عورتوں کی قسمت اور نظریاتی کونسل

Irfan Hussainعرفان حسین

میں نہیں جانتا کہ اپنی من پسند شریعت کے نفاذ کے لیے طالبان کیوں ہزاروں افراد کو ہلاک کررہے ہیں جب اسلامی نظریاتی کونسل ایک گولی چلائے بغیر ان کے نظریات کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔ اس معزز کونسل کے تجویز کردہ قوانین پاکستان کو قدیم دور میں دھکیل رہے ہیں۔طالبان کی طرف سے کیے جانے والے خود کش حملے اتنی تباہی نہیں لاسکتے جتنے اس کے تجویز کردہ قوانین۔ حال ہی میں اس مقدس کونسل کی طرف سے تجویز کیا گیا کہ لڑکیوں کی شادی کے لیے کم از کم عمر کی حد مقرر نہیں کی جانی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ کہ اُنہیں ان کے شوہروں کے حوالے کرنے سے پہلے انکی بلوغت کا بھی انتظار نہ کیا جائے۔
اس کا مطلب یہ کہ ایک لڑکی جس کی عمر فرض کریں اٹھ سال ہے، کی شادی اس کی عمر سے چار یا پانچ گنابڑے مرد سے کر دی جائے اور وہ بارہ تیرہ سال کی بچی اس کے بستر پر جانے پر مجبور ہوگی۔ وہ چھوٹی بچی کو اپنی زندگی کے اس اہم ترین فیصلے میں کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں جسمانی بلوغت سے بھی زیادہ اہم بات ذہنی بلوغت ہے تاکہ وہ اپنے شریکِ حیات کے چناؤ کی اہل ہو، یا کم از کم اپنی رائے دے سکے۔ اس ضمن میں مذہب اُس کی رائے کا احترام بھی کرتا ہے اور اسے اجازت بھی دیتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ ایک اٹھ سال کی بچی صاحبِ رائے نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ مذہب کی طر ف سے خود کو دیے گئے حقوق سے استفادہ نہیں کرسکتی۔ ایک اور دقیانوسی قدم اٹھاتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل نے موجودہ عائلی قانون، جس کے تحت مرد کو دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت درکار ہوتی ہے لیکن کونسل کے مطابق شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینے کا تصور غیر اسلامی ہے۔ اگرچہ مر د کی حاکمیت کے اس معاشرے میں ہمیشہ سے ہی اس قانون کی پامالی کی گئی ہے کیونکہ بیوی کو شوہر کو مزید شادیوں کی اجازت دینا ہی پڑتی ہے ، اس کے باوجود ایوب خان کے دور میں بنایا گیا یہ عائلی قانون خواتین کو کم از کم کاغذی کاروائی کی حد تک اختیار دیتا ہے۔
چند ماہ پہلے اسلامی نظریاتی کونسل نے ڈی این اے ٹیسٹ کو ماننے سے انکار کردیا تھا حالانکہ اس سے آبروریزی کے مجرم کو پکڑنا ممکن ہوجاتا ہے۔ اس سے انکار کی وجہ غالباً یہ ہوگی کہ نظریاتی کونسل کے مولوی اس بات پر مصر ہیں کہ ایسے کیسز کی شہادت دینے کے لیے چار عاقل و بالغ ،نیک اورصالح مردوں کی ضرورت ہے جو عدالت میں گواہی دے سکیں کہ اُنھوں نے اس جرم کو اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ پختہ اینٹوں سے بنے ہوئے مکانات کے معاشروں میں ایسی گواہی ناممکن ہے کیونکہ ایسے گھناؤنے جرائم کرنے والے چاردیواری کے اندر ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جب ریپ کا ارتکاب گن پوائنٹ پر ہو تو وہ کسی بھی کو اس کا گواہ بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کیا گن بردار مجرموں کے سامنے صالح مرد اپنی نیکی کی سند پیش کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان کو اس واقعے کا گواہ بننے کا موقع دیں؟یہی وجہ ہے کہ ایسے جرائم کا ارتکار ب کرنے والوں کو بمشکل ہی سزا مل پاتی ہے۔
جب سول سوسائٹی نے احتجاج کیا کہ اقلیتوں پر توہین کے جھوٹے مقدمے بنانے والوں کو سزائے موت دی جائے تو اسلامی نظریاتی کونسل کے کچھ ا راکین نے اس تجویز کی شدت سے مخالفت کی۔ چونکہ توہین کے کیس میں ملزم کو سزائے موت ملتی ہے، اس لیے عدل کا تقاضا ہے کہ اس کا جھوٹا الزام لگانے والوں کو بھی اسی سزا کا سامنا کرنا پڑے لیکن یہاں علماء کی بصیرت یہ تھی کہ سزائے موت کا کوئی جواز نہیں۔ اس کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل نے خواتین کے تحفظ کے ایکٹ 2006 کی مخالفت کی۔ یہ ایکٹ ضیا دور میں بنائے گئے حدود آرڈیننس ، جس کے تحت آ بروریزی کا شکار ہونے والے عورت پر بھی زنا کا مقدمہ بنتا ہے، سے تحفظ دیتا ہے۔ ہم میں سے کچھ کوضیا دور کا ایک کیس یاد ہوگا جب ایک نابینا خاتون سے زیادتی کی گئی اور وہ حاملہ ہوگئی۔ چونکہ وہ آ بروریزی کرنے والوں کو شناخت نہیں کرسکتی تھی، اس لیے اُس پر زنا کا مقدمہ بنا۔ قومی اسمبلی کا پاس کردہ Domestic Violence Bill سینٹ میں التوا کو شکار ہے۔ اس کی ایک وجہ اسلامی نظریاتی کونسل کی اس پرہونے والی تنقید کا ڈر بھی ہے۔
خواتین کے خلاف ان تمام اقدامات سے یہ اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں کم تعلیم یافتہ آدمی ہیں جو نفسیاتی طور پر عورتوں کے دشمن ہیں لیکن اُنھوں نے مذہب کا لبادہ اُڑھ رکھا ہے۔ کم عمر لڑکیوں کی شادی کرنے کے فیصلے پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس سے عورتوں کی شادی کرنے کی قانونی عمر، جو سولہ سال ہے، سے کم کرکے تیرہ سال کرنے کا مطلب آبادی میں اضافہ ہے ۔ مہذب دنیا، جو اپنی آبادی میں اضافے کو کنٹرول کر چکی ہے، میں عورتوں کی زیادہ عمر میں شادی کرنے کا رواج ہے لیکن پاکستان، جس کی آبادی دھماکہ خیز انداز میں بڑھ رہی ہے اور جو اپنی موجودہ آبادی کی کفاکت کرنے کے لیے دنیا بھر سے رقوم مانگ رہا ہے، میں لڑکیوں کی شادی کی عمر مزید کم کردی گئی ہے، حالانکہ عزتِ نفس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جب تک معاشی خودانحصاری حاصل نہ کرلیں، اپنی موجودہ آبادی میں اضافہ قابلِ تعزیر جرم قرار دے دیں، لیکن کیا کہنے اسلامی نظریاتی کونسل کے!اس فیصلے سے یقیناًلڑکیوں کے حقوق بھی مجروع ہوں گے کیونکہ وہ انے شریکِ حیات کا انتخاب کرنے کی مجاز نہیں ہوں گی۔ کیا ان علم�أ سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ جو حق اسلام نے خواتین کو دیا ہے، وہ اسے چھیننے والے کون ہوتے ہیں؟
مردوں کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت اُس دور میں دی گئی تھی جب جنگ و جدل کا زمانہ تھا اور جنگوں میں مرد ہلا ک ہو جاتے اور عورتیں بیوہ ہوجاتیں۔ چونکہ عورتیں ملازمت یا کاروبار نہیں کرسکتی تھیں، اس لیے ان کو سہارے کے لیے مرد کی ضرورت تھی۔ چنانچہ فطری طور پر مرد کو زیادہ شادیوں کی اجازت دی گئی، لیکن یقیناًآج ایسا نہیں ہے۔ کیا اسلامی نظریاتی کونسل ہمیں واپس ماضی میں دھکیلنا چاہتی ہے؟خواتین کے بدسلوکی کی عالمی فہرست میں ہم اونچی پوزیشن رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں خواتین انتہائی اذیت ناک زندگی بسر کرتی ہیں۔ اب اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلوں سے ان کی زندگی مزید جہنم بن جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *