احساس زیاں جاتا رہا

Ayaz Amirایازا میر

ایسا لگتا ہے کہ ہم فکری اعتبار سے طوطا مینا کی کہانیوں کے دور میں ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس صورت ِ حال پر روئیں یا ہنسیں؟ حکومت چاہتی ہے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے مذاق میں اب دفاعی ادارے بھی شامل ہوجائیں۔ شاید اسے خدشہ ہے اپنی ژولیدہ فکری ، کنفیوژن اور حماقتوں کی وجہ سے وہ اکیلی ہی تمسخر کا نشانہ بن سکتی ہے تو کیوں نہ کوئی اور بھی اس کے ساتھ ہو۔ یہ بات قابل ِ فہم کیونکہ ہر کسی کی تمنا ہوتی ہے کہ فتح کا تاج صرف اُس کے سر ہی سجے لیکن ناکامی کی ذمہ داری ایک سے زیادہ کندھوں پر ڈالنا بہتر ۔ مذاکرات کے لئے حکومت کی طر ف سے قائم کردہ کمیٹی کے چاروں ارکان اور طالبان کی قائم کردہ کمیٹی کے تینوں ارکان اپنی اپنی جگہ پر محترم اور معتبر اور ان کے خلوص پرشبہ محال لیکن ان کے افکار و افعال کی باہم آمیزیش (یا آویزیش؟) سے جو منظر نامہ تشکیل پارہا ہے، اس کا منطقی انجام ریاست ِ پاکستان کے امن کے نام پر طالبان کی شرائط تسلیم کرتے ہوئے ان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ حال یہ کہ جب ہماری فورسز پر حملہ کر کے سیکورٹی اہل کاروں کو ہلاک کردیا جاتاہے تو حکومت طالبان کو بے قصور ثابت کرنے میں لگ جاتی ہے۔ طالبان کی اس سے بڑی ’’سفارتی کامیابی‘‘ اور کیا ہوگی ؟اس ضمن میں نواز شریف کا تازہ ترین انکشاف، جو اُنھوں نے گجرات سے تعلق رکھنے والے ارکارن ِ اسمبلی کے سامنے کیا، اُن کی ذکاوت ِ فکری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرمایا کہ اسلام آباد عدالت پر حملے میں ’’را‘‘ سمیت بہت سے دشمن گروہ شامل تھے، سوائے طالبان کے... ’’تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو؟‘‘اب جبکہ حکومت کوئی فیصلہ، جسے فیصلہ کہا جاسکے، کرنے کے قابل نہیں اور اس کی تمام تر فعالیت کا محور اُن گروہوں کو خوش کرنا ٹھہرا جن کی ریاست ِ پاکستان اور اس کے موجودہ نظام سے نفرت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تو ہمیں جس سب سے بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ قیادت کا بحران ہے۔ درایں چہ شک کہ اس وقت ایک جمہوری حکومت منصب پر موجود لیکن یہ اپنی موجودگی ثابت بھی تو کرے۔ حکومت کی کنفیوژن دفاعی اداروں کو بھی متاثر کررہی ہے۔ کبھی وہ اگلے قدموں پر چلے جاتے ہیں اورپھر یک لخت امن کی مشاورت ہونے لگتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم حالات کے ریلے میں بہے جارہے ہوں اور کناروں پر بکھرا خس و خاشاک ہمارا تمسخر اُڑا رہا ہو۔ اس تمام صورت ِ حال میں طالبان کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ۔ فائر بندی، جس کا طالبان نے کبھی احترام نہیں کیا،کا اُنہیں یہ فائدہ ہوا کہ جب وہ پہلے قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے تھے تو عوام کی اکثریت اور حکومتی حلقے مل کر ان کی مذمت کرتے تھے لیکن اب عوام تو مررہے ہیں اور طالبان آتش و آہن کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اب حکومت انکی طرف سے صفائیاں پیش کرنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے چکی ہے۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے اپنے خلاف متوقع فوجی آپریشن کا خطرہ بھی نہایت کامیابی سے ٹال دیا اور اس کے عوض پاکستان کو ذرہ بھر رعایت نہیں دی۔
اس معاملے کو ایک اور زاوئیے سے دیکھیں کہ اگر یک طرفہ جنگ بندی سے مطلوبہ نتائج برآمد ہوجائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ عوام کو بتایا جاسکتا ہے کہ ذرا صبر کریں، تھوڑا وقت لگے گا لیکن صورت ِ حال بہتر ہوجائے گی۔ خوش فہمی، جو انسانی فطرت میں شامل ہے، میں کوئی حرج نہیں لیکن تاریخ کا معروضی سبق ہمیں تادیر اس سراب کا شکار نہیں رہنے دیتا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طالبان جیسے نظریاتی گروہ رضا کارانہ طور پر ہتھیار نہیں ڈالتے، ان کے خلاف قوت کا استعمال ناگزیر ہوتاہے اور اس میں جتنی تاخیر کی جائے، اتناہی خطرہ بڑھتا جاتا ہے۔ فی الحال یہ سمجھنا دشوار ہے کہ حکومت امن کے نغمے گاتے ہوئے کس صحرا میں پھول اُگانے کی کوشش کررہی ہے۔ اب ایک اور خطرے کے آثار بھی ہویدا ہورہے ہیں ۔ جب سول حکومت نااہلی کو سیاسی مہارت قرار دینے لگے تو ہمارے جیسے معاشروں میں ایسے افراد کی کمی نہیں ہوتی جو دفاعی اداروں کو اکسانے لگتے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ تلخ تجربات ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ ایک انتہائی خطرناک سوچ ہے۔ ہماری فوج مصطفی کمال کی فوج نہیں اور نہ ہی اس نے کوئی جنگ ِ آزادی جیتی ہے۔ اس نے چار مرتبہ سول حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا اور چاروں مرتبہ پہلے سے زیادہ نقصان کیا۔ اگر 1971 کے واقعات کا اعادہ نہیں چاہتے تو ہمیں اس صورت ِ حال کا تصور بھی نہیں کرنا چاہئے۔
تاہم اس تلخ حقیقت سے بھی فرار ممکن نہیں کہ حکومت کی نااہلی اور کم ہمتی سے پیدا ہونے والا خلا بھی دیر تک موجود نہیں رہ سکتا ۔ خدشہ ہے کہ کہیں یہ صورت ِ حال سنگین نتائج کی طرف نہ بڑھ جائے۔طالبان کا خطرہ پہلے سے بھی زیادہ مہیب ہوتا جارہا ہے اور ان کا اثر صرف فاٹا تک ہی محدود نہیں بلکہ دینی گروہوں ، ان کے مسلح ونگز اور ان کے خاموش حامیوں کی صورت میں ملک بھر میں ان کی جڑیں موجود ہیں۔ آج طالبان کا کوئی بھی حامی ملک بھر میں جہاں مرضی جاسکتاہے، ہر جگہ اس کے قیام و طعام کا انتظام کرنے والے موجود ہوتے ہیں اور اگر وہ کسی ہوٹل میں قیام کرنا چاہے تو وہاں بھی اسے کوئی چیک کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ملک کے کسی سابق حکمران یا کسی ادارے کے سابق چیف کو بھی وہ تحفظ حاصل نہیں جو اس ملک میں طالبان سے ہمدردی رکھنے والوں کو حاصل ہے۔ یہ ہے اُس جہاد کا شاخسانہ ہے جس کی سرپرستی ہمارے سابقہ اور موجودہ عسکری اور خفیہ اداروں کے افسران نے کی۔ اس کے سوا اُنھوں نے قوم کو کیا دیا ہے؟تاہم ماضی تو گزر چکا،آج جب ہماری بقا کو خطرہ ہے تو ہماری قیادت میں دم نہیں۔ اگر سول اداروں میں کوئی چرچل دکھائی نہیں دیتا تو دفاعی اداروں میں بھی کوئی ’’کمال ‘‘ ( مصطفی کمال ) نہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومت نامی کوئی چیز موجود نہیں... ایک جمہوری حکومت جو کابینہ میں مشاورت کرے اور کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچے اور اس کی پالیسیاں روز مرہ کے واقعات سے تبدیل نہ ہوں اور نہ ہی وہ کسی گروہ سے کہے کہ کسی مخصوص علاقے میں وہ شرپسند عناصر کی نشاندہی کرنا اور ان کے خلاف کارروائی کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ دراصل حکومتی مشاورت اُنہی جانے پہچانے چار یا زیادہ سے زیادہ پانچ افراد کے درمیان ہوتی ہے ۔ وہ خوفزدہ نظروں سے دائیں بائیں دیکھتے ، کسی معجزے کی دعا کرتے ہوئے امیدلگا لیتے ہیں کہ دہشت گردی خیبر پختونخوا یا ملک کے دیگرحصوں تک محدود رہے گی اور پانچ دریائوں کی سرزمین اس کی تپش سے بچی رہے گی۔ کیا ملک کو تقسیم کرنے کا اس کے علاوہ بھی کوئی اور طریقہ ہے ؟
فوج کے لئے ضروری نہیں کہ ہر مرتبہ اپنی افادیت ثابت کرنے کے لئے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دے، اس کے علاوہ کچھ اور طریقے بھی ہوتے ہیں۔ افغانستان میں فوجی دستوں میں اضافے کے لئے جنرل پیٹریاس یا سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹس نے وائٹ ہائو س کا گھیرائو نہیں کیا تھالیکن اُنھوں نے صدر اوباما پر دبائو ڈالتے ہوئے اپنا مطالبہ منوالیا۔ کیا پاکستان کا جنرل اسٹاف نہیں جانتا کہ طالبان کیا چاہتے ہیں یا ان سے ریاست کو کیا خطرہ لاحق ہے؟کیا ہمارے فوجی افسران کو علم نہیں کہ طالبان کے ساتھ جنگ بندی یا ان سے کیے جانے والے امن معاہدوں کاکیا مطلب ہے؟کیا وہ واقعی یہ سمجھ رہے ہیں کہ اُنہیں آخر کار یہ جنگ نہیں لڑنا پڑی گی؟ اگر سب کچھ ان کے سامنے واضح ہے تودم سادھے، پتھر کی مورتیوں کی طرح ساکن رہ کر دشمن کو تقویت کا موقع دینا کہاں کی دانائی ہے؟ طالبان ایف سی کے مزید کتنے جوانوں کے سر کاٹ کر اُن کو فٹ بال کی طرح اچھال کر ہماری قیادت کو باور کرائیں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ہماری قسمت کبھی بھی بہت اچھی نہ تھی لیکن آج ہم جس مقام پر ہیں وہاں بے جان مجسموں نے ہمارے مقدر کا فیصلہ کرنا ہے جبکہ سفاک اور مکار دشمن پینترے بدل بدل کر گھائو لگارہا ہے۔
ہمیں کچھ تو احساس چاہیے کہ اس سعی سے ہم کیا حاصل کرلیں گے ؟طالبان کو ریاست کے ہم پلہ ایک گروہ تسلیم کرتے اور ان کی کارروائیوں کا جواز پیش کرتے ہوئے ہم ڈیورنڈ لائن کو دریائے سندھ کے پاس لانے کی تیاری کررہے ہیں۔ تاہم اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ ایسا کرتے ہوئے پنجاب کے گرد ایک حفاظتی باڑ لگانے میں کامیاب ہوجائے گا تو اُسے چاہئے کہ وہ ہماری حالیہ تاریخ پر نظر ڈالے۔جو جہاد ہم نے سوویت یونین کے خلاف شروع کیا، وہ افغانستان تک ہی محدود نہیں رہا۔ اس کے شعلوں نے ہمارا نشیمن بھی خاکستر کرناشروع کر دیا۔ اس وقت طالبان صرف قبائلی علاقوں میں ہی نہیں ہیں، وہ ملک بھر میں اپنی توانا موجودگی رکھتے ہیں، اور پھر پنجاب تو دینی مدرسوں کا گھر ہے۔ صرف لاہور میں ہی اتنے غیر ملکی باشندے ہیں کہ حکومت ان کے بارے میں اعداد و شمار نہیں رکھتی۔ لال مسجد وزیریستان میں نہیں،اسلام آباد کے مرکز میں واقع تھی۔ ولی خان نے بہت پہلے ہمیں خبردار کردیا تھا...’’یہ آگ جو تم افغانستان میں لگارہے ہو، ایک دن یہ اٹک کا پل عبور کرکے تمھیں جلا دے گی۔‘‘اُس وقت یہ وارننگ بے سروپا دکھائی دیتی تھی، آج ننگی حقیقت بن چکی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم میدان ہار چکے ہیں اور اب جنگ کا کوئی فائدہ نہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک نے اس سے بھی خراب صورت میں کھڑے ہوکر اپنی بقا پر خون سے مہر تصدیق ثبت کی۔ بات یہ ہے کہ فتح اور شکست کا فیصلہ میدان سے پہلے ذہن میں ہو جاتا ہے۔ جب ہم حکومت کی شکست خوردگی اور جی ایچ کیو کے سکوت کو دیکھیں تو یہ ہولناک تاثر گہرا ہونے لگتا ہے جسم وجان کی ممکنات کو شعلہ ٔ جوالہ کی طرح بھڑکانے والی چنگاری مدت ہوئے سرد ہوچکی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *