عورت کی شناخت مرد کے نام سے

qasim yaqoob
بیسویں صدی جہاں اور انسانی حقوق کی تحریکوں کا مرکز رہی وہیں تانیثیت نے بھی اپنافکری فلسفہ عام کیا۔ تانیثی فکریات پر ویسے تو جدید انسان کب سے سوچتا آ رہا ہے مگر بیسویں صدی میں پہلی بار باقاعدہ تحریک کی صورت میں نانیثی تصورات کو پیش کیا گیا۔تانیثیت کیا ہے اور تانیثیت عورت کی شناخت کو کس طرح متعین کرتی ہے؟ یہ سوالات پہلی بار علمی اور منطقی اندازسے علوم کا حصہ بنے۔ آج تانیثی تحریک عورت کو عورت کے طور پر سمجھنے پر زور دے رہی ہے۔ عورت مرد سے مختلف جینڈر ہے اس لیے وہ مرد کی طرح نہیں سوچتی۔مرد بھی اپنے تعصبات، ترجیحات اور خواہشات کے دائرے اپنے فطری قوانین کے طابع تشکیل دیتا ہے۔ تانیثیت کا پہلا اور آخری سوال اس ایک نکتے کے گرد گھومتا ہے کہ عورت کیا ہے اور وہ بطور صنف اپنی کیا شناخت رکھتی ہے۔
عورت سب سے پہلے مرد حاکمیت کے خلاف لڑتی ہے کیوں کہ دنیا کی معلوم تاریخ سے اب تک معاشرہ پدرسری چلتا آ رہا ہے جہاں عورت ایک مظلوم اور دوسری درجہ کی مخلوق تصور کی جاتی رہی ہے۔ عورت نے سب سے پہلے مرد کے غلبے کے خلاف آْواز اٹھائی۔ عورت کو مرد نے ہی حقوق دئے اور مرد نے ہی اُس کے حقوق سلب کئے۔حقوق کی اس تفویض اور سلب کئے جانے میں مرد کا حاکمانہ فیصلہ غالب تھا۔ تانیثیت کا ایک بڑا فکری حصہ مرد سے اپنے حقوق کی جنگ لڑتا دکھائی دیتا ہے۔ پھر عورت نے اپنی شناخت کو متعارف کروایا اور بتایا کہ عورت کیا ہے وہ کس طرح مرد سے مختلف اور فطری طور پر مکمل انسان ہے مگر یہ رویہ بھی مرد تسلط کے اردگرد گھومتا تھا۔ یعنی عورت نے مرد مرکز شناخت کو رد کرتے ہوئے اپنی شناخت بنانے کی کوشش کی۔ مگر اس وقت دنیا میں عورت کو صرف عورت کے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کا فکری فلسفہ سامنے آیا ہے جس کوGynocriticismیعنی انتقادِ نسواں کہا جاتا ہے جس کی محرک (Motivator)ایک تانیثی ادیبہ ’شووالٹر‘ ہے۔
عورتوں کی جنگ لڑنے والوں نے مرد کے چنگل سے آزادی کا نعرہ تو لگایا مگروہ خود بھی اُسی کے گرد ہی اپنی شناخت بنانے پر غیرشعوری پر مجبور بھی ہے۔مشرقی دانشوروں نے تو عورت کو عورت کے طور پر سمجھنے کا نظریہ ہی غلط قرار دے دیا ہے اور ہمارے معاشروں میں عورت کا تصور صرف مرد کے ساتھ ہی بنائے جانے پر زور دیا۔عورت مرد کے ساتھ شناخت رکھتی ہے اُس کیBy-product ہے ورنہ اکیلی عورت معاشرتی طور پر ایک تجرید (Abstraction)سے زیادہ کچھ نہیں۔
نَے پردہ ، نہ تعلیم ، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیتِ زن کا نگہباں ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہُوا زرد
عورت اپنی شناخت کے لیے نکلی تو ہے مگر اسے شناخت دینے والے مرد حضرات اوروہ خود بھی مرد کے تناظر سے ہی اُس کو پہچانتے ہیں۔عورت جب کسی گھر میں پیدا ہوتی ہے تواُس کے نام کے ساتھ اُس کے باپ کا نام لگایا جاتا ہے۔ یعنی یہ عورت اس باپ کی بیٹی ہے۔ یہاں باپ مرد اس لیے زیادہ نہیں کھٹکتا کیوں کہ باپ کا نام مرد اور عورت دونوں کے لیے لگایا جاتا ہے۔ چوں کہ مرد حاکم معاشرہ ہے اس لیے باپ اولاد کے جملہ حقوق حاصل کر لیتا ہے اور ماں کو ایک طرح اس عظیم خوشی میں شامل ہی نہیں ہونے دیا جاتا۔ میں اپنے معاشرے کی بات کر رہا ہوں۔ورنہ دنیا بھر کے ہر معاشرے میں اسی طرح کی پریکٹس موجود ہے۔عورت اور مرد جب شادی کے بعد دوسری یا مختلف زندگی کا آغاز کرتے ہیں تو مرد کا نام وہی رہتا ہے جب کہ عورت کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنا نام اب پہلے مرد سے ہٹا کے دوسرے مرد یعنی اپنے خاوند کے ساتھ لگائے۔پہلے اُس کی شناخت ایک مرد یعنی اُس کا باپ تھا اب اُس کی شناخت اُس کا خاوند بنتاہے۔ عورت خود اتنی معصوم ہے کہ وہ کبھی سوچ ہی نہیں پائی کہ یہ کیا بات ہوئی کہ میرا نام کیوں تبدیل ہو۔ اور اسی طرح بے پناہ عورت کی آزادی کی باتیں کرنے والے عورت کو اپنی شناخت سے متعارف کروانے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔یعنی یہ اب میری عورت ہے اور اب میرا نام اپنے ساتھ لگائے۔
میں مایا اینجلوکا تعارف پڑھ رہا تھا مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ وہ زندگی بھر تانیثی شناخت کے لیے لڑتی رہی اور عورتوں کے علاوہ سیاہ فام غلاموں کو بھی وقار دینے میں کامیاب ہوئی۔ پڑھتے پڑھتے جب میں اُس کی گھریلو زندگی پر آیا تو حیران رہ گیا کہ وہ بھی اپنے نام کے ساتھ اپنے خاوند ’’توش اینجلو‘‘ کا نام لگاتی تھی۔ اینجلو اُس کا خاوند تھا جو سفید فام نسل سے تعلق رکھتا تھا۔مجھے ایک دم ایسا لگا جیسے مایا ’’اینجلو‘‘ کے بغیر نامکمل ہی رہی۔معروف فیمنسٹ کارکن (Activist)سوسان سونتاج کے خاوند کا نام کیپٹن ناتھن سونتاج تھا وہ بھی ساری عمر ’سونتاج‘ کے نام سے جانی جاتی رہیں۔
اب آئیے ہماری معروف سماجی شخصیات کی طرف۔بیگم اختر ریاض الدین معروف سفرنامہ نگار، اُن کا تو نام ہی نہیں تھا اُن کے خاوند ریاض الدین ایک بڑے آفیسرتھے۔ وہ عمر بھر انھی کے نام (شناخت) کو اپنانام دیتی رہیں۔عاصمہ جہانگیر معروف قانون دان(جو بیگم اختر ریاض الدین کے خاوند کی بھانجی بھی ہیں) کے خاوند کا نام میاں جہانگیر ہے اور اُن کے والد کا نام ملک غلام جیلانی تھا۔ یوں انھوں نے اپنی دونوں شناختوں کو قائم رکھا ہے وہ کبھی عاصمہ جہانگیر ہوتی ہیں اور کبھی عاصمہ جیلانی۔یا کبھی مرد شناختوں کے ساتھ عاصمہ جیلانی جہانگیر۔
عورت سے اپنے خاندان اور نام کی پہچان تو اسلام میں بھی توانا روایت کے طور پر مجبور ہے۔ تمام سیدزادگان یعنی نبی کی اولاد ایک عورت کی اولاد سے شناخت پاتے ہیں۔ مگر ہم نے اس ثقافت کو بہت دبا دیا۔اس لیے کی تانیثیت(Feminist) سے زیادی توانا مردانہ (Muscular)کلچر ہے۔میں یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ ایک مرد کا نام ،اپنے نام کے ساتھ لگانے سے عورت کی شناخت ہی درہم برہم ہو جاتی ہے اور وہ زندگی میں اور کوئی کام کر ہی نہیں سکتی۔ میرے کہنے کا ہرگز مطلب یہ بھی نہیں کہ عورت کا نام کسی مرد کے نام کے ساتھ لگانے کی بجائے عورت کے نام کے ساتھ ہو یاعورت کی ایک ہی پہچان ہو جو اُس کے مرد باپ کے نام سے شروع ہوتی ہے جیسے مرد کے ساتھ اُس کے باپ کا نام ہمیشہ لیا جاتا ہے۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک عورت اگر اپنا نام خاوند کے نام کے ساتھ تبدیل کرنے پر مجبور ہے یا یہ رسمِ دنیا بنا دی گئی ہے تو مرد کو اس طرح کی مجبوریاں کیوں نہیں ۔ کیا مرد کو بھی کبھی اپنی شناخت کے لیے عورت کے نام کا سہارا لینے پڑے گا؟________ کیا مرد کو بھی شادی کے بعد اپنی شناخت کے لیے اپنی بیوی کے نام کے ساتھ اپنا نام بدلنا ہوگا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *