’’یہ ذوق جمال کیا شے ہے؟

MHTمستنصر حسین تارڑ

یہ ذوق جمال کیا شے ہے۔ ابر ہے،ہوا ہے کیا ہے۔۔۔ جسے انگریزی میں ’’ایستھیٹکس‘‘ کہا جاتا ہے کیا ہے۔ میں نہایت آسانی سے جیسا کہ ان دنوں رواج ہے گوگل وغیرہ میں جا کر دنیا بھر کے مشاہیر ذوق جمال کی توصیف اور تعریف کیا کرتے ہیں اُن کے حوالے دے سکتا ہوں لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔ صرف اپنے ذاتی مشاہدے اور تجربات کی روشنی میں اس حس لطیف کے بارے میں کچھ بیان کروں گا۔۔۔ ذوق جمال کا واسطہ نہ تعلیم سے ہے اور نہ امارت سے ہے، یہ ایک آبائی حس ہوتی ہے جو آپ کے جینز کے ذریعے سفر کرتی آپ کے اندر سرایت کرتی ہے اور مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ بیشتر پاکستانی اس کا کچھ شعور نہیں رکھتے اور خاص طور پر ہم پنجابی تو اس معاملے میں کافی حد تک بے بہرہ اور بے ذوق ہیں۔۔۔ ہم نے صرف دودھ، دہی، پراٹھے یا کڑاہی گوشت کو ہی اپنا ذوق بنا رکھا ہے۔ موسیقی سے بہت شغف پیدا ہوا تو ڈھول بچانا شروع کر دیا۔ آپ شہر کے ثروت مند افراد کے شاہانہ گھروں میں جائیں، وہاں لاکھوں روپے کے بھڑکیلے فانوس اور پان سگرٹ والی دکانوں کی رنگ برنگی روشنیاں تو نظر آئیں گی لیکن مجال ہے دیواروں پر مصوری کا کوئی شاہکار آویزاں ہو۔۔۔ کوئی مجسمہ کوئی نایاب آرائش سجی ہو۔۔۔ اگر تصویر آویزاں ہو گی تو وہ انار کلی کے فٹ پاتھ سے خریدی ہوئی کوئی ’’سینری‘‘ ہو گی۔ جب کہ ہم پنجابی اپنے جن پٹھان بھائیوں کو کرخت اور کٹھور سمجھتے ہیں وہ اپنے اندر ایک لطیف حس جمال رکھتے ہیں۔ پھولوں سے اتنی محبت رکھتے ہیں کہ اُن کے آدھے پھولوں کے نام ہوتے ہیں۔ گل خان، گلاب خان، گلستان خان یا گل مکئی وغیرہ اور دیگر ناموں میں بھی اپنے ماحول اور قدرت کے مظاہر کی ترجمانی ہوتی ہے۔ دریا خان، سمندر خان، زبردست خان، ثمر آور خان وغیرہ۔۔۔ پختون موسیقی میں جتنی درد آمیز اثر انگیزی اور اداسی پائی جاتی ہے وہ ہمارے خطے کی کسی اور موسیقی میں محسوس نہیں ہوتی۔۔۔ برصغیر کے عظیم موسیقاروں کے نغموں میں خاص طور پر خواجہ خورشید انور اور نوشاد کی دھنوں میں پختون گیتوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ ایک شام میں ہرات میں تھا، ایک مختصر سا باغیچہ تھا جہاں ہرات کے باسی اپنے بال بچوں کے ساتھ کھلی فضا سے لطف اندوز ہوتے تھے۔۔۔ میں نے کونے میں بیٹھے پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک مزدور کو دیکھا ،اس کے دائیں ہاتھ میں ایک پھول تھا جسے وہ ایک شاہجہاں کی مانند سونگھتا تھا اور بائیں ہاتھ کو فضا میں بلند کر کے مسرت کا اظہار کرتا تھا۔ ہمارے اپنے گلگت بلتستان میں کچے اور پتھریلے گھروندوں کی دیواروں پر ٹین کے ڈبوں میں اگائے ہوئے پھول سجے ہوتے ہیں۔آپ کسی کوہ نوردی کی مہم کے دوران دشوار گزار راستوں اور مرگ صفت گھاٹیوں میں سے گزر رہے ہیں تو آپ کا کوئی ایک پورٹر، اپنا سامان اتار کر رکھتا ہے اور ایک گہری کھائی میں جان ہتھیلی پر رکھ کر اتر جاتا ہے کہ وہاں ایک پھول ہے، وہ اسے توڑتا ہے اور اپنے ٹوپی میں سجا کر مسکرانے لگتاہے۔ بس یہی ذوق جمال ہے۔
منیر نیازی نے ایک نہایت پڑھے لکھے نوجوان نقاد کے بارے میں کہا تھا کہ وہ تو پٹھان کی سائیکل ہے جس پر پلاسٹک کے گل دستے، جھنڈیاں، پھریرے اور گھنٹیاں سجی ہوئی ہیں۔ منیر اگرچہ خود پٹھان سے تھے اور انہوں نے یہ کومنٹ تحقیر کے لہجے میں دیا تھا لیکن انہوں نے انجانے میں اقرار کیا تھا کہ پٹھان ایک ذوق جمال رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی سائیکل کو بھی پلاسٹک کے پھولوں سے ہی سہی سجاتا اور سنوارتا ہے۔ اور کیا آپ نے بنوں کے لختئی لڑکوں کا والہانہ رقص دیکھا ہے جو سر خوشی اور ذوق جمال کا ایک کمال ہے۔۔۔ جیسے وہ اپنے دراز گیسوؤں کو جھٹکتے موسیقی کی ردھم کے ساتھ زین پر پاؤں دھرتے بے خود ہوتے ہیں یہ بھی ذوق جمال کا ایک پر مسرت مظہر ہے۔
اگر ہم اپنے سندھ کی جانب نظر کریں تو وہاں کے دور افتادہ فلاکت زدہ دیہات کے پس ماندہ لوگ بھی ایک قدیم ذوق جمال کی نمائندگی کرتے ہیں۔۔۔ میں نے ثقافت کے بارے میں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں برملا کہا تھا کہ اگر ہم نے پاکستانی ثقافت کا تعین کرنا ہے تو وہ یا تو وادئ سوات کی قدیم ہنر مندی ہے اور یا پھر وادئ سندھ کی صوفی روایت، وہاں کے لوک گیت، کڑھائی اور زندگی کرنے کے آداب ہیں۔ وہاں کا دھیما پن اور سرنگوں اطاعت ہے۔ یہاں مجھے عابدہ پروین یاد آ رہی ہیں جنہوں نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر آنے کی دعوت دی اور پوچھا کہ تارڑ بھائی آپ کو کھانے میں کیا پسند ہے تو میں نے کہا تھا کہ عابدہ۔۔۔ مجھے کسی ایسی خوراک کی خواہش ہے جو خالص سندھی ذائقے کی ترجمانی کرتی ہو۔۔۔ میں اور میری بیگم ذرا بھٹکتے پھرے، ہمیں دیر ہو گئی اور جب ہم عابدہ کے گھر پہنچے تو وہ اپنے خاوند شیخ صاحب جو تب حیات تھے اور اپنی بیٹیوں کے ہمراہ باہر کھڑی ہماری منتظر تھیں۔ انہوں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ہمیں خوش آمدید کہا اور ہم بہت شرمندہ ہوئے کہ وہ جانے کب سے وہاں کھڑے ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔ اور کھانے میں سندھی بریانی سر فہرست تھی جس کے ذائقے میں شاہ لطیف کی شاعری کا رچاؤ تھا۔۔۔ سچل سرمست کی مستی کے لطف تھے اور موئنجودڑو کی قدامت کی علامتیں تھیں۔۔۔ عابدہ کہنے لگیں ’’تارڑ بھائی میں نے پوری دوپہر کچن میں کھڑے ہو کر صرف آپ کے لیے یہ بریانی پکائی ہے تو زہے نصیب آپ نے میرے پکوان کو پسند کیا‘‘۔
عابدہ پروین جن کے صوفیانہ کلام کی درد مندی سے کل جہان گونجتا ہے، کیسی صوفی مزاج اور اپنی دھرتی سے جڑی ہوئی خاتون ہیں کہ نہ اُن میں کچھ تکبر ہے اور نہ اپنی شہرت کا کچھ فخر۔۔۔ ایک گھریلو عورت کی مانند اپنے ایک معمولی سے مہمان کے لیے سندس بریانی کا دیگچہ چڑھائے بیٹھی ہیں۔۔۔ یہ بھی ذوق جمال کا ایک پرتو ہے۔۔۔اگر ہم پاکستان سے باہر نظر کریں، بقیہ دنیا پر نظر کریں تو آج کے سعودی ذوق جمال کے سامنے میں آخری سیڑھی پر بھی نہیں ہیں۔ میں نے جدہ، مکہ معظمہ، مدینہ منورہ یا ریاض میں کسی ایک سعودی کو بھی نہ خوش شکل پایا اور نہ خوش لباس پایا۔ شاہوں کے محلات میں سونے چاندی کی بھڑک تھی۔۔۔ آنکھوں کو دکھ دینے والی گرچہ نہایت گراں آرائش تھی۔۔۔ اور میں جس طور انہوں نے مسجد نبوی کی نو تعمیر کی اس میں امارت کے سونے چاندی کے ستون تعمیر کیے ، ان کے بارے میں لب بستہ رہتا ہوں۔ لیکن عرب ہمیشہ سے ذوق جمال سے یوں ناآشنا نہ تھے۔
میرے دل میں ہمیشہ کے لیے سجے، میرے رسول اللہؐ، ذوق جمال کا کامل نمونہ تھے۔ حسن جمال کا آخری کمال تھے۔
عرب ہمیشہ سے اتنے کور ذوق تو نہ تھے۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *