مشرف بمقابلہ نواز شریف اور آفریدی vsمیاں داد

12806132_1008926899178185_6192945948289817376_n

میاں والی کا واقعہ ہونا چاہیے۔ منچلا رات دیر سے گھر پہنچا تو ابا کے ہتھے چڑھ گیا۔ ابا نے جیب کی تلاشی لی تو جیب سے کیپسن سیگرٹ کا پیکٹ، چرس کی ڈلی، شاہد کپور کی تصویریں اور کھسرے کا نمبر نکل آیا۔ ابا کی غیرتِ ایمانی کسی دھتکارے ہوئے سیاسی گنہگار کے ضمیر کی طرح جا گی اور طبعیت سے بچے کو دھو ڈالا۔ جتنی گالیاں حافظے میں موجود تھیں وہ بچے پہ نکال دیں۔ بچے کو زمین پہ ادھ موا چھوڑ کے ابا نے دھوتی سمیٹی اور چارپائی پہ بیٹھ گیا۔ گرج لرز کے بچے سے پوچھا۔’’بتاؤ کب سے کر رہے ہو یہ سب‘‘؟بچہ انشا جی والی کیفیت سے دوچار تھا، سو چپ رہا، دل ہی دل میں ہنس دیا۔ جواب نہ ملنے پہ ابا مزید سیخ پا ہوا، تو پھر سے اٹھا اور بچے کو گریبان سے پکڑ کر کان میں چلاتے ہوئے بولا او بتانا نامرادا کب سے یہ حرامزدگیاں کررہا ہے توں۔ سہمے ہوے بچے کے اعصاب جب پوری طرح سے چٹخ گئے تو لرزتے ہونٹ اور کانپتی آواز میں بولا:’’ابا میں تیڈا چولا پائی وداں‘‘۔یعنی ابا حضور! میں نے آپ کی قمیص مبارک زیب تن کررکھی ہے۔
جاوید میانداد جب لالے کو براہ راست لعنت سے نواز رہے تھے تو جذبہ حب الوطنی اور غیرتِ ایمانی سے سرشار تھے۔ میڈیا نے بال ٹھاکرے سے ہونے والی ملاقات کی روداد آشکار کی تو پتہ چلا کہ میانداد نے اپنی ہی جیب میں ہاتھ دیا ہوا۔ اب کرکٹ پہ تجزیہ بھی مانگو تو آنکھیں نہیں ملا پاتے۔
بات یہ ہے کہ۔!!
بچے کی ولادت پہ بھی جو لوگ شکریہ راحیل شریف کہتے نہیں تھک رہے تھے، وہ آج پرویز مشرف کے فرار پہ وزیر اعظم کی جیبیں ٹٹول رہے ہیں۔ جتنی گالیاں حافظے میں کہیں موجود ہیں، وہ دو وزیروں اور ایک جج پہ نکال کر ہلکان ہورہے ہیں۔
جیب چھوڑ میرے بھائی قمیص دیکھ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *