غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

abid-hassan-333x400
اداکارہ نرگس نے تھیٹر پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔نرگس نے چند سال پہلے سکارف پہن کر ایک دھماکے دار پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب فلم، سٹیج اور ڈانس کو خیرباد کہہ رہی ہیں۔جس کا فیصلہ انہوں نے چند سال پہلے حج کے دوران ہی کر لیا تھا لیکن کچھ معاشی مجبوریوں کی وجہ سے انہیں کچھ سال مزید سٹیج پر کام کرنا پڑا۔نرگس نے یہ بھی اعلان کیا تھا کے وہ عالمہ کا کورس کریں گی اور صرف ان ٹی وی شوز میں کام کریں گی جن میں ان کو سکارف کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہو گی ورنہ وہ ٹی وی پر بھی کام نہیں کریں گی۔ جونئیراداکاراؤں کو بھی انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے راہ راست پر آجائیں۔اس پر بہت سے لوگوں نے نو سو چوہے کھانے والی مثال بھی پیش کی، لیکن ۔۔۔لوگوں کا کام ہے کہنا۔
اب وہ سٹیج پر واپس آ چکی ہیں تو ان سے یہی امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ سکارف پہن کر مجرا کریں گی اور لوگوں کو اچھی باتوں کی تلقین کریں گی جو انہوں نے عالمہ کا کورس کرتے ہوئے سیکھی ہیں ۔ویسے بھی مارننگ شوز نے ڈانس کو روزانہ کی روٹین پر گھر گھر تک پہنچا نے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔اب ہم اس بات پر قائل ہو چکے ہیں کہ اگر دن میں ایک آدھ بار ڈانس نہ کیاجائے تو ہاضمے کے لیئے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اب ڈانس ویسی برائی نہیں رہی جو کسی زمانے میں صرف فلموں تک ہی محدود ہوا کرتی تھی۔
نرگس کی واپسی کے اعلان پر ان کے فینز خوش ہیں وہیں کچھ لوگ ان کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں کے کیسے میڈیا کے سامنے اعلان کر کے انہوں نے یو ٹرن لے لیا۔ ایسی تنقید کرنے والوں کی تنقید درست، لیکن بڑے بڑے دعوے کر کے ان پربوقت ضرورت یوٹرن لے لینا ہمارا قومی وطیرہ بن چکا ہے۔اور اب اس کام کو ہم ایک روٹین کی طرح لیتے ہیں۔
ابھی چند سال پہلے کی ہی بات ہے جب پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آصف علی زرداری کا یہ قول بہت مشہور ہوا تھا کہ وعدے قرآن اور حدیث نہیں ہوتے۔اس پر سب سے زیادہ شور اس وقت کی اپوزیشن جماعت، مسلم لیگ نواز نے مچایا تھا کہ آصف زرداری وعدے کر کے مکر گئے ہیں۔میڈیا نے بھی اس بات پر پیپلز پارٹی حکومت کے بہت لتے لیئے، لیکن 2013 کے الیکشن میں وہ ایک بار پھر سندھ میں الیکشن جیت کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔جو اس بات کا ثبوت تھا کہ عوام کو اپنی پارٹی کی وعدہ خلافیوں کی کوئی پرواہ نہیں۔
مسلم لیگ نوازنے الیکشن کے دنوں میں درجنوں وعدے کیے جو بعدمیں وفا نہ ہو سکے۔ایک وعدہ جس نے الیکشن جیتنے میں سب سے زیادہ اہم کردار اداکیا وہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا تھا۔ شہباز شریف صاحب نے چھ مہینے، ایک سال اور دو سال میں بجلی بحران ختم کرنے کی نوید سنائی۔ اکثر اوقات یہ دعوے انہوں نے اپنے بڑے بھائی اور پارٹی کے سربراہ میاں نوازشریف کی موجودگی میں کیے ۔لیکن اب جبکہ مسلم لیگ کی حکومت اپنی مدت کے تین سال پورے کرنے والی ہے، نوازشریف صاحب ہی بار بار یہ یاد دہانی کروا رہے ہیں کہ ہم نے بجلی بحران کے خاتمے کے لیئے کوئی وعدہ یا ٹائم فریم نہیں دیا تھا۔دوسری طرف وزیر واپڈا بھی یہ خوش خبری سنا رہے ہیں کہ لوڈشیڈنگ 2018 تک بھی ختم نہیں ہوگی۔ایک اور بڑے وعدے کے مطابق زرداری صاحب کا پیٹ(پیٹ ہے یا سوئیس بنک) پھاڑ کر اس میں سے قومی دولت نکالنا اور ان کو سڑکوں پر گھسیٹناتھا۔لیکن ہم نے دیکھا کہ زرداری صاحب کی رائے ونڈ آمد کے موقع پر ان کو ریڈ کارپٹ ریسیپشن اوردرجنوں کھانے کھلا کر ان کا پیٹ مزید بھر دیا گیا۔
عمران خان صاحب بھی الیکشن سے پہلے بہت سے وعدے کرتے نظر آئے لیکن خیبر پختونخواہ میں حکومت بنانے کے بعد وہ بھی ان میں سے چند وعدوں کو ہی عملی جامہ پہنا سکے۔لیکن ایک بات کا کریڈٹ ان کو ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے وعدوں اور دعوں سے کبھی انکار نہیں کیا اورمستقبل میں اپنے وعدے پورے کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔لیکن جتنی گرم جوشی انہوں نے شادی کرنے، اس کو میڈیا میں رکھنے اور پھر ختم کرنے کے سلسلے میں دکھائی، اگر اتنی گرم جوشی وہ اپنے وعدوں کی تکمیل میں دکھاتے تو اب تک وہ خاطر خواہ تبدیلی لا چکے ہوتے۔
اگر آپ اپنی نوکری سے تنگ ہیں اور اس کو بہت مشکل سمجھتے ہیں توفاروق ستا ر کو دیکھ لیں، آپکو اپنی نوکری آسان ترین لگنے لگے گی۔ فاروق ستار ہی کیا، تمام ایم کیو ایم لیڈران اور ورکرز کی حالت اس معاملے میں قابل رحم نظر آ تی ہے۔ ایک بات جس کو الطاف حسین صاحب کے حکم پر درست ثابت کرنے کے لیئے پوری پارٹی سر دھڑ کی بازی لگانے کے لیئے تیارہوتی ہے ، اگلے ہی دن سب اس کی مخالفت میں دلائل کے انبار لگاتے نظر آتے ہیں۔ صرف اس لیئے کہ رات بھر میں قائد تحریک سیاسی قلابازی لگا چکے ہوتے ہیں۔ ایک طرف یہ اعلان کہ پارٹی سربراہ نہیں ہوں، نہیں بھائی نہیں کی التجا ئیں اور پھر اگلے ہی لمحے پارٹی نہ چھوڑنے کا اعادہ۔ اسی طرح سندھ حکومت کا حصہ ہیں، سندھ حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ ڈرامے ہم تواتر کے ساتھ دیکھتے دیکھتے بور ہونے لگے تو قائد تحریک نے اپنے ورکرز کے لیئے بائیالوجی کلاسز کا آغاز کر کے سب کو پھر سے اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔آخری خبریں آنے تک یہ کلاسز کھڑکی توڑ رش لے رہی ہیں۔
اسی تناظر میں مولانا صاحب کی حالت اس سے بھی پتلی ہے(ان کی نہیں، جماعت کی)۔وہ مشرف صاحب کے دور حکومت سے ہی اپوزیشن میں رہ کر حکومت، اور حکومت میں رہ کر اپوزیشن نظر آنے کا ہنر جان گئے ہیں۔شاید اسی لیئے مشرف، زرداری اور نواز حکومت، تینوں کو ہی کامیابی سے رام کرتے نظر آئے ہیں۔ ان کے لیئے اصول تب تک اصول ہے جب تک اس کے بدلے میں کچھ وصول نہ ہو جائے۔اور اگر یہ وصولی پٹرولیم مصنوعات کی شکل میں ہو تو کیا کہنے۔
اس صورتحال میں المیہ تو یہ ہے کہ ملک کے اہم ترین عہدوں پر فائز لوگوں کی غلط بیانی اور وعدہ خلافی ان کے چاہنے والوں کے لیئے کسی طور بھی پریشانی کا باعث نہیں ہے۔ وہ اپنے لیڈر کی بے اصولی اوربددیانتی کو معاملہ فہمی اور سیاسی چال سے تشبیہ دیتے ہیں، جو اخلاق کے معیار پر چاہے پوری نہ اترے لیکن مخالف کو زیر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام زندگی میں بھی لوگ اپنے لیڈرز کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں۔ہم اپنی ذاتی زندگی اور روز مرہ کے معاملات میں بھی اکثر ایسے عہد اور دعوے کرتے ہیں جن کی تکمیل کا ہمیں خود بھی یقین نہیں ہوتا اور بوقت ضرورت ہم معکوس فیصلے کر لیتے ہیں۔ یہی ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ ہے۔ اگر نرگس نے دوبارہ سٹیج پر کام شروع کر دیا ہے تو اس میں اچنبے کی کیا بات ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *