علم دشمنی ، انسان دشمنی سے شروع ہوتی ہے

qasim yaqoob

حالات کے تناظر میں ہر چیز پھل پھول رہی ہے مگر دو چیزیں بری طرح اپنے اختتام کی جانب رواں ہے۔ ایک انسانیت اور دوسری انسانیت پر کھڑی علم دوست تہذیب___مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم نے صدیوں سے انھی دو چیزوں کی قربانیاں دی ہیں جس کا ثمر ہمیں ان اشیا کی بے توقیری میں نظر آرہا ہے۔ تعلیم اور تہذیب کا جنازہ ہم سب نے ’’تازیوں‘‘ کی طرح سجا لیا ہے جوکسی بڑے اندوہ ناک واقعے کے انتظار میں سرِ راہ رکھا اپنی آخری آرام گاہ کا منتظرہے۔
حالات ہی کچھ ایسے بن گئے کہ تعلیم کا معیار اور ضرورت سب ثانوی ہوگئے۔ بھلا لاش سڑک کنارے پڑی ہو تو کیا آپ دوسرے کنارے پھولوں کی کیاری کی تعریف کر سکتے ہیں۔ بس یہی سمجھ لیں کہ ہم کیسے ان حالات میں آرٹ کا رونا روئیں! کیسے تعلیمی اداروں کی معیار بندی پر کام کرسکیں اور کیسے محبت بھری نظموں سے اپنے پیار کرنے والوں کا دل لبھا سکیں۔ خون آلود شام کے بطن سے خوف ناک صبح کا آغاز تو ممکن ہے مگرپھولوں بھری معطر اور رنگیں سحر کا سواگت ناممکن اور مضحکہ خیز بھی ہے۔
ہم نے یورپ کی علمی برتری کا بہت واویلہ مچا رکھا ہے۔ مگر ہمیں شاید اندازہ نہیں کہ یورپ جیسی ترقی یافتہ اقوام میں بھی علم دشمن فکریں موجود تھیں۔ یہ فکریں زیادہ تر ’’مذہبی نوعیت‘‘ کی تھیں۔ بالکل ہمارے ہاں جس طرح ’’مذہبی قوتیں‘‘ آج بھی علم پرور کم اور ’’عقیدہ پروری‘‘ میں زیادہ مہارت رکھتی ہیں۔ہمارے ہاں تو علم دوستی کا کوئی بھی روپ کسی بھی شکل میں محفوظ نہیں رہا مگر یورپ میں ایک وقت میں یہ کچھ قوتیں علم کی مدد بھی کرتی رہیں جو اپنے تئیں علم دوست قوت کہلائی جاسکتی ہیں۔ کبھی علم دوست وقت جیت جاتی اور کبھی علم دشمن قوت اپنے عقیدائی‘‘ تصوارت کو غلبہ دینے میں کامیاب ہو جاتی۔ مگر ہمارے ہاں تو صرف ایک ہی نوعیت کی فکرکا غلبہ رہا جو اب اتنی زور آوار ہو گئی ہے کہ پوری قوم کی سانسیں پھولی ہوئی ہیں۔ ساری تعمیری سرگرمیاں اس ایک قوت کے آگے ہار گئیں ہیں۔
یورپی اقوام میں مذہبی قوتوں اور طاقت کے ایوانوں میں علم دشمنی کی کئی داستانیں سننے کو مل جاتی ہیں۔مغربی دنیا کے معروف ہےئت دان ’’ٹائیکو براھے‘‘ اور ’’جوھان کیپلر‘‘ کی کہانیاں بھی تاریخ کے صفحات پر عجیب طرح کا احساسِ شکست لیے ہوئے اپنی داستانِ حیات سناتی ملتی ہیں کہ پڑھتے پڑھتے دل و دماغ پر پژمردگی ڈیرہ ڈالنے لگتی ہے اورسماج کے ان اندھے قوانین کو کوسنے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے جب ’’جوھان کیپلر‘‘ کی داستانِ حیات کا آخری حصہ اپنے اوپر طاری کیا تو کئی دیر تک اس کیفیت میں رہا اور خود کو انھی اندھی طاقتوں کے بے رحم جذبات کے آگے بے بس پایا۔
ٹائیکو براھے‘‘ ہےئت اور ریاضی کا ماہر نہ تھا مگر وہ غیر معمولی طور پر افلاک کے مشاہدات پر عبور رکھتا تھا۔اس کے تجربات کو کیپلر اور نیوٹن نے بھرپور استعمال کیا۔ڈنمارک کے بادشاہ فریڈرک دوم نے اپنی دلچسپی کی بنا پر ’’براھے‘‘ کو ڈنمارک کے ساحل پر ایک جزیرے میں شاندار لیبارٹری بنا کر دی تھی۔یہ کوئی1576ء کی بات ہے۔ اس لیبارٹری کا نام ’’اورانی برگ‘‘ رکھا گیا۔ ٹائیکو براھے بیس سال تک یہاں کام کرتا رہا۔ٹائیکو نے ساری زندگی مشاہداتِ افلاک میں گزار دی۔ آپ کو حیرانی ہو گی کہ اُس کے پاس تو دوربین تک نہیں تھی مگر اُس کے نتائج تقریباً آج بھی درست مانے جاتے ہیں۔ مگر اُس کی رصد گاہ اورتمام مشاہدات صرف ایک فرماں رواں کے بیٹے سے مکالمہ کی بنا پر خواب بن گئے اور وہ جان بچا کر پراگ بھاگ گیا۔ ہوا یوں کہ ایک سائنسی مکالمے پر ڈنمارک کے ولی عہد سے اُس کی بحث اس سطح پر آ گئی کہ اُس نے ولی عہد کی توہین کر دی۔ یوں اُس کو اس توہین کی سزا کے طور پر ملک بدر کر دیا گیا۔ اور لیبارٹری کے ساتھ اُس کی تمام اشیا اوروہ قیمتی جگہ چھین لی گئی۔ ’پراگ‘ میں آکر اُس کی ملاقات اپنے ایک شاگرد ’’کیپلر‘‘سے ہوئی۔ٹائیکو براھے نے اپنے مسودات کا تھیلا کیپلر کو دے دیا اور ہمیشہ کے لیے جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ بعد ازاں کیپلرنے ٹائیکو کے مشاہدات کو آگے بڑھایا۔
’’جوھان کیپلر‘‘بھی عظیم ہےئت دان تھا۔ کیپلر کی مشہورِ زمانہ کتب ’’کائنات کی ہم آہنگی‘‘ اور ’’مریخ کی حرکت‘‘ نے قوانینِ افلاک کو سمجھنے میں ایک نئی جہت عطا کی۔یہ وہی کیپلر تھا جس نے اپنے استاد ٹائیکو براھے کی جدولیں شائع کروانے میں اپنی ساری جمع پونچی صرف کر کے اپنے استاد کی وصیت کو سچ کر دکھایا تھا۔ یہ لوگ بھی کیسے ’’وقف ‘‘لوگ تھے۔ اپنا سب کچھ ، دھن دولت لٹا کر صرف اپنے ذوق کی تسکین اور انسانیت کی بقا کے سوالوں کوتشفی بھرے جوابات دے کر چلے گئے۔وہ تواپنی مفلسی کا رونا بھی رونے کے قابل نہیں چھوڑے گئے۔کیپلر’’ لنز یونیورسٹی‘‘ میں پروفیسر کے عہدہ کا ملازم تھا۔چودہ برس پڑھانے کے بعد وہ رومن کیتھولک عقیدہ لوگوں کے غضب کا شکار ہو گیا۔ اُسے یونیورسٹی سے نکال کر ملک بدر کر دیا گیا۔ کئی سال بعد جب اُس کے حالات اتنے خراب ہو گئے کہ گھر کا خرچ چلنا بھی مشکل ہو گیا تو وہ اُسی شہر میں چلا آیا جہاں اُس کے استاد ’’ٹائیکو براھے‘‘ نے اُس کو اپنے مشاہدات کا تھیلا دیا تھا یعنی ’’پراگ‘‘ شہر___ اس کی تنخواہ کا کئی سال کا بقایا واجب الادا تھاوہ اپنے حالات کو بہتر کرنے کی غرض سے یہ بقایا رقم لینے پراگ کے سفر پر روانہ ہو گیالیکن اب کہ پراگ ٹائیکو براھے کی طرح ’’جوھان کیپلر‘‘ کی موت کا منتظر تھا۔ وہ اپنے گھوڑے پر بیٹھا ’’پراگ‘‘ کی سمت روانہ تھا کہ راستے پر ہی اُسے بخار اورنمونیہ کے ہاتھوں ایک مقامی بستی میں رکنا پڑا ور وہیں انتقال کر گیا۔یوں یہ دونوں ہےئت دان، افلاک آشنا سائنسدان ظالم سماج کے سامنے ہار گئے۔ دونوں سائنس دان زمین والوں کو فتح کرنے میں ناکام رہے۔ ٹائیکو براھے کو ایک ولی عہد نے زلیل و رسوا کر کے پراگ بھاگنے پر مجبور کر دیا اور اپنی اَنا کو آنچ نہ آنے دی۔ اسی طرح ’’جوھان کیپلر‘‘ پر ’’لنز ‘‘یونیورسٹی کی کٹڑ رومن کیتھولک انتظامیہ نے زمین تنگ کر دی جو افلاک کی تشریحات کر تے ہوئے تھگ گیا تھا۔افلاک کی کشادگی میں سانس لینے والے زمین کی گھٹن کا اندازہ نہ کر سکے۔جو گندی سوچوں اور عقیدوں کے تعفن سے پھیلی ہوئی تھی۔
’’جوھان کیپلر‘‘ کے مشاہدات آج بھی بول رہے ہیں کہ ’’ہر سیارہ سورج کے گرد ایک بیضوی مدار میں حرکت کرتا ہے اور جس کے دو مرکزی نقاط میں سے ایک نقطے پر سورج ہوتا ہے‘‘ مگر جوھان کیپلر کے زندگی کے اُن تجربات کو کوئی یاد نہیں کرتا جس نے اُسے اپنے استاد ٹائیکو براھے کے جدول چھپوانے میں گزارنے میں تکلیفیں دی۔زمانہ بھی کتنا سفاک ہے وقت گزرنے پر صرف وہی چیزیں یاد کر لیتا ہے جواُسے ضرورت ہوتی ہے۔یہ چیزیں حاصل کرنے میں وقت نے اِن اذہان سے کیا سلوک کیا تھا،یہ بھول جاتا ہے۔
اپنے آپ کو وقف کر دینے والے لوگوں کا سماج کے ساتھ آج بھی وہی جھگڑا ہے۔ کسی کونے میں بیٹھ کر کام کرنے والے لوگ آج بھی اپنی محرومیوں پر نوحہ کناں ہیں مگر اُن کے ماتم کی آواز اُن کے ہونٹوں سے اُٹھتی ہے اور وہیں دائرے بناتی ہوئی گر جاتی ہے۔ جب وہ خود بھی اُسی آواز کے ساتھ گر جائیں گے تو زمانہ اُن کے مرے ہوئے جسم سے اپنے کام کی چیزیں نکالے گا اور اُن کو قافلوں کی گرد بنا کر ساتھ ساتھ لیے پھرے گا۔
علم دشمنی ،انسان دشمنی سے شروع ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں علم دوستی اس لیے فروغ نہیں پا رہی کہ ہم انسان دشمن قوتوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ اُن کا ساتھ دیتے ہیں۔ اُن کی تخریبی اعمال کو سچ مانتے ہیں، اُن کو معاشی، معاشرتی طاقت فراہم کرتے ہیں اوریوں بالواسطہ ہم علم دشمنی میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ہم اپنی طرف سے اپنے عقیدوں کو بچا رہے ہیں اُن کو زندگی دے رہے ہیں مگر افسوس ہم’’ ٹائیکو براھے ‘‘کو مارنے والے ولی عہد ہیں اور ہمارے سوچیں کٹڑرومن کیتھولک ہو چکی ہے جو ’’جوھان کیپلر‘‘ کی موت کا باعث بنی تھیں۔

علم دشمنی ، انسان دشمنی سے شروع ہوتی ہے” پر ایک تبصرہ

  • مارچ 22, 2016 at 8:16 PM
    Permalink

    بہت اہم نکتہ۔ علم دوستی انسان دوستی کا دوسرا نام ہے۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *