2013ء: چینی عدالتوں نے 1.16ملین ملزمان میں سے 99.93فیصد کو سزائیں سنا ئیں!

chiana courtsچینی عدالتوں نے گزشتہ برس 11لاکھ سے زائد مقدمات کے فیصلے سنائے۔ ان فیصلوں میں صرف825لوگوں کو بری کیا گیا۔ سپریم پیپلز کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ ان مقدمات میں پیش ہونے والے ملزمان میں سے 99.93 فیصدمجرم قرار پائے۔
کمیونسٹ پارٹی کے زیرِ انتظام چلنے والی نیشنل پیپلز کانگرس کے سالانہ اجلاس کے بعد جاری کردہ رپورٹ میں، سپریم پیپلز کورٹ کے سربراہ، زو کیانگ نے کہا ہے کہ گزشتہ برس چینی عدالتوں نے 954000جرائم کے مقدمات سنے اور 1.158ملین لوگوں کو مجرم قرار دیا۔
زوکیانگ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ قوانین کے مطابق عدالتوں نے صرف825لوگوں کو معاف کیاہے۔یہ معافی یا تو ’’انسانی حقوق کے تحفظ‘‘ کی بنیاد پر دی گئی اور یا ’’غیر قانونی ثبوت‘‘ کے سبب دی گئی۔چین کے نظامِ قانون میں نفسیاتی اور جسمانی تشدد عام ہے۔ یہاں پولیس کی جانب سے ملزمان کو اعترافِ جرم پر مجبور کیاجانا عام ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ چینی عدالتوں کو سیاسی طور پر کنٹرول کیا جاتا ہے ۔ ان کے فیصلوں پر حکومت کا ایجنڈا اکثر اثر انداز ہوتا ہے اور سیاسی وسماجی کارکنوں پر فرضی مقدمے چلا کر انہیں مجرم قرار دے دیا جاتا ہے۔
نیشنل پیپلز کانگرس کو پیش کی گئی ایک اور رپورٹ میں، سپریم پیپلز پروکیوریٹریٹ کے سربراہ، کاؤ جیان مِنگ نے کہا کہ ’’طاقت کے غیر ضروری استعمال جیسے اقدامات سمیت تفتیش کے غیر قانونی طریقوں‘‘ کے اپنائے جانے پر، دورانِ تفتیش پراسیکیوٹروں نے 72370بار مداخلت کی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *