برسلز دھماکے دہشت گردی یا۔۔۔؟؟

Bushra Ejaz
 دنیا کو یاد ہو گا اگست 1914ء میں آسٹرین شہزادے کے قتل کے بعد پہلی جنگ عظیم شروع ہوتی تھی، باؤربیل نے 1985ء میں اسمسئلے کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے ’’دہشت گردی کا صرف ایک واقعہ کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ تو نہیں ہو سکتا، مگر ایک الجھاؤ اور سرد جنگ کا شاخسانہ ضرور بنتا ہے‘‘۔ مگر باؤ ربیل کا یہ تجزیہ نائن الیون سے پہلے کا ہے جس سے قبل دنیا میں کوئی بڑی دہشت گردی، کسی ملک یا قوم کے خلاف، کسی بڑی جنگ کا باعث نہیں سمجھی جاتی تھی۔ مگر نائن الیون نے برپا ہو کر گزشتہ تجزیے اور اندازے غلط ثابت کر دیئے کہ اس کے بعد امریکی صدر نے مسلمانوں کے خلاف جنگ نہیں، کروسیڈ کا اعلان کر دیا اور امریکی جہاز افغانستان پر چڑھ دوڑے۔ نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن کو ’’ڈھونڈنے‘‘ کہ اس کے علاوہ کروسیڈ شروع کرنے کا اور کوئی بہانہ نہ تھا۔ سپر پاور کے پاس۔ چنانچہ کروسیڈ شروع ہو گئی، افغانستان مسمار ہو گیا، لاکھوں بے گناہ شہید اور لاکھوں ہی معذور ، جن پر ڈیزی کٹر بموں کے ساتھ خوراک کے پیکٹ برسا کر اپنی انسان دوستی اور جنگی مجبوری کا ثبوت پیش کرتی رہی۔ دنیا کی واحد سپر پاور اور جب ’’مطلوبہ مجرم‘‘ کو ڈھونڈنے میں ناکامی ہوئی تو ادھڑے ہوئے افغانستان پر نیٹو فورسز مسلط کر کے کابل کے قصر میں حامد کرزئی جیسے کٹھ پتلی حکمران کو بٹھا کر امریکہ نے اس جنگ کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا اور اسے وار تھیٹر بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔

دوسری جانب عراقی قوم جو پہلے ہی بے رحم امریکی پابندیوں کا شکاہو کر بنیادی ضرورتوں سے محروم ہو چکی تھی، اس پر کیمیائی ہتھیاروں کا الزام لگا کر اسے معتوب قرار دے دیا گیا۔ کیمیائی ہتھیار تو دستیاب نہ ہوئے، کہ تھے ہی نہیں۔ البتہ عراق، جو پیغمبروں اور رسولوں کی سر زمین تھا، پرانی تہذیبوں کا گہوارہ تھا، مشرق وسطی کی ایک بھرپور اسلامی طاقت کے طور پر اپنی شناخت بنا رہا تھا، اسے امریکہ نے کھنڈر بنا دیا، صدام حسین کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال کر اسے تختۂ دار پر جھولتے دیکھ کر بھی اس بے رحم سپر پاور اور اس کے یورپی ہمنواؤں کی تسکین نہ ہوئی، چنانچہ انہوں نے عراقی دماغ، چن چن کر مار دیتے، عراقی جیلوں میں ظلم و تشدد کی نئی مثالیں قائم کیں اور اس تہذیب یافتہ گوری قوم نے اس پر بس نہ کرتے ہوئے گوانتاناموبے کے نام پر ’’جنگی مجرموں‘‘ کے لیے ایک ایسا عقوبت خانہ کھولا، جہاں انسان کو کتے سے بھی بد تر سمجھا جاتا تھا اور اسے جانوروں
کی طرح لوہے کے پنجروں میں بند کر کے رکھا جاتا تھا۔ عراق میں شیعہ سنی فسادات کو ہوا دینے کے بعد اس ملک نے لیبیا کو تہس نہس کیا اور اس خوشحال ملک کی اس طرح اینٹ سے اینٹ بجائی کہ آج وہاں کے لوگ جانوروں سے بد تر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور اس اقتصادی طور پر مضبوط ملک میں ہر جانب خاک اڑ رہی ہے۔ رہا شام اور داعش کا معاملہ تو اسے شروع کرنے اور اس نہج تک پہنچانے کا اعتراف خود بڑی قوتیں کر چکی ہیں۔ جس کے پیچھے اسرائیلی مفادات اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی وسیع تر قبضے کے مقاصد واضح ہیں۔ فلسطین میں مسلمانوں پر کیا گزر رہی ہے اور غزہ کی پٹی کے محصورین، اسرائیلی ظلم و تشدد کے باعث کن ذلتوں سے دو چار ہیں، یہ باب اپنی جگہ اتنا شرمناک ہے کہ اسے کھولتے ہوئے ان مہذب قوموں کے اصل اور گھناؤنے چہرے کھل کر سامنے آنے لگتے ہیں۔
امن جن کا ترانہ اور انسانیت جن کا مذہب ہے۔
برسلز کی دہشت گردی جس نے ساری دنیا کو آج سوگوار کر رکھا ہے، ہم جانتے ہیںیہ ردعمل ہے۔ اس عمل کا جو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی کمپین چلا کر دنیا کی واحد سپر پاور اور اس کے حواریوں نے مسلم دنیا کے خلاف شروع کر رکھا ہے۔
وہ تمام ’’جرائم‘‘ جنہیں مغرب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلم ممالک میں کر چکا ہے، انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے بلکہ ان کی شناخت کو بھی اس بری طرح مسخ کیا ہے کہ آج ساری دنیا میں انہیں عالمی دہشت گرد سمجھا اور مانا جاتا ہے۔۔۔! اور یہ ’’دہشت گرد‘‘ جنہیں افغانستان میں طالبان کے نام سے سی آئی اے نے تخلیق کیا اور بعد ازاں مشرق وسطیٰ میں داعش کے نام سے اسی طرز کے جہادی پیدا کر کے مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں مروانے کا گھناؤنا منصوبہ بنایا، آج یہی داعش ایک بے قابو جن کی طرح، بوتل سے باہر آ چکی ہے اور اس کا نیٹ ورک اتنا وسیع ہو چکا ہے، کہ اگر صرف بیلجیئم کی ہی بات کی جائے تو سنا ہے وہاں یہ نیٹ ورک گہری جڑیں بنا چکا ہے، پیرس دھماکے جنہوں نے مغربی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، ان کے شاخسانے بھی اسی نیٹ ورک جوڑے جا رہے ہیں۔ جس نے برسلز میں تباہی مچا کر رکھ دی ہے۔ جس کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ برسلز میں ہائی ریڈ الرٹ ہے اور مغربی دنیا اس وقت اس ’’فتنے‘‘ سے نمٹنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھی ہے جو انہوں نے اسلامی دنیا کے لیے خود پیدا کیا اور جو ایک عفریت کی شکل اختیار کر کے آج خود ان کے لیے خطرۂ عظیم بن چکا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کابل پر قبضے کے دوران نیٹو فوسز کے لیے طالبان!
امریکہ اور یورپی ممالک کا یہ جنگی جنون جس نے مسلم دنیا کو تاخت و تاراج کرنے کی ٹھان رکھی ہے، اس وقت یمن اور سعودی عرب کو باہم ٹکرانے کے بعد اب ترکی کونسلی بنیادوں پر کمزور کرنے کے در پے ہیں۔ کہ شاید مسلم دنیا کا یہ واحد ملک ہے جو اس وقت اقتصادی ترقی میں یورپ کا ہم پلہ دکھائی دیتا ہے اور جس میں اسلام پسندوں نے نہایت توازن اور اعتدال پسندی سے لبرل ازم اپنے اندر ضم کر لیا ہے۔
اس سیناریو میں لاکھوں شامی مہاجرین کا المیہ قابل دید ہے جن پر یورپی یونین نے اپنی سرحدوں کے دروازے بند کر رکھے ہیں، اور انہیں جرمنی اور ترکی کے علاوہ کہیں پناہ نہیں مل رہی۔ ان کی زمینوں پر بارود بونے، انہیں تباہ برباد کرنے اور شام کے تاریخی ملک کو مسمار کرنے والے لاکھوں بے گناہ شامیوں کی ہلاکت پر جتنے پر جوش دکھائی دیتے رہے ہیں، اتنے ہی افسردہ ہیں، آج برسلز دھماکوں پر افسردہ ہم بھی ہیں کہ جہاں کوئی بے گناہ اور معصوم انسان مارا جاتا ہے، وہاں انسانیت سوال بن کر کھڑی ہو جاتی ہے اور وہ سارے امن پسند انسان جو انسانی جان کی حرمت اور قدر و قیمت سے آشنا ہیں ان کے دل افسردہ اور ملول ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ برسلز میں ہلاک ہونے والوں کے لیے ہم سب افسردہ و ملول ہیں۔ مگر کیا افغانستان، عراق، لیبیا،شام،فلسطین، اور یمن میں بے گناہ ہلاک ہونے والے لاکھوں انسانوں کا دکھ انسانیت کا دکھ نہیں؟ گریٹر اسرائیل کا تصور جتنا بھی ’’عظیم ومقدس ‘‘ ہواور صلیبیوں کے سینے پر سلطان صلاح الدین ایوبی کی تلوار کا وار کتنا ہی گہرا ہو اور نائن الیون کے نام پر شروع کی جانے والی دہشت گردی کتنی بھی ’’جائز‘‘ ہو، کیا اسے کروسیڈ کا نام دیا جا سکتا ہے؟ کیا اس کروسیڈ کے کند تلوار سے دنیا کو ذبح کتنی بھی ’’جائز‘‘ ہو کیا اسے کروسیڈ کا نام دیا جا سکتا ہے؟
مہذب دنیا اکثر ان انتہا پسند نظریات کے زیر سایہ کب تک دہشت گردی کی مختلف شکلوں، ناموں سے نبٹے گی؟ ہم تیسری دنیا کی کمزور اقوام، توعادی ہو چکیں، اس نظریے کا جبر سہنے کی، کیا مہذب اقوام ، اس خوفناک بلا کا اک تھپیڑا بھی سہہ سکتی ہیں؟ جو اب پورے یورپ کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔۔۔!!

برسلز دھماکے دہشت گردی یا۔۔۔؟؟” پر ایک تبصرہ

  • مارچ 28, 2016 at 7:42 AM
    Permalink

    Now you should also show how the West was involved in the ghastly killing of children and women in Lahore on Easter Sunday

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *