مشرف کی کوتاہیاں معاف کردینی چاہیئں!

afreen
رات مختلف ٹی وی چینلز پہ ایک ہی موضوع زیر بحث تھا ،اوروہ تھا پرویز مشرف صاحب کا وطن پاک سے باہر جانا۔شرکاء گفتگو کی نظر میں مشرف صاحب ایک مجرم تھے،سو مشرف صاحب کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہ دی جاتی ،اور اُن کو سزا دی جانی چاہیے تھی۔اُن کی گفتگو سے تین اہم نقاط جو کہ مشرف صاحب پہ ایک الزام کی شکل میں تھے، سامنے آئے۔
الف:مشرف صاحب بینظیر قتل کیس میں ملوث ہیں ۔
ب: لال مسجد پہ حملہ ۔
ج: بگٹی خاندان پہ حملہ ۔
میں سمجھتی ہوں کہ ایک تجزیہ نگار کو غیر جانب دار ہو کر بات کرنی چاہیے ۔۔ہر انسان کا اپنا نقطہ نظرہوتا ہے ،اُس میں غلطی کا امکان بھی ہو سکتا ہے اور انسان کے اُس نقطہ نظر سے دوسرے انسانوں کا متفق ہونا لازمی نہیں ۔ہو سکتا ہے آپ بھی مجھ سے اتفاق نہ کریں ،بہرحال جو حالات و واقعات میرے علم میں ہیں ،اُن کے مطابق بینظیر صاحبہ جب وطن واپس تشریف لائیں تو اُن کی سیکورٹی کا پورا انتظام کیاگیا ۔۔۔اُن کو جو گاڑی مہیا کی گئی وہ نہ صرف بلٹ پروف تھی بلکہ بم پروف بھی تھی ،دوسرے وہ گولی لگنے سے شہید نہیں ہوئی تھیں بلکہ فائرنگ کی آواز سے بد حواس ہو کر نیچے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے سکریو لگنے سے شدید زخمی ہوئیں تھیں اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہو گئی تھیں گاڑی کے اندر بیٹھے ہوئے باقی اُنکے ساتھیوں کو چوٹ تک نہ آئی تھی ۔۔۔اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ بے نظیر کی موت سے کس کو فائدہ حاصل ہونا تھا ،جو کہ بعدمیں ہوا بھی۔مشرف صاحب کو ،یا اُن کے خاندان کو؟؟ ایک بات واضح کرتی چلوں کہ اگر اُس وقت بی بی فوت نہ ہوتیں تو شاید پی پی پی کو اتنی شاندار کامیابی نہ ملتی ۔ بی بی صاحبہ کی موت نے پی پی پی کے لیے لوگوں کی بے شمار ہمدردیاں سمیٹیں ۔۔اور نتیجہ پی پی پی کی پانچ سالہ حکومت ٹھہری ۔ عقل کہتی ہے کہ وہ شادی جو عمران خان کی شادی کے بعد منظر عام پہ آئی ،کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک بیوی کو اُ س کا علم پہلے سے نہ ہو ۔۔ اور ایک ماں یہ کیسے برداشت کر سکتی ہے کہ کوئی دوسرا اُس کے شوہر کی وراثت میں ،اُس کے بیٹے کا حصہ دار بنے ۔۔ذرا سوچیے کہ اگر الیکشن کے بعد بی بی صاحبہ ، زرداری صاحب سے قانونی طور پر الگ ہو جاتیں ،تو زرداری صاحب کی حیثیت کیا رہ جاتی ۔اور اگر مشرف صاحب کا بی بی صاحبہ کی موت میں ہاتھ تھا ،تو اپنے پانچ سالہ حکومت کے دوران پی پی پی کیا کرتی رہی ؟حکومت بھی اُن کی تھی ،اور عدلیہ کا ریموٹ بھی اُن کے ہاتھ میں تھا۔۔تو کس بات کے ڈر اور خوف نے پی پی پی کو مشرف صاحب کو کٹہرے میں کھڑا کرنے سے روکے رکھا۔دوسری بات لال مسجد پہ حملے کی ،تو اتنا عرض کرتی چلوں کہ اگر ایک اسلام دشمن ،اللہ پاک کے گھر میں چھپ کر مسلمانوں کو ختم کرنے لگے تو ایسی صورت میں ،کیا کرنا چاہیے ؟جتنی دین کی سمجھ مجھے ہے ،مولانا حضرات میری اصلاح کر دیں اگر میں غلط ہوں تو ،کہ اللہ پاک نے ایسی ہی صورت حال میں اسلام دشمن سے لڑنے کے لیے مقدس مقامات کے نزدیک، مسلمانوں کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ اے مومنوں ،تم بھی اُنھیں ویسے ہی گھروں سے نکالو،جیسا کہ اُنھوں نے تمھیں نکالا۔۔تم بھی اُنھیں وہی پہ ،مارو ،جہاں انھوں نے تمھیں مارا ۔۔۔سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اگر لال مسجد میں دین اسلام کی تعلیم دی جا رہی تھی ،تو وہ اسلحہ کہاں سے آیا تھا ،جو اُن بچوں حتی کہ بچیوں کے ہاتھوں میں بھی تھما دیا گیا تھا۔۔اور اگر مولانا صاحب اتنے ہی بے قصور تھے تو اُن کو برقعہ میں بھاگنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ اگر وہ مدرسے میں علم حاصل کرنے والے بچوں کے حامی تھے تو اُن سب کو باہر نکلنے کی اجازت کیوں نہ دی ۔۔۔اُن کو اپنی ڈھال کیوں بنایا ۔۔۔ لال مسجد واقعے میں شہید ہونے والے بچوں کا اصل قاتل کون ہوا ۔۔۔فوج ،مشرف صاحب یا مولانا صاحب ؟؟؟
تاریخ پاکستان گواہ ہے کہ جب سے مشرف صاحب نے ان دینی جماعتوں کو بین کیا ۔مدارس کو باقاعدہ رجسٹرڈ کرانے کا حکم دیا ۔۔توملک سے انتشار کم ہو ا۔۔۔ ایک وقت تھا کہ کراچی میں کسی بھی انسان کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جاتا تھا۔۔ ان دینی جماعتوں پہ بین لگانے سے یہ سلسلہ کم ہو گیا ۔۔جہاں تک بگٹی خاندان یا قبیلے پہ حملے کی بات ہے تو اتنا کہتی چلوں کہ اگر وہ آپریشن نہ کیا جاتا تو اب تک بلوچستان الگ ہو چکا ہوتا ۔۔۔ان قبائل میں انسانوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔۔بچہ دنیا میں بعد میں آتا ہے ، قبیلے کا سردار اُسے پہلے اپنے پاس گروی رکھ لیتا ہے ۔ وقت گواہ ہے کہ بار ہا بگٹی قبیلے نے گیس پائپ لائن کو نقصان پہنچا کے وطن عزیز کو بے بہا نقصان پہنچایا ہے ۔۔اُس آپریشن میں حصہ لینے والے فوجیوں سے پوچھا جائے کہ وہاں کس قدر بربریت تھی ۔ وہ لوگ پاکستان کے حق میں ہی نہ تھے تو ایسے لوگوں کی سرکوبی کا حکم تو تاریخ اسلام سے بھی ملتا ہے ۔اگر ان سب باتوں کو بھی ایک طرف رکھ دیا جائے تب بھی مشرف صاحب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔اُنھوں نے پاک آرمی جوائن کی ،تو یقین کئی مہمات میں حصہ بھی لیا ہو گا۔۔بہت سے معرکوں میں ،جنگ میں حصہ بھی لیا ہو گا ۔جب ہم اپنے گھروں میں نرم گرم بستروں میں نیند کا مزہ لوٹ رہے ہوں گے تو اُنھوں نے وہ راتیں سنگلاخ چٹانوں پہ ،برف پوش پہاڑوں پہ ،سرحدوں پہ گزاری ہوں گی ۔ اگر آج ہم ایک جرنیل کی خدمات کو پس پشت ڈال کر اُس کے ساتھ بد سلوکی کرتے ہیں تو آنے والے دنوں میں ہماری رداؤں کی حفاظت کون کرے گا ۔۔۔ میں کسی پارٹی کی کارکن نہیں ہوں ۔میرا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے ۔میں رکن ہوں تو پاکستان کی ۔۔۔میرا تعلق ہے تو اس دھرتی سے ہے ۔۔۔ سو جو اس وطن کا دوست وہ ہم سب کا دوست ۔۔میں یہ نہیں کہتی کہ مشرف صاحب دودھ میں دُھلے ہیں ۔۔مگر اُن کے وطن پاک کے لیے اچھے کاموں کو اگر مدنظر رکھا جائے تو کچھ کوتاہیوں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے!
(محترمہ! مشرف صاحب کی ’کچھ کوتاہیاں‘ یہ بھی ہیں کہ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو قید بھی کرایا تھا، آئین کو پامال بھی کیا تھا، حکومت پر قبضہ بھی کیا تھا، ملک کے منتخب وزیر اعظم کو ہتھکڑیاں لگوائی تھیں، حکومت کی اجازت کے بغیر کارگل آپریشن کرکے شکست کھائی تھی،امریکہ کو فوجی اڈے بھی دیے تھے، پاکستان سے بندے پکڑ کر امریکہ کے حوالے بھی کیے تھے۔۔۔یہ ذکر شاید آپ بھول گئی ہیں، نیزبے نظیر بھٹو شہید کی موت گاڑی کا لیور لگنے سے نہیں ہوئی، یہ بات بھی تحقیقات سے بھی ثابت ہوچکی ہے۔)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *