انار کلی (2)

saeed.ahmed

بسنت رُت ہو، بہار کا موسم ہو، بارش برستی ہو تو لاہور پر جوانی ٹوٹ کر چڑھتی ہے اور لارنس گارڈن میں درختوں پر شباب اپنے جوبن پر ہوتا ہے، درختوں کی شاخیں تیز ہوائوں اور بارش میں اس طرح جھومتی اور لہراتی ہیں، جس طرح مینا کماری شراب پی کر جھومتی تھی۔ آج لارنس گارڈن پر لکھنا چاہتا تھا، مگر انارکلی بازار سے باہر نکلوں تو کوئی اور بات سوچوں، ابھی تو میں دہلی مسلم ہوٹل کے اُس کمرے کو دیکھ کر واپس آرہا ہوں ، جس میں کتھک مہاراج لاہور کی لڑکیوں کو کلاسیکی موسیقی سکھاتے تھے، اور شام کو عارف امان کے ساتھ شامیں رات گئے تک گذرتی تھیں۔ دہلی مسلم ہوٹل کے سامنے چند دوکانیں چھوڑ کر تاج ہوٹل تھا، اس کے اندر بھی بار تھا اور ممتاز ہوٹل کا بار بہت خوبصورت تھا۔ لاہور کے تین مے خانے تو صرف انارکلی بازار میں تھے۔ میں انارکلی سے بھاگنا چاہتا تھا، جس طرح کوئی بے وفا محبوبہ کو چھوڑ کر بھاگ جائے، بازار میں اب صرف چائے خانے ہی رہ گئے تھے۔ ایک بار احمد راہی نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بھٹو کو معاف نہیں کر سکتا، پچھلے 50 برسوں سے پی رہا تھا، اُس نے میری شراب ہی بند کر دی۔ مال روڈ کی طرف انارکلی سے سڑک پر قدم رکھا تو مجھے بھگت سنگھ کے قدموں کے نشان نظر آئے۔ 20 برس کی عمر کا گورا پنجابی نوجوان لاہور کے انگریز ایس ایس پی سانڈرس کو گولی مار کر گورنمنٹ کالج سے انار کلی کی طرف بھاگتا ہوا جا رہا تھا، وہ رات بھگت سنگھ نے نیلے گنبد کی مسجد کی چھت پر گذاری تھی۔ بھگت سنگھ کے قدموں کے نشانوں سے بچ کر سڑک پار کی تو سامنے بائیں ہاتھ پر تیسری دوکان میں نگینہ بیکری تھی۔ اُس زمانے میں نگینہ بیکری، عرب ہوٹل ، پاک ٹی ہائوس ادیبوں اور شاعروں کا ڈیرہ ہوتا تھا۔ نگینہ بیکری کی مشہور آلو کی ٹکیاں کھاتے ہوئے اور مزے دار چائے پیتے ہوئے میں نے اُس میز کی طرف دیکھا جس کے دونوں طرف صلاح الدین احمد ، چراغ حسرت اور سعادت حسن منٹو بیٹھے تھے۔ گورنمنٹ کالج کا بی اے کا طالبعلم مظفر علی سید نیو ہاسٹل واپس جاتے ہوئے، نگینہ بیکری سے آلو کی ٹکیاں لینے کے لئے رکا تو اس نے ایک زور دار آواز سنی، نگینہ بیکری کی میز پر مکا مارتے ہوئے کوئی شخص چیخ رہا تھا کہ پریم چند بنیا ہے۔ مظفر علی سید اندر گیا تو دیکھا کہ ادبی دنیا کے مالک اور مدیر مولانا صلاحالدین احمد نے اپنا فقرہ دہرایا، منٹو نے مظفر علی سید کا دیگر صاحبان سے تعارف کرایا۔ مظفر نے کہا مولانا۔۔۔۔۔ پریم چند بنیا تھا، آپ کیوں یہ کہہ رہے ہیں ، مظفر علی کی آواز میں غصہ اور لہجے میں تلخی تھی۔ صلاح الدین احمد نے کہا ۔۔۔۔۔ پریم چند نے ادبی دنیا کے لئے کہانی ارسال کی ، اور اُس کا معاوضہ 10 روپے طلب کیا۔ میں نے آٹھ روپے میں کہانی کو خریدنے کا خط لکھا، جواب آیا دس روپے نہیں دے سکتے تو کہانی واپس بھیج دیں۔ میں نے اگلے خط میں 9 روپے کی پیشکش کی ، جس کے جواب میں پریم چند نے 10 روپے طلب کئے، بصورت دیگر کہانی واپس مانگ لی۔ مظفر علی سید اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور مولانا کو اپنی بات سنا کر وہاں سے بھاگا، کہ مولانا بنیا کون ہے ، آپ یا پریم چند!

مظفر علی سید کہا کرتا تھا کہ اردو کے دو ادیبوں نے عملی طور پر اپنے معاشی حقوق کی جدو جہد کی تھی۔ پریم چند اور سعادت حسن منٹو۔ مظفر علی سید نے اس جدوجہد کو جاری رکھا، ایک دن بتایا کہ ہفتے میں دو کالم لکھتا ہوں۔ ایک کالم روٹی اور دوسرا سالن کے لئے۔ نگینہ بیکری کا مالک بڑے دل اور دماغ کا آدمی تھا، برصغیر پاک و ہند کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں کی صحبت میں وہ ایک بڑا دانشور بن چکا تھا، جس طرح پاک ٹی ہائوس کا الہی بخش اور ریگل چوک کے چائے اور سموسوں کی وجہ سے مشہور ہوٹل کا مجید ہے۔ مجید اس ہوٹل میں ملازمت کے لئے آیا تو پانچ جماعت پاس تھا، اسی ہوٹل میں کام کے دوران اس نے اردو ایم اے کیا اور منٹو کی میزبانی کرنے پر وہ بہت فخر کرتا ہے۔ صبح 10 بجے ہی وہ گلاس اوت برف تیار رکھتا تھا۔ ذکر ہو رہا تھا نگینہ بیکری کے بیگ صاحب کا، ان کے پاس ایک پرانی نوٹ بک تھی ، جس کے چند صفحات کی فوٹو کاپیاں کرانے کے لئے میں نے ہر حیلہ بہانہ کیا، منت فریاد کی اور منی مانگے دام دینے کے لئے کہا تو بیگ صاحب نے وہ نوٹ بک چھپا دی اور اس کے بعد اس یادگار نوٹ بک کا دیدار کبھی نہ کرایا۔ اس نوٹ بک میں تقسیم ہند سے پہلے اور اس کے بعد نامور ادیبوں کے کھاتے کھلے ہوئے تھے۔ ایک صفحے پر کرشن چندر کے نام کے آگے تین روپے ۔۔۔۔ راجندر سنگھ بیدی ایک روپیہ بارہ آنے، فکر تونسوی، کنہیا لال کپور، سعادت حسن منٹو دو روپے ، چراغ حسن حسرت ایک روپیہ آٹھ آنے ، احمد راہی، قتیل شفائی، تنویر نقوی اور نہ جانے کس کس کے نام کا کھاتہ تھا ۔۔۔۔۔ ملک تقسیم ہو گیا، بیگ صاحب کو نگینہ بیکری کے بند ہونے تک ایک بھی پیسہ وصول نہ ہوا۔ باری علیگ اور ظہیر کاشمیری کی رقم سب سے زیادہ تھی۔ 4 روپے 10 آنے۔۔۔۔۔

بیگ ایک وضع دار آدمی اور اخلاقی طور پر بہت مضبوط کردار کا مالک تھا، اُس نے مجھے کہا ۔۔۔۔۔ یہ میرا اور ادیبوں کا ذاتی مسئلہ ہے، میں کبھی بھی اس کی تشہیر نہیں کروں گا، افسوس اس نوٹ بک کے کھاتے داروں کے بارے میں دلچسپ اوراق کی اشاعت کے بارے میں اصل مفہوم کو بیگ نہ سمجھ سکا۔۔۔۔۔! مال روڈ کراس کرکے اب آگے پرانی انارکلی ہے۔ ٹولنٹن مارکیٹ کے سامنے کمرشل بلڈنگ کے کونے پر لاہور کی شراب کی مشہور دوکان ڈی پی ایڈل جی تھی۔ ایوب خان کے خلاف ہنگامے شروع ہوئے تو لاہور کے مال روڈ پر سرخ اینٹوں ، ٹوٹے ہوئے شیشوں اور لوٹی ہوئی دوکانوں کی بھرمار تھی۔ شراب کی دوکان پر حملہ ہوا، جس کا دائو لگا ، وہ بوتل لے کر بھاگا، دوکان پر اینٹوں کی بارش ہوئی اور شراب کی ٹوٹی ہوئی بوتلیں ہر طرف بکھری پڑی تھیں۔ اُس شام کو میں نے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم اور ظہیر کاشمیری کو بہت اداس دیکھا۔۔۔۔۔! پاکستان کے قیام کے بعد مسلمان شراب خریدنے کے لئے پرمٹ بنوا سکتے تھے۔ امان مرزا کی معلومات کے مطابق 1950 میں لاہور میں 14 ہزار پرمٹ ہولڈر تھے۔ مال روڈ پر شراب کی دوکانوں اور مے خانوں کے متعلق ذکر اگلے کالموں میں آئے گا۔ حبیب جالب پی کر پرانی باتیں اور اپنے ذاتی قصے بڑے مزے لے کر دلچسپ انداز میں سنایا کرتا تھا۔ ایک واقعہ تو اکثر لوگوں کو زبانی یاد ہو چکا تھا۔ منٹو ٹی ہائوس میں بیٹھا تھا، اُس نے جالب کو کہا کہ سامنے ایڈل جی کی دوکان سے آدھی بوتل جلدی سے پکڑ لائو۔ جالب راستے سے واپس آیا، اور کہا منٹو صاحب، آپ نے پرمٹ تو دیا نہیں۔ منٹو نے جالب کو دہشت گرد کی نظروں سے دیکھا اور کہا ۔۔۔۔۔ "منٹو"۔۔۔۔۔! حبیب جالب نے دوکان پر جا کر کہا ۔۔۔۔۔"منٹو"۔۔۔۔۔ اور اُدھر سے شراب کی بوتل لفافے میں ڈال کر پیش کی گئی۔۔۔۔۔ جالب کہا کرتا تھا کہ ، وہ بہت عرصہ " منٹو پرمٹ" پر شراب پیتا رہا۔ منٹو کی رحلت کے بعد جالب کی مشکلات میں اضافہ ہوا، لیکن وہ کہا کرتا تھا کہ ترقی اور روشنی کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔۔۔!

پرانی انارکلی بازار کی وسط میں ملک ہوٹل تھا۔ چائے کے ایک کپ پر ایک گیت سنایا جاتا۔ میں نے اور ذوالفقار رضوی نے کئی کپ چائے کے پئیے، اضافی گانوں کے لئے چار آنے ادا کرنے پڑتے تھے۔ اُس زمانے میں لتا اور رفیع کے جو گیت سنے، وہ آج بھی دماغ میں گونجتے ہیں! آدمی جو کہتا ہے، آدمی جو سنتا ہے، زندگی بھر وہ صدائیں پیچھا کرتی ہیں۔۔۔۔۔

انار کلی (2)” پر ایک تبصرہ

  • مارچ 18, 2016 at 8:05 PM
    Permalink

    سعید احمد کے مضمون میں "' منٹو پرمٹ "' کی ترکیب بہت پسند آئی ''

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *