دستی کے شواہد غیرمصدقہ قرار

dastiپارلیمنٹ لاجز میں 'غیر اخلاقی محفلوں' سے متعلق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے قائم سات رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا کہنا ہے کہ صرف شراب کی بوتلیں دکھانا مصدقہ شواہد نہیں کیوں کہ پارلیمنٹ میں غیر مسلم اراکین بھی رہتے ہیں جن کے پاس شراب کا لائسنس موجود ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ آزاد رکن قومی اسمبلی نے رواں ماہ کے آغاز میں الزام لگایا تھا کہ متعدد اراکین اسمبلی پارلیمنٹ لاجز میں 'غیر اخلاقی' سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
بعدازاں ان الزامات کی تحقیقات کے لیے سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وزیر داخلہ نثار علی خان پہلے ہی دستی کے الزمات کو مسترد کر چکے ہیں۔
اسپیکر کا کہنا تھا کہ اگر دستی کے لگائے گئے الزامات غلط ثابت ہوئے تو پارلیمنٹ ان کے خلاف سزا کا فیصلہ کرے گی۔
منگل کو شیخ روحیل اصغر کی صدارت میں پارلیمنٹ لاجز میں شراب مجرے کی محفلوں سے متعلق جمشید دستی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے قائم سات رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔
اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز اور سی ڈی اے حکام بھی شریک ہوئے جس کے دوران جمشید دستی کے فراہم کردہ شواہد کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ خصوصی کمیٹی کا آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے کے لیے سفارشات مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رکن کمیٹی خواجہ سہیل منصور نے کہا کہ ایسے الزامات سامنے آنا سی ڈی اے کی نااہلی ہے جس پر چئیرمین سی ڈی اے سے استعفٰی لے لینا چاہیئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *