"بچہ بڑا ضدی ہے"

khawaja mazhar nawaz
ہم جس مجلس میں بھی ہوں ،جہاں بھی بچوں کی عادات زیر بحث ہو رہی ہوں. بچوں کے رویے کی بات ہو ہی جاتی ہے. اور تقریبا ہر مقام اور موقع پر، ہر دوسرےتیسرے کوئی نہ کوئی یہ کہتا نظر آتا ہے.
" آج کے بچے بہت ضدی ہو گئے ہیں"
کئی تو یوں بھی کہتے سنے گئے ہیں،
" بچوں کی ضد کے سامنے تو شیطان بھی پناہ مانگے..."
غرض جتنے منہ اتنی باتیں... جتنے والدین اتنی شکایتیں..ضد ربڑ کی طرح ہوتی ہے. جتنا کھینچتے جاوء. اتنی کھنچی چلی جاتی ہے. اور ویسے بھی بچوں کی ضد کا علاج تو کسی ڈاکٹر اور حکیم کے پاس بھی نہیں ملتا. سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ بچے ضد کیوں کرتے ہیں؟  یہی سوال اکثر مرد عورتوں کے بارے میں بھی کہتے سنے گئے ہیں.
"بیویاں بچوں سے بھی زیادہ ضدی ثابت ہوتی ہیں".
ہم نے بڑے بڑے علماء کے پاس لوگوں کو دیکھا ہے جو بچوں کی ضد کی عادت چھڑوانے لئے کوئی تعویذ لینے آئے بیٹھے ہوتے ہیں،بیچارے والدین ضد کا رونا رو رہے ہوتے ہیں. تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ ضد کا معاملہ کوئی معمولی بات نہیں. ایک سنجیدہ ، غور طلب اور حل طلب معاملہ ہے.
لیجئے ضد کو آج کی بات چیت کا موضوع بناتے ہیں. اور ہماری کوشش ہوگی کہ اس پر ہلکے پھلکے انداز میں غور کرنے کی عادت بنائیں گے . نتیجہ پڑھنے والوں پر ہے. وہ اس کو کس انداز سے لیتے ہیں.
اسے آپ عجیب معاملہ نہیں کہیں گے؟ کہ بچہ اگر ضدی ہے،تو والدین بھی مقابلے میں ضدی پن کا مظاہرہ کرتے ہیں. اس صورت حال میں بے لچک والدین اور ناسمجھ بچے کے درمیان ضد طول پکڑ جاتی ہے.
ضد ایک ایسے چیونگم کی طرح بن جاتی ہے. جسے آپ جتنی دیر پھلا کر غبارے بناتے رہیں،غبارے بنتے رہیں گے. اور چیونگم کو جتنی دیر منہ میں رکھیں چباتے رہیں. نہ چیونگم کو تھکن ہوگی اور نہ اوازاری.. یہی معاملہ  ضد کا ہے.
بھلا بچوں سے کاہے کی ضد، بچہ جس چیز یا بات کی ضد پر ہے. اس کے ذہن سے اس چیز کی ضد نکالنے کے کئی طریقے ہیں. ضد نکالنے یا ضد چھڑانے کا سب سے بہترین طریقہ محبت ہے. اس معاملے میں ضد کو ٹال دینا بہترین حکمت عملی ہے. مثلا ایک بچے نے ماں سے کمپیوٹر لینے کی فرمائش کی اور اس پر ضد کر بیٹھا کہ جب تک کمپیوٹر نہیں ملے گا اور سکول نہیں جائے گا. اس نے اگلے مرحلے میں احتجاج کے طور پر کھانا بھی چھوڑ دیا.
وہ دو دن سکول نہیں گیا. تیسرے دن ضد پر اڑے بچے نے کھانا کھانا بھی بند کر دیا. چوتھا دن اتوار کا تھا. اس کے ابا دوسرے شہر میں جاب کرتے تھے. وہ چھٹی پر آئے تھے. اس صورت حال کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے. انہوں نے بیٹے کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ بیٹا ہمارے پاس ابھی کمپیوٹر لینے کے لئے بجٹ نہیں ہے. تمہارے نویں کے امتحان ہونے میں ابھی چار ماہ رہتے ہیں. جیسے ہی تمہارے امتحان ختم ہوں گے. ہم تمہیں کمپیوٹر لے دیں گے. بچے کو باپ کی بات سمجھ آگئی  اور اس نے اپنی ضد چھوڑ دی. بچے ماں کے بعد سب سے زیادہ ضد اپنے اساتذہ سے کرتے ہیں. بہت کم اساتذہ ایسے ہوتے ہیں. جو بچوں کی نفسیات سے واقف ہوتے ہیں. وہ بچوں کو بلاوجہ ڈانٹتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر سزا دینے کے عادی ہوتے ہیں. بچوں کے غلط ملط نام رکھ دیتے ہیں. بچہ اس غلط رویے سے ضد کا عادی بن جاتا ہے.
دور حاضر کے بچے اب سخت رویے کو نا پسند کرنے لگے ہیں. ان کی قوت مشاہدہ ماضی کے بچوں کی نسبت زیادہ تیز ہے. آزما کر دیکھ لیں، ایسے بچے محبت اور دلیل سے ضد چھوڑ دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں. ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کی ضد کے سامنے بڑے بھی ضد نہ کر بیٹھیں. معاملہ فہمی ضد کو ختم کر سکتی ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *