پچپن برس کا ہیرو‘اڑتالیس سال کی ہیروئین

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

اگر کسی شام بستر پر نیم دراز حالت میں ٹی وی کے چینل بدلتے ہوئے اچانک آپ کسی ایسے چینل پر رُک جائیں جہاںکوئی ایسی فلم چل رہی ہو جس میں پچپن برس کا ایک شخص ‘جس کی توند نکلی ہو ‘سر سے گنجا ہو مگر وگ سجائی ہو‘ پہاڑوں میں برف پر الٹ بازیاں لگاتے ہوئے ایک اڑتالیس برس کی خاتون سے گانا گاتے ہوئے عشق لڑا رہا ہو تو سمجھ لیجئے کہ آپ پاکستانی فلموں کے سنہری دور میں چلے گئے ہیں۔یہ وہ دور تھا جب ہیرو ہیروئین کے لئے عمر ‘شکل و صورت‘قد کاٹھ ‘ رقص کا ماہر ہونے یا جسم کے سکس پیک بنانے کی کوئی شرط نہیں تھی ‘فقط نبض کا چلنا ضروری تھا۔ہم اپنی ان فلموں پر آج اتنا فخر کرتے ہیں کہ بعض اوقات ہماری سانس پھول جاتی ہے بالکل اس دور کی ہیروئین کی طرح جو ہر ڈائیلاگ یوں بولتی تھی جیسے دمے کی مریضہ ہو!تاہم مجھے وہ فلمیں آج بھی پسند ہیں کیونکہ فی زمانہ اچھی کامیڈی فلمیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔اس سنہری دور کی فلموں کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ مضبوط کہانی اور اچھا سکرپٹ تصور کی جاتی ہے تاہم فدوی کے خیال میں کل ملا کر اس زمانے میں تین کہانیاں لکھی گئیں جنہیں ہر فلم میں آزمایا گیا اور زیادہ تر یہ فارمولا کامیاب رہا۔
پہلی کہانی لو ٹرائی اینگل ہو ا کرتی تھی جس کی کاسٹ‘ ندیم ‘شبنم ‘ شاہد‘یا محمد علی ‘زیبا‘وحید مراد یا محمد علی‘شاہد اوربابرہ پر مشتمل ہوا کرتی اور یہ کاسٹ دیکھ کر ہی کہانی کا اندازہ ہو جاتا ۔ندیم اور شاہد دو دوست ‘ایک دوسرے پر جان چھڑکنے والے ‘دونوں ایک ہی لڑکی پر فریفتہ مگر یہ بات انٹرول تک ایک دوسر ے کو نہیں بتائیں گے کہ جس لڑکی پر وہ مرتے ہیں اس کا نام کیا ہے ‘انٹرول کے بعد بھی نہیں بتائیں گے ‘تا وقتیکہ ان میں سے کسی ایک کو اتفاقاً پتہ چل جائے یا پھر شاہد’’غلطی ‘‘سے وہ لو لیٹر پڑھ لے جو شبنم نے ندیم کے نام لکھا تھا۔وہ خط پڑھنے کے بعد بھی شاہد اپنے جگری یار کو کبھی نہیں جتائے گا کہ جس لڑکی سے وہ پیار کرتا ہے وہ دراصل وہی لڑکی ہے جسے شاہد بھی چاہتا ہے ‘اور شاہد کویہ غلط فہمی کیوںکر ہوئی کہ شبنم شاہد کو چاہتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شبنم نے تو شاہد کو صرف اپنا ’’دوست‘‘ مانا اس سے زیادہ اور کچھ نہیں (یہ ڈائیلاگ بولتے ہوئے ضروری ہے کہ ہیروئین ہچکیاں لے‘ویسے اس زمانے کی ہیروئینز کی ہچکیاں پوری فلم میں ہی جاری رہتی تھیں)مگر شاہد اپنے تئیں شبنم کی اس ’’دوستی ‘‘کو پیار سمجھ بیٹھا۔اس موقع پر ندیم صاحب انٹری دیں گے اور کہیں گے میرے یار تو نے پہلے بتا دیا ہوتا تومیں کالج میں شبنم کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا‘جواب میں شاہد صاحب فرمائیں گے‘ نہیں دوست غلطی میری ہے جو میں نے اس کی معصومیت کو پیار سمجھ لیا ‘آج میں تمہاری زندگی سے دور جا رہا ہوں‘ تمہیں اپنا پیار مبارک ہو۔مگر ندیم اپنے جگری یار کو جاتا نہیں دیکھ سکتا ‘رندھی ہوئی آواز میں اسے روکتا ہے اور آفر کرتا ہے کہ وہ شبنم سے دست بردار ہونے کو تیار ہے ‘اس موقع پر وہ شاہد کو یہ یقین بھی دلاتا ہے کہ اب تک ان کا (یعنی ندیم ‘شبنم کا) پیار بالکل ’’پاک‘‘ تھا سو ڈونٹ وری مگر شاہد نہیں مانتا اور یوں یہ تکرار جاری رہتی ہے۔شبنم کبھی ایک کو دیکھتی ہے کبھی دوسرے کواور پھولی ہوئی سانس کے ساتھ سوچتی ہے کہ نہ جانے وہ کس کی مقدر میں لکھی جائے گی (واضح رہے کہ اس دور کی فلموں میںیہ فرض کر لیا جاتا تھا کہ ہیروئین کی اپنی کوئی مرضی نہیں ‘دونوں ہیرو ز جوبھی decisionلیں گے اسے سر تسلیم خم کرنا ہو گا)۔تھوڑی دیر بحث مباحثے اور ایک آدھ طربیہ گانے کے بعد بالآخر یہ طے پاتا ہے کہ ہیروئین اس ہیرو کے ساتھ جائے گی جس نے اظہار عشق میں پہل کی تھی اور یوں سب ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں ۔
دوسر ی کہانی بھی لو اسٹوری ہے مگر اس میں طبقاتی کشمکش کا رنگ نمایا ں ہے‘کہانی کچھ یوں ہوتی کہ کالج میں لڑکا (محمد علی) اور لڑکی (زیبا) ایک دوسرے کو چاہتے تھے(لفظ ’’لڑکا‘‘ اور’’لڑکی‘‘ لکھنے پر خدا میرے گناہ معاف کرے) مگر طبقاتی فرق کی وجہ سے ان کی شادی نہ ہو سکی کیونکہ لڑکی کے والد (علائو الدین یا طالش میں سے کوئی ایک‘جو زیادہ بہتر اوور ایکٹنگ کر سکے)جن کا نام خان بہادر خان ہے اپنی بیٹی کی شادی اپنے ایک نواب دوست کے صاحبزادے سے کر دیتے ہیں جو ایک عیاش طبیعت شخص ہے ۔شادی کے بعد دی جانے والی دعوت میں ہیرو بھی مدعو ہے حالانکہ اسے بلانے کی کوئی تک نہیں ‘ اسی دوران اچانک کہیں سے ہیروئین کی سہیلی جو اس کی کالج کے زمانے کی ہمراز ہے ‘معنی خیز انداز میں ہیرو سے فرمائش کرتی ہے کہ اس خوبصورت موقع پر اسے کوئی گانا سنانا چاہئے ‘ہیرو حسب روایت پہلے تھوڑا سا نخرہ کرتا ہے‘ پھر یکدم مان جاتا ہے اور پیانو پر جا بیٹھتا ہے ‘واضح رہے کہ پیانو کا وہاں موجود ہونا اور ہیرو کو پیانو بجانا آنا ضروری ہے۔ ہیرو پیانو پر اس نغمے کی دھن چھیڑتا ہے جو وہ کالج کے زمانے میں ہیروئین کے لئے گایا کرتا تھا مگر اس بار گانے کے بول مختلف ہیں اور ان میں پیار کے اظہار کی بجائے بے وفائی کے طعنے ہیں ‘ہیروئین اپنے خاوند کے ساتھ عین پیانوکے سامنے کھڑی ہو کر پورا گانا سنتی ہے ‘اس دوران ہیرو پوری محفل اور ہیروئین کے شوہر سے بے پرواہ ہو کر اپنی سابقہ محبوبہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گانا گاتا ہے ‘گانے کے اختتام پر ہیروئین ہچکیاں لیتی ہوئی بھاگ کر اندر چلی جاتی ہے ‘کسی کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ معاملہ کیا ہے ‘سوائے اس سہیلی کے جس نے گانے کی فرمائش کی تھی۔فلم کا اختتام یوں ہوتا ہے کہ ایک دن ہیروئین کا شوہر شراب پی کر ڈرائیونگ کرتاہے اور حادثے میں اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے ‘عدت پوری کرنے کے بعد ہیرو ہیروئین کے والد سے رشتہ مانگتا ہے ‘اس مرتبہ خان بہادر خان صاحب ہاں کردیتے ہیں ‘اسی موقع پرہیروئین کی سہیلی کی شادی ہیرو کے دوست سے طے پاتی ہے جبکہ کامیڈین لڑکی کی شادی کامیڈین لڑکے سے ہو جاتی ہے‘ اللہ اللہ خیر ٍصلہ۔
تیسری کہانی ہیرو اور ہیروئین کی شادی کے بعد شروع ہوتی جس میں خانگی جھگڑے اور گھریلو سازشیں دکھائیں جاتی ‘ہیروئین بالکل اللہ میاں کی گائے ہوتی جبکہ تمام برائیاں شوہر کی ماں اور بہنوں میں ہوتیں جو مسلسل ہیرو کو ہیروئین سے بد ظن کرنے کے موقع تلاش کرتیں رہتی‘اس سارے قصے میں شوہر یعنی ہیرو کے باپ کا کردار ایک کامیڈین کا ہوتا جو ہر وقت اپنی بیوی سے سہما سہما رہتاتاہم فلم کے اختتام پر یہ کامیڈین باپ اچانک چوہدری حشمت کا روپ دھار لیتا اور اپنی بیوی اور بیٹیوں کو کہتا کہ enough is enough‘اب اگر کسی نے بھی بہو کو کچھ کہا تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا‘اس کے بعد کوئی سازش کرنے کی ہمت نہ کرتا ‘ہیرو کی ترقی ہو جاتی ‘ہیروئین ایک چاند سے بیٹے کو جنم دیتی ‘اور سب ہنسی خوشی رہنے لگتے۔
ضروری نہیں کہ یہ تینوں کہانیاں اس سنہری دور میں ایسی ہی فلمائی گئیں ‘حسب ضرورت جہاں مناسب سمجھا گیا ان میں جدت بھی پیدا کی گئی ‘مثلا ً کالج کے ماحول سے بور ہوئے تو پہاڑوں پر چلے گئے جہاں پردیسی بابو(ہیرو) کو ایک غریب بوڑھے کی بیٹی (جو ہر وقت عجیب و غریب کپڑوں میں ملبوس رہتی ہے)سے عشق کرنا ضروری ہے‘ اسی طرح جڑواں بھائیوںکی کہانی بھی کچھ بری نہیں ‘ایک بھائی پیدا ہوتے ہی ہسپتال سے اٹھا لیاجاتا ہے تاہم پچیس برس بعد ماں جونہی اپنے بیٹے کو دیکھتی ہے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور وہ فوراً اسے پہچان کر گلے لگا لیتی ہے۔
سو دوستو‘ آج بھی جب میں بور ہوتا ہوں تو ٹی وی پر وہ چینل ٹیون کر لیتا ہوں جہاں سنہری دور کی پاکستانی فلم چل رہی ہو ‘پچپن برس کا ہیرو ‘اڑتالیس سال کی ہیروئین ‘برف پوش پہاڑیاں اور ان کا رومانس‘ہے کوئی اس کا توڑ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *