قرآن کی تلاوت کیا اثر رکھتی ہے ، ایک صاحب علم کا قصہ!

yahodi jin

میں مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں نماز ادا کر رہاتھا۔ میرے پاس مکہ کے دو جوان آئے اور کہنے لگے: آپ ہسپتال میں ہمارے بھائی کو دیکھیں۔ اسے ایسا مرض لاحق ہے جو ڈاکٹروں کی سمجھ سے باہر ہے۔ اس کا جگر خراب ہے اور ہاتھ پائوں مفلوج ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں مرض نا قابل علاج ہیں۔ میں نے انہیں بتایا : میں ہسپتالوں میں نہیں جاتا کیونکہ ڈاکٹر اس بات پر اعتراض کرتے ہیں اور میں کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنا چاہتا ہوں۔ آپ اسے میرے گھر یا مسجد میں لے آئیں۔ دونوں بھائی کہنے لگے : ہم آپ کو قطعاً زحمت نہ دیتے ، لیکن مریض کی کیفیت ایسی ہے کہ اسے یہاں لانا ممکن نہیں۔ میں نے رات کے وقت ان کے ساتھ جانے کا وعدہ کر لیا۔ رات کو جب ہم مریض کے پاس پہنچے۔ وہ رنجوالم اور اذیت و بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا اور اپنے جگر کی تکلیف کی وجہ سے کراہ رہا تھا جبکہ اس کے ہاتھ بالکل بے حس و حرکت تھے۔ ان میں زندگی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ میں نے اس کا حال احوال پوچھا اور اسے تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ اسے شفا دے گا۔ پھر میں نے قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی۔ ابھی میں اپنی تلاوت کے نصف میں پہنچا تھا کہ اچانک اس کے ہاتھوں نے تیزی سے حرکت کرنا شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر اس کا بھائی حیرت سے چلا اٹھا : اللہ اکبر اللہ اکبر، اس کے ہاتھوں نے حرکت شروع کر دی ہے۔ میں نے اپنی تلاوت کی رفتار بڑھا دی ہاتھوں نے اور زیادہ تیز حرکت کرنی شروع کر دی۔ میں نے تلاوت جاری رکھی۔ اس کے پیروں نے بھی حرکت کرنی شروع کردی۔ اس کے چہرے کی کیفیت بھی بدلنے لگی اور وہ بالکل ایک مختلف شخص نظر آنے لگا۔ پھر اس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ مجھے پتا چل گیا کہ اسے کسی جن نے قابو کیا ہوا ہے اور اس کے اندر جن ہی یہ چیخ و پکار کر رہا ہے۔ میں نے جن کو مخاطب کیا : تم کون ہو؟ اس نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا : میں یوحنا ہوں۔ میں نے پوچھا: تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں اس میں داخل ہو چکا ہوں کیونکہ یہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ یہ انتہائی نفیس آدمی ہے۔ کیا آپ اچھے لوگوں کو پسند نہیں کرتے؟ وہ خالص عربی لہجے میں بات کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا : تم داخل کیسے ہوئے؟ اس نے بتایا : ہم جہاں مقیم تھے یہ اس کے قریب ہی تھا اس لیے مجھے اس میں داخل ہونے کا موقع مل گیا۔ پھر میں نے جن سے مخاطب ہو کر کہا : یوحنا! میں تمہیں ایک شرط پر کوئی سزا نہیں دوں گا کہ تم دوبارہ اس کے ہاتھ پائوں مفلوج نہیں کرو گے۔۔۔۔۔ اگر تم نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو میں تمہیں عبرتناک سزا دوں گا۔ اس نے آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا وعدہ کر لیا۔ ہماری یہ مجلس اسی بات پر برخاست ہو گئی۔ ہم نے آپس میں اتفاق کیا کہ آئندہ اس کا علاج کسی اور جگہ ہو گا تاکہ اس کی چیخ وپکار سے دوسرے مریض ڈسٹرب نہ ہوں۔ اگلے دن جب ڈاکٹر آئے تو اس کی حالت دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے۔ وہ ہاتھ اور پائوں جنہیں وہ ناقابل علاج قرار دے چکے تھے بالکل ٹھیک کام کر رہے تھے۔ ڈاکٹروں نے اس کے بھائیوں سے پوچھا: یہ معجزہ کیسے ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک قرآنی معالج نے قرآن مجید کے ذریعہ اس کا علاج کیا ہے۔ یہ (27) رمضان المبارک کا دن تھا۔ ڈاکٹروں نے اس مریض کے بھائیوں کی درخواست پر اسے عید کے ایام گھر پر گذارنے کی اجازت دے دی۔ (28) رمضان کو میں مریض سے اس کے گھر میں ملا۔ میں نے حسب معمول قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی۔ پھر اس مریض کی کیفیت بدلی اور اس کے اندر سے جن نے کلام شروع کر دیا۔ میں نے اس سے پوچھا: یوحنا! تم نے بتایا تھا کہ تم نے اس کے ہاتھ اور پائوں کو مفلوج کر رکھا تھا۔ کیا اس کے جگر کی کیفیت بھی تمہاری وجہ سے ہے؟ اس نے جواب دیا: اس ذات کی قسم! جس نے موسی علیہ السلام کے لیے سمندر کو پھاڑا تھا۔ میرا اس کے جگر کی بیماری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ میں نے کہا : تم نے اللہ کی قسم اٹھائی ہے اور موسی کا ذکر کیا ہے۔ وہ کہنے لگا : ہم ایسے ہی قسم کھاتے ہیں کیونکہ میں یہودی ہوں۔ پھر میں نے اسے اسلام کی دعوت دی جیسا کہ ہم غیر مسلم جنوں کو دیتے ہیں۔ اس نے انکار کر دیا۔ میں نے اسلام کے محاسن کا ذکر کیا۔ اسے اسلام کی ضرورت و اہمیت بتائی پھر بھی اس کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔ میں دلائل دیتا رہا اور یہودیت پر اصرار بڑھتا رہا۔ پھر میں نے اس سے مطالبہ کیا کہ اس کی جان چھوڑ دو۔ وہ کہنے لگا: جب تک مجھے کوئی اور جگہ میسر نہیں ہوتی میں اس کی جان نہیں چھوڑوں گا۔ میں نے کہا: تم کہیں بھی جا سکتے ہو۔ تم لوگوں کو کسی ملک میں داخل ہونے کے لیے اجازت کی ضرورت تو ہوتی نہیں۔ پھر دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔ میں نے دوبارہ تلاوت شروع کر دی پھر بھی دوسری طرف سے کوئی ردعمل نہ ہوا۔ اب مریض کی حالت بالکل سنبھل گئی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ دو سال بعد اچانک میری اس مریض کے بھائی سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اس کے مریض بھائی کے بارے میں پوچھا۔ اس کے ہاتھ پائوں تو بالکل ٹھیک کام کر رہے تھے لیکن اس کے جگر کا مرض بڑھ گیا اور وہ ایک سال قبل فوت ہو گیا۔

source:ummat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *