وزیر اعظم نواز شریف کی عمران خان سے ملاقات، طالبان سےمذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

imranوزیراعظم محمد نواز شریف نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے اہم ملاقات کی ہے جس میں طالبان سے مذاکرات پر نئی کمیٹی کی تشکیل پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ دونوں رہنمائوں نے مذاکرات کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان ہونے والی اس اہم ملاقات میں طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے جبکہ رستم شاہ کو حکومتی کمیٹی میں شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ عمران خان نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے وفاقی حکومت کی غیر مشروط مدد کی جائے گی۔ مذاکرات کی کامیابی کیلئے ہر مکمن مدد کرینگے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ بہت سی قوتیں مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ آپریشن سے بچ کر مذاکرات کو راستہ اپنانا چاہیے۔ طالبان کی اکثریت مذاکرات چاہتی ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ مذاکرات پہلی ترجیح، آپریشن آخری آپشن ہونا چاہیے۔ جو گروپ مذاکرات میں شامل نہ ہوں ان کیخلاف آپریشن کیا جائے۔ وزیر اعظم سے ملاقات میں عمران خان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں 2 لاکھ 60 ہزار بچے ویکسین سے محروم ہیں۔ انسداد پولیو مہم کو مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔ گفتگو کے دوران وزیراعظم محمد نواز شریف نے پاکستان میں قیام امن کیلئے عمران خان کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کی منزل حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ واضع رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعظم سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے عمران خان کو بلانے کی بجائے اپنے وفد کے ہمراہ ان کی رہائشگاہ پر ملنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف حفاظتی انتظامات اور پروٹوکول کے بغیر اپنے وفد کے ہمراہ عمران خان کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ عمران خان نے پارٹی رہنمائوں کے ساتھ وزیراعظم کا استقبال کیا۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان ہونے والی اس اہم ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی، شیریں مزاری، جہانگیر ترین اور پولیٹیکل سیکرٹری آصف کرمانی بھی شریک تھے۔ ملاقات ایک گھنٹہ 10 منٹ جاری رہی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشتگردی ہے۔ دہشتگردی سے نمٹنا ایک بہت بڑا چلینج ہے۔ حکومت مذاکرات کو موقع دے رہی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے صحیح موقف اختیار کیا ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت کا نقطہ نظر ایک ہے۔ شکر ہے کہ دہشتگردی کیخلاف قومی اتفاق رائے بن گیا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ڈائیلاگ کے ذریعے مذاکرات کرنے اور نہ کرنے والوں میں تقسیم کرکے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ واضع ہو گیا ہے کہ ایک چھوٹا گروپ مذاکرات نہیں کرنا چاہتا۔ میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ مخالفین چاہتے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں توپیں چلائیں۔ آپریشن ناگزیر ہو تو عوام کی سلامتہ یقینی بنائی جائے۔ آپریشن کی ناکامی کے باعث ملک میں دہشتگردی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *