ایگزیکٹ سے بڑا اسکینڈل

ali imran junior
اس ملک میں ایک اور میاں صاحب ہیں جن کی "منشا" کے خلاف کوئی کام ہوتا ہے نہ کوئی ان کی سرزنش کرسکتا ہے...جی ہاں... میاں منشا کی فائلیں بهی کهل گئیں... آپ لوگوں کو یاد ہوگا کچه عرصے پہلے بڑے میاں صاحب نے بہاولپور کے دورے کے دوران نیب کو شٹ اپ کال دی تهی..وجہ یہی میاں منشا تهے.. نیب کی حالت بهی پتلی ہوگئی لیکن کچه نادیدہ قوتوں کے میاں صاحب کی شٹ اپ کال پر کان کهڑے ہوگئے جس کے بعد فائلیں کهلنا شروع ہوگئیں...
میٹرو ٹرین منصوبہ.. اورنج ٹرین..ایل این جی گیس.. نندی پور پراجیکٹ... اسحاق ڈالر کی منی لانڈرنگ...سانحہ ماڈل ٹاون سمیت کئی وفاقی اور پنجاب کے وزرا کے خلاف شواہد اکٹها کرلئے گئے....میاں منشا کے خلاف جو فائل تیار ہوئی ہے اس کے سامنے تو ایگزیکٹ کیس کوئی حیثیت ہی نہیں رکهتا.. ایگزیکٹ کیس تو ایک اخباری رپورٹ کی بنیاد پر بنایا گیا جس کا کوئی مدعی ہے نہ گواہ.. 11 ماہ سےحکومت کوئی ایک ثبوت حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے لیکن مسلسل ناکامی کا شکار ہے...1977 میں ایک چهوٹی سی ٹیکسٹائل مل "نشاط" کے نام سے چلانے..پرانے کپڑے اور ٹوٹی چپل پہننے والے میاں منشا کی موجودہ بے تحاشا دولت کا سراغ تو لگائیں..2010 میں پاکستان کا امیر ترین شخص کہلوانے والا میاں منشا کتنا ٹیکس دیتا ہے ریکارڈ نکلوائیں ایف بی آر سے... چلیں یہ بهی نہ کریں ٹیکس وزیراعظم صاحب کون سا دیتے ہیں..جو یہ بندہ دے...آگے سنو...
لاہور کے جوہر ٹاون میں نشاط امپوریم کے نام سے جو شاپنگ مال بنایا جارہا ہے اس میں ایک بجلی کا ایک ٹرانسفارمر لگوانے کیلئے سرکاری خزانے کو 4 ارب روپے سے زائد کا چونالگادیا گیا..جهوٹ ہے تو لیسکوکا ریکارڈ چیک کرلیں...مزید سنیں...
لندن میں فائیو اسٹار جیمز ہوٹل 6 کروڑ پونڈ سے خریدا...کیا تگڑم بازی کی خود چیک کرلیں... سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس کا دعوی ہے کہ منی لانڈرنگ سے ہوٹل خریدا کیا... ایف بی آر کے تین اعلی افسران نے جب اس کی تحقیقات کی اور شواہد حاصل کئے تو ان کو انکے عہدوں سے ہٹادیا گیا... ساری تفصیل ایف بی آر سے لے سکتے ہیں.. آگے اور بهی سنیں...
2015 میں کی گئی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بجلی پیدا کرنے والی آئی پی پیز کو 400 ارب روپے سے زائد کی غیرآئینی اور غیرقانونی ادائیگیاں کی گئیں جس کا بڑا حصہ میاں منشا کی آئی پی پیز کو گیا...بات ابهی ختم نہیں ہوئی...
میاں منشا کو مسلم کمرشل بینک نجکاری کے نام پر جس طرح تهالی میں رکه کے پیش کیا گیا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فناننس نے جب اس کا سارا ریکارڈ طلب کیا تو یہ معاملہ بهی دبا دیا گیا.. کمیٹی کا آرڈر اور اجلاسوں کے منٹس ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں... ہمت ہے تو اور سنیں...
اسحاق ڈار صاحب نے میاں منشا کے صاحبزادے کو سوئی نادرن کا ڈائریکٹر کیابنوادیا وارے نیارے ہوگئے.. پورے پنجاب میں سردیوں کے دوران گیس کی سپلائی بند رہتی ہے لیکن جب سے صاحبزادے ڈائریکٹر بنے ہیں میاں منشا کی ڈی جی سیمنٹ فیکٹری میں ایک منٹ کیلئے بهی گیس بند نہیں ہوئی اور نہ پریشر میں کوئی کمی آنے دی گئی...
اور سنیں گے؟؟؟؟؟
کہاں تک سنوگے کہاں تک سناوں... ؟
ایک طرف میاں صاحب کے چہیتے میاں منشا کی اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ، ٹیکس چوری، مالی بے ضابطاگیوں کے ٹهوس شواہد ریاستی اداروں کے پاس محفوظ ہیں لیکن کوئی کارروائی نہیں.. دوسری طرف ایگزیکٹ اور بول کا مالک شعیب شیخ بیگناہ 11 ماہ سے سلاخوں کے پیچهے ہے...شعیب شیخ کے خلاف حکومت پورا زور لگاکر بهی ایک ثبوت حاصل نہ کرسکی لیکن دوسری طرف میاں منشا کی موٹی موٹی فائلیں ثبوتوں سے بهری پڑی ہیں...یہ تو میں نے صرف چند ایک کہانیاں سنائی ہیں مزید بهی سناتا رہوں گا..میں بطور صحافی حلفیہ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ جب انصاف اور قانون من پسند لوگوں تک محدود ہوجائے تو پهر اس معاشرے کی تباہی یقینی سمجهیں..مولا علی کرم اللہ وجهہ نے پتهر پر لکیر بات کئی صدیوں پہلے کہہ دی تهی کہ....
کفر کا معاشرہ تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم کا معاشرہ کبهی نہیں-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *