ دیکھ کر خیال آیا کہ اس نے پیارے نبی اور صحابہ کرام اجمعین کی زیارت کر رکھی ہے۔ انکے مبارک قدموں کے نشان اس پر موجود ہیں۔ آج بھی یہ پہاڑ اپنے جاہ و جلال اور استقامت کیساتھ کھڑاہے۔ کچھ فاصلے پر جبل رماۃ (تیر اندازوں کا پہاڑ) واقع ہے۔ یہ قصہ بھی ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ عزوہ احد کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن جبیرکی قیادت میں پچاس تیر اندازوں کو اس پہاڑی پر کھڑا کیا تھا۔ ہدایت کی تھی کہ جنگ کے نتائج کچھ بھی ہوں یہ جگہ مت چھوڑنا۔ مشرکین کو شکست ہوئی تو اکثر تیر اندازوں نے سمجھا کہ جنگ اختتام پذیر ہوئی۔ لہذا جگہ چھوڑی اور مال غنیمت سمیٹنے لگے۔ محاذ خالی دیکھ کر مشرکین پلٹ کر حملہ آور ہوئے۔ نتیجہ میں بہت سے صحابہ کرام اجمعین شہید ہوگئے۔ حضور اقدس کے دندان مبارک بھی شہید ہو ئے۔پہاڑی کے عین سامنے شہدا ء احد کا قبرستان ہے۔ ان شہیدوں کی زیارت مسنون ہے۔ ہم سب نے بھی زیارت کی۔ ان کے بلند ی درجات کی دعا کی۔

مزید پڑھئیے
سفر حجاز کی یادیں! قسط 3
سفر حجاز: ایک ہندو جو مدینہ یونیورسٹی اور مسجد نبوی کا معلم بن گی

وہ مقام بھی دیکھا جہاں عزوہ خندق کے ہنگام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کی تجویز پسند فرماتے ہوئے خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ آج وہاں پختہ سڑک گزرتی ہے۔ بئر رومہ (حضرت عثمان کا کنواں) دیکھا۔ حضرت عثمان کی امارت اور سخا وت کے قصے بچپن میں سنا اور پڑھا کرتے تھے۔ میٹھے پانی کا یہ بڑا کنواں ایک یہودی کی ملکیت تھا۔ لوگ مہنگے داموں اس یہودی سے پانی خریدنے پر مجبور تھے۔ حضور اقدس کی ہدایت پر حضرت عثمان نے انتہائی مہنگے داموں یہ کنواں خریدا اور مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔حضرت عثمان کا باغ اور ان کا کنواں آج بھی اصل حالت میں موجود ہے۔ کچھ برسوں سے مگر اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ان مقامات اور دیگر جگہوں پر گھومتے پھرتے شدت سے احساس ہوا کہ اسلامی تاریخ سے متعلق میری معلومات کس قدر ناقص ہیں۔ عمومی طور پر ہم نے اسلامی تاریخ کو نصابی کتب تک محدود کر رکھا ہے۔ بے مغز اور لا یعنی سیاسی موضوعات پر توہم خوب دلچسپی سے لکھتے بولتے ہیں۔ اسلامی تاریخ پڑھنے اورلکھنے بولنے کی لیکن توفیق نہیں۔پختہ ارادہ کیا کہ نبی صلی اللہ وسلم کی حیات مبارکہ، غزوات، صحابہ کرام اجمعین کی زندگی سے متعلق کتابیں با قاعدگی سے پڑھوں گی۔ اپنے شاگردوں کو بھی اس جانب مائل کرنے کی کاوش کروں گی۔
بالآخرشہر نبوی کو الوداع کہنے کا دن آن پہنچا۔ تنگی وقت کے باعث، مسجد نبوی کا گیٹ عبور کرتے ہی نماز فجر کے لئے کھڑی ایک جماعت میں شامل ہو گئی۔ صحن کے اس حصے سے آگے جانا میرے نصیب میں نہیں لکھا تھا۔ بھاگم بھاگ ہوٹل واپس آئی۔ پہلے سے بندھا سامان اسباب تھاما اور شہر مدینہ سے روانہ ہوئے۔ میقات پہنچے۔ احرام اور عمرہ کی نیت باندھی۔ تلبیہ کا ورد کرتے مکہ معظمہ کی طرف گامزن ہوگئے۔ گاڑی کی کھڑکی سے باہر جھانکتے خیال آتا رہا کہ مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے وقت، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر کی ہمراہی میں انہی راستوں سے گزرے ہونگے۔ نماز ظہر کی ادائیگی اور کھانے کیلئے راستے میں ایک مقام متعین پر پڑاوکیا۔ چند ریستوران یہاں واقع ہیں۔ زائرین کی کئی بسیں اور گاڑیاں یہاں پرکھڑی تھیں۔ دور دور تک آبادی کا نام و نشان نہیں۔ تاحد نگاہ تک پھیلے پہاڑ اور طویل سڑکوں کے سوا اس جگہ پر کچھ نہیں تھا۔ اس کے باوجود جنگل میں میلے کا سماں تھا۔ اللہ کی قدرت کا خیال آیا جس نے بیاباں کو آباد کر رکھا ہے۔ کالم لکھ رہی ہوں تو خیال آتا ہے کہ جنگل بیاباں میں سجا وہ میلہ بھی اس وبائی صورتحال کی نذر ہو گیا ہو گا۔
کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد منزل مقصود (یعنی مکہ مکرمہ) پر آن پہنچے۔ ہوٹل کے کمرے کی کھڑکی سے مسجد حرام کا صحن دکھائی دے رہا تھا۔ تھکن کے باعث نماز عصر کمرے میں ہی اداکر سکے۔ کھانا کھانے اور تازہ دم ہونے کے بعد عمرہ کی ادائیگی کیلئے حرم مبارک کا رخ کیا۔ امی پیدل طواف اور سعی کی متحمل نہیں تھیں۔ انہیں وہیل چیئر پر بٹھایا۔ صحن کعبہ میں داخلے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ وہیل چیئر پر طواف کیلئے بالائی منزل مختص ہے۔ فیصلہ ہوا کہ ہم سب اکھٹے بالائی منزل پر طواف کرتے ہیں۔ وہیل چیئر تھامے طواف کا آغاز کیا۔برسوں سے حرم میں تعمیر و توسیع کا سلسلہ جاری ہے۔جابجا وقتی رکاوٹیں کھڑی ہیں۔ بالائی منزل پر طواف کا ایک چکر، نیچے صحن کعبہ میں لگائے جانے والے چکر سے غالبا چھ سات گنا بڑا ہے۔ اللہ نے مگر آسانی عطا فرمائی۔ نہایت سہولت سے طواف مکمل کیا۔ دو رکعت نفل ادا کئے۔ زم زم پیا۔مسعی (صفا و مروہ کے درمیانی جگہ) کا رخ کیا۔ سعی کے بعد نوافل پڑھے۔ اللہ کا شکر ادا کیا جس نے عمرہ کی توفیق اور سعادت نصیب فرمائی۔دل چاہتا تھا کہ صحن کعبہ میں جاوں۔ مگر مزید چلنے کی ہمت نہیں تھی۔ بیت اللہ کو انتہائی قریب سے دیکھنے اور چھونے کی حسرت لیے ہم سب ہوٹل واپس آگئے۔ (جاری ہے)

Exit mobile version