کیا یہ غار حرا میں اترتی چاندنی کے دھبوں کا کرشمہ ہے

MHTمستنصر حسین تارڑ

یکم مارچ۔۔۔ میں پون صدی کا ہو گیا ہوں۔ تین سالگرہ کیک۔۔۔ تین مختلف مقام اور ایک ہی سوال میرے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ یہ جو نوازشیں، محبتیں اور چاہت بھری عقیدتیں مجھ پر نچھاور ہو رہی ہیں جن کا میں کچھ حقدار نہیں تو ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ کوئی نہ کوئی بھید ہے جو مجھ پر آ شکار نہیں ہوتا، کوئی نہ کوئی خبر ہے جس سے میں بے خبر ہوں۔۔۔ اور کیسے کیسے نابغۂ روزگار لوگوں کے سالگرہ مبارک کے پیغام آتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی کے۔۔۔ عبداللہ حسین اور میرے من پسند ہدایت کار اور شاعر گلزار صاحب کے۔۔۔ یہاں تک کہ ممبئی سے علی ظفر کا فون آتا ہے کہ انکل سالگرہ مبارک اور بہت سے دوسرے۔۔۔
ماڈل ٹاؤن پارک کی سویر میں عادل، ندیم شیخ اور تنویر خواجہ کی ترتیب شدہ تقریب کے بعد مجھے گھر پہنچ کر کچھ آرام ملا اور پھر۔۔۔ دوسری تقریب کا انعقاد ایک مقامی ہوٹل کی دسویں منزل پر واقع ہال میں ہوا۔۔۔ یہ بندوبست میرے نام کی ریڈرز ورلڈ کے اراکین کی جانب سے تھا جنہوں نے پچھلے برس بھی یکم مارچ کو ’’تارڑ ڈے‘‘ کے نام سے پکارا اور ایک پر بہار محفل کا انعقاد کیا۔۔۔ یوں تو بہت ہیں جو مجھے پڑھتے ہیں لیکن ریڈرز ورلڈ کے اراکین ایک انگریزی محاورے کے مصداق ’’مرمٹنے والے شیدائی‘‘ ہیں اور ان کی تعداد ہزاروں میں ہیں۔۔۔ بہاول نگر، سون سکیسر، اسلام آباد، کراچی اور جانے کہاں کہاں سے آئے تھے۔۔۔ صرف کراچی سے نو اراکین اس تقریب میں شرکت کے لیے لاہور پہنچے تھے۔۔۔ امریکہ میں مقیم عاکف فرید نے ریڈرز ورلڈ کی بنیاد رکھی اور اسے مستحکم کرنے کے لیے ساہیوال کی سمیرہ انجم اور کراچی کی نسرین غوری نے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔۔۔ اور اب یہ ایک بڑے خاندان کی صورت اختیار کر چکا ہے۔۔۔ یہ سب لوگ آپس میں رابطے میں رہتے ہیں۔ میری تازہ ترین کتاب کے بارے میں خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور ۔۔۔ مجھ سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔۔۔ کراچی کی تہمینہ صابر کو گویا میری تحریروں پر گفتگو کرنے کے سوا اور کوئی کام نہیں۔۔۔ یہاں اس سالگرہ کی محفل میں سینکڑوں لوگ شامل تھے۔۔۔ فرحت بخاری جو مکمل طور پر پردہ پوش ہونے کے باوجود میرے سفر نامے ’’کے ٹو کہانی‘‘ سے متاثر ہوکر اسی پردہ پوشی میں کے ٹو کے بیس کیمپ تک جا پہنچی۔ فریال ععثما ن، مومنہ، عطیہ ذوالفقار اور پھر میرے دیرینہ دوست سرور سکھیرا جس کے ’’دھنک‘‘ کے رنگ آج بھی شوخ اور پیارے ہیں۔ ایک بڑا نثر نگار ذکاء الرحمن۔۔۔ میرا جوانی کا دوست صدیق چوہدری۔۔۔ دسویں منزل پر ہوٹل کی چھت پر سالگرہ کیک پر بارش کی بوندیں گرتی تھیں اور میں تشکر اور کسی حد تک ندامت کی حالت میں اگر اپنے آپ پر قابو نہ رکھتا تو اس کیک پر میری آنکھوں میں جنم لینے والی بوندیں بھی گر سکتی تھیں۔ وہاں ایک ایسا نوجوان تھا جس نے میرا سفر نامہ ’’شمشال بے مثال‘‘ پڑھ کر شمشال کی بلند ترین چوٹی کو سر کیا ااور برفانی بلندیوں پر پہنچ کر اس نے میرے نام ایک پیغام ریکارڈ کیا مجھے تقریب میں سکرین پر دکھایا گیا۔ امریکہ کے عاکف فرید اور ایک نوجوان کے پیغام بھی سکرین پر نمودار ہوئے۔ ہم سب کو یہاں جمیل، عظمیٰ عباسی اور ڈاکٹر نازش کی کمی بے حد محسوس ہوئی۔ تقریب میں شرکت کرنے والے ہر رکن کی خدمت میں ایک خصوصی مگ پیش کیا گیا جس پر میری تصویر اور آٹو گراف نقش تھے۔ ریڈرز ورلڈ کے اراکین نے اگلی سویر لاہور کے پرانے شہر میں میری سالگرہ کی خوشی میں ایک واک کا اہتمام کیا۔ ان میں سے کچھ نے میری کتابوں کو سینے سے لگا رکھا تھا۔ سرور سکھیرا کا کہنا تھا کہ یہ ایک منفرد تقریب تھی کیونکہ وہاں موجود سب کے سب لوگ تمہیں پڑھنے والے تھے اور شاید اسی لیے ہمارے لیے پاگل ہو چکے تھے۔۔۔ دراصل سرور سکھیرا۔۔۔ ’’دھنک‘‘ اور ’’مساوات‘‘ کا ایڈیٹر بینظیر بھٹو کا پریس سیکرٹری ہی وہ شخص تھا جس نے مجھ سے ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ لکھوایا جس کے اب تک پچپن سے زیادہ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اس تقریب سے واپس گھر آیا ہوں تو وہاں بھی میرے لیے حیرت کا ایک اور سامان تھا۔۔۔ مختصر صحن میں کرسیاں لگی ہیں، قالین بچھے ہیں اور چیٹر کے درخت کے سائے میں چار موسیقار میرے لیے ’’ہیپی برتھ ڈے ٹو یو‘‘ کی دھن بجا رہے ہیں۔۔۔ اور یہ شاندار اہتمام پنجاب آرٹس کونسل کی جانب سے سرکاری سطح پر کیا گیا تھا۔۔۔ کونسل کے خوش وجاہت خواجہ صاحب کے علاوہ میرے دیرینہ دوست خالد اقبال بھی موجود تھے۔۔۔ اور محترم شہباز شریف کی جانب سے مجھے پھول پیش کرنے کے لیے ننکانہ صاحب سے متعلق ایک پارلیمانی سیکرٹری صاحب بھی تشریف لائے تھے۔ میں نے اُن سے گزارش کی کہ براہ کرم شہباز شریف صاحب سے میری جانب سے درخواست کیجیے گا کہ فردوس مارکیٹ میں ایستادہ رکاوٹوں کے باعث میں نہ اپنے گھر سے نکل سکتا ہوں اور نہ اس میں داخل ہو سکتا ہوں تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ مجھے ایک گل دستہ بھیجنے کی بجائے میرے گھر کے راستے کھول دیتے۔۔۔ مجھے اس قید سے آزاد کرا دیتے۔۔۔ خواجہ صاحب نے مجھے اپنی پینٹ کردہ میری پورٹریٹ پیش کی جو نہایت لا جواب تھی۔۔۔ اورہاں ریڈرز ورلڈ کی تقریب میں ان دنوں سعودی عرب میں مقیم انجینئر عثمان تارڑ کی اہلیہ نے اپنے خاوند کی مصوری کی میری شکل بھی مجھے عطا کردی۔ یہ ایک نہایت تخلیقی ڈرائنگ تھی۔۔۔ یہاں کراچی سے آنے والی عمارہ بھی موجود تھی جو مجھ سے بات کرتے ہوئے جانے کیوں آبدیدہ ہو جاتی تھی۔۔۔ میرا مختصر صحن گل دستوں کے انبار سے بھر گیا تھا۔۔۔ موسیقار ’’رم جھم رم جھم پڑے پھوار‘‘ بجا رہے تھے کہ بارش کی بوندیں گرتی جاتی تھیں۔
مارچ کے مہینے میں ان تین تقریبات کے علاوہ بھی بہت سے اہتمام کیے گئے تھے۔۔۔ اپنے پرانے مسلم ماڈل سکول اور گورنمنٹ کالج میں پڑھنے والوں کی رفاقت میں یاد یں تازہ کرنا لیکن اس سلسلے کی آخری تقریب فیروز پور روڈ پر واقع علی آڈیٹوریم میں 23 مارچ کے دن طے ہو چکی تھی۔
اس غیر معمولی بے وجہ پذیرائی میں کوئی نہ کوئیبھید تھا جو کھلتا نہ تھا۔۔۔ میں قطعی طور پر ایک انکسار پسند، بندہ کس لائق ہے، ناچیز حقیر پر تقصیر ہے لیکن میں خوب جانتا ہوں کہ میری تخلیقی اوقات کیا ہے اور وہ از حد معمولی ہے تو پھر یہ غیر معمولی پذیرائی کیوں۔۔۔ یہ عنایات کیوں۔۔۔ صحرا کے ایک حقیر ذرے پر ہی اس کے کرم کی بارش کیوں۔۔۔ شاید یہ میری دادی جان رابعہ بی بی کے ایک خواب کا کرشمہ ہے اور یہ خواب بھی پھر کبھی بیان کروں گا۔ میرے ابا جی کی نیلی آنکھوں میں اترنے والا ایک خواب ہے۔ میری امی کے دوپٹے میں سے مجھے جو خوشبو آتی تھی اس کا کمال ہے۔ ان کے سفید بالوں میں سے پھوٹنے والی سفید روشنی ہے جو مجھے روشن کرتی ہے۔۔۔ یا پھر۔۔۔ غار حرا کی اس شب میں میری پشت اس پتھریلے مقام میں ثبت ہوئی تھی جہاں میرے نبیؐ کی پشت نے آرام کیا تھا۔ میرے بدن پر چاندنی کے وہی دھبے اترے تھے اور وہاں اترے تھے جہاں جہاں وہ رسولؐ اللہ کے اطہر بدن پر اترے تھے۔۔۔ اور طائف کے اس باغ میں جہاں رسول اللہؐ نے زخمی حالت میں انگور کی ایک بیل کے سائے میں پناہ لی تھی، میں نے جہاں وہ بیٹھے تھے اس مقام پر سجدہ کرنے کی خواہش کی تھی۔۔۔ یا شاید وہ شب۔۔۔ جب میں چند لمحوں کے لیے روضۂ رسولؐ کی جالی کے سامنے یکسر تنہا تھا اور انہوں نے میرے کشکول میں اپنی شفاعت کا ایک سکہ ڈال دیا تھا جس کی کھنک آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے۔
کوئی نہ کوئی بھید ہے۔ کوئی ایسی خبر ہے جس سے میں بے خبر ہوں۔۔۔ کہیں نہ کہیں کوئی راز ہے جس سے میں نا آشنا ہوں۔۔۔ آخر مجھ بے خبر اور نا آشنا پر یہ عنایات کیوں۔ اگر کوئی آشنا ہو، جسے خبر ہو وہ مجھے بتلا دے تو میں حج کا تو نہیں، ایک عمرے کا ثواب نذر کروں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *