ہمارے امام

Asif

مولانا وحید الدین خان فرماتے ہیں
میرا عام تجربہ ہے کہ اسکالر لوگوں میں فکری ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے جب کہ مذہبی لوگوں میں اس طرح کا فکری ارتقاء نہیں ہوتا.مذہبی طبقے کے لوگ عام طور پر ذہنی ٹھہراو کا شکار رہتے ہیں.میں اکثر سوچتا رہتا ہوں کہ اس کا سبب کیا ہے تو اس کا سبب معلوم ہوا کہ سیکولر لوگوں میں مسلسل فری ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے.جبکہ مذہبی لوگوں میں یہ عمل رک جاتا ہے.
سوال یہ ہے کہ کیا اس کی وجہ مذہب بذاتِ خود ہے؟ کیا واقعی مذہبی روائت میں سوال اٹھانا اعتراض کہلایا جاتا ہے؟ اگر اس کا جواب ہم براہِ راست کسیبھی مذہبی کتاب سے مانگیں تو جواب نفی میں ہے. حتی کہ وہ صحیفے جو اب ختم ہو چکے ان کے متعلق بھی ایسا نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ مذہب آیا ہی سوالوں کے جواب دینے کو ہے. نہ کہ ہمارے دلوں اور اذہان میں آئے سوالات کے آگے بند باندھنے.
اللہ رب العزت اپنی عظیم کتاب میں ہمیشہ ان کو مخاطب ہے جو جانتے کہ "سوال" کیا ہوتا ہے. سوال کرنا کیا ہے اور ان کے جواب حاصل کرنا کیسی حکمت ہے.
قرآن حکیم جب انسان کو اپنے رب کی طرف مخاطب کرتا ہے تو عقل والوں کو اول سے آخر تک سرفہرست رکھتا ہے.
اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے علم والے ہی ڈرتے ہیں(جو صاحبِ بصیرت ہیں) سورہ فاطر.
آپ فرما دیجیے کہ علم والے اور بغیر علم والے برابر ہوسکتے ہیں؟ تحقیق سوچتے وہی ہیں جو صاحبِ عقل ہیں.
سورہ الزمر.
اور نصیحت صرف اہلِ علم کو ہی حاصل ہوتی ہے. آل عمران.
یہ چند آیات ہیں جن کامرکزی اور بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ انسان کو جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی گئی ہے اسکو استعمال میں لاتے ہوئے اپنی علم اور بصیرت میں اضافہ کرے. وہ سوالوں ہی کے مرہونِ منت ہے. نبی کریم کے پاس جب بھی کوئی سوال لے کر جاتا آپ ہمیشہ اسے بہتر سے بہتر جواب دیتے حتی کہ آپ کے پاس آنے والے واپس جانے والے ہی نہ رہتے.
ایک مشہور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے. فرمایا علم حاصل کرو چاہے تمہیں دور دراز ہی کا سفر کیوں نہ اختیار کرنا پڑے.
جب ہمارے سامنے ایسی صورتِ حال آتی ہے کہ مذہب اپنے طور پر ہمیں فہم کا بصیرت کا اور عقل و ذہن کو استعمال کرنے کا "حکم" دے رہا ہوتا ہے تو ایسی کون سی چیز ہے ایسا کون سا عنصر ہے جو ہماری سوچ اور ہمارے روئیے میں ایسی تربیت ڈال دیتا ہے کہ ہم اپنے سوا سب کو غلط اور گمراہ سمجھ رہے ہوتے ہیں.
یہ عنصر مولوی ہے. جسے بند گلی کا مولوی کہا جاتا ہے. یہ آپ کو قدم قدم پر ڈراتا ہے دھمکاتا ہے. اس کا کام ہی ڈرانا ہے. اس کی روزی اسی سے منسلک ہے. میرے ایک دوست نے  مولوی صاحب سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وصلم کے زمانے میں ازان سے پہلے کوئی درود نہیں پڑھا جاتا تھا, کیا میں ایسے ازان دے سکتا ہوں؟ مولوی صاحب ٹھٹھک گئے کہ یہ کیسا سوال آگیا. فوراً بولے نہیں ادب کا تقاضا ہے کہ پہلے کچھ پڑھا جائے . دوست نے عرض کی جناب ادب صحابہ اکرام سے ہی تو نکلا تھا جب انھوں نے ازان سے پہلے کچھ نہیں پڑھا تو ہم کیوں.
اب یہاں سے اصل بات شروع ہوتی ہے. کہ تمام مقتدی امام صاحب کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور میرے دوست کی ایک نہ چلنے دی. کبھی وہابی ہونے کے طعنے, کبھی دیوبندی ہونےکے میرے دوست نے خاموش ہونے میں ہی عافیت سمجھی. آپ کو ایسے ہزاروں واقعات روزمرہ کی زندگی میں ملیں گے جہاں جیسے ہی آپ نے روایت سے ہٹ کر بات کی لوگوں کے کان کھڑے ہوگئے غصہ میں حالت آپے سے باہر ہوجاتی ہے. وہ تمام لوگ جنہوں نے کبھی کوئی علمی یا فکری گفتگو نہ کی ہو کبھی ایسی مجلس میں نہ بیٹھے ہوں جن کا اوڑنا بچھونا محلے کے مولوی سے آگے نہ ہو یہ لوگ براہ راست اس جرم میں ملوث ہیں کہ عام سے امام کو سر پر بٹھا دیتے ہیں, اور امام موصوف بھی پیغمبرانہ حیثیت سے جس کو چاہے دین سے فارغ کردیں جس کو چاہے عاشقِ رسول قرار دے دیں.
آپ تھوڑی سی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے آپ کو ان مولویوں کے ایسے ایسے کارنامے دِکھیں گے کہ عقل دنگ رہ جائے. پرنٹنگ پریس سے جاری مذہبی صحیفے حرام قرار پائے, لاوڈ اسپیکر حرام کہا اور اب اسپیکر مولویوں سے کوئی لے کر دکھائے, ٹی وی پر تبیلغ حرام قرار دی گئی. میرا ایک روومیٹ بہت سمجھدار خوش اخلاق اور صوم و صلاۃ کا پابند تھا ایک دن باتوں باتوں میں فرماتا ہے ٹی وی کی تبلیغ حرام ہے, وجہ پوچھی تو فرماتے ہیں یہ شعاعوں کے زریعے آواز آتی ہے اور اس میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے. میں آگے سے خاموش.
دعوتِ اسلامی کے امیر الیاس عطار صاحب سے کون واقف نہیں؟ کسی مرید نے کہا اسلام میں عورت کی دیت آدھی ہے اور امام ابو حنیفہ کا بھی یہی قول ہے. مگر آج کچھ علماء کہتے ہیں کہ عورت کی دیت پوری ہے. آگے سے مولانا فرماتے ہیں کہ امام حنیفہ کے قول کے بعد ہماری آنکھیں کان بند ہیں ہم کسی کی نہیں سُنیں گے.
مولانا راحد محمود قادری صاحب ابوظہبی میں اہلِ سُنت کے مرکز کے مفتی ہیں اور ایک حلقہ رکھتے ہیں. ممتاز قادری کے معاملے پر فرماتے ہیں جو شخص ہم سے اختلاف رکھتا ہے چاہے تو ہم سے قطع تعلق کر لے. میں نے عرض کی میرے محترم کیا اس حوالے سے آپ سے کوئی سوال بھی نہیں ہوسکتا؟ تا کہ آپ دلائل اور تحمل سے سامنے والے کی ذہن سازی کر سکیں..فرماتے ہیں بالکل سوال نہیں ہوسکتا. یہ تمام مثالیں یہ تمام معاملات ہمیں ہر روز درپیش پیش ہیں. مگر ہمارے امام اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کو کُل کائنات سمجھ کر بیٹھے ہیں. ان کی قوت و حیثیت کا اندازہ اس سے ہی لگا لیجیے کہ ایک عام محلے کی سطح کے مولوی سے آپ اختلاف نہیں کر سکتے. اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس معاملے میں میرے بریلوی امام سرِفہرست ہیں.

ہمارے امام” پر بصرے

  • مارچ 26, 2016 at 10:59 AM
    Permalink

    اگر امامت کا منصب خود ساختہ یا چناؤ سے ملتا تو حضرت ابراہیم کبھی الله سے امامت کے منصب کی طلب نہ کرتے . اور نہ ہی الله قرآن میں کہتا کے قیامت والے دن ہر شخص اپنے امام کے ساتھ اٹھایا جاۓ گا .
    قرآن سے دلیل آپ کو دے دی ، اگے فکر آپ کا کام ہے

    Reply
  • مارچ 26, 2016 at 11:24 AM
    Permalink

    جزاک اللہ سر. مگر مجھے لگتا ہے آپ میری تحریر کا اصل مدعا سمجھ نہیں پائے.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *