ہمیں تیار رہنا ہوگا

محمد عتیق

muhammad attique
انسانیت کی تذلیل جاری ہے ۔ پرانا فرعون بھی بچوں سے ڈرتا تھا اور آج کا فرعون بھی بچوں کی جگہوں پر حملے کرتاہے ان کے ہنستے مسکراتے چہرے فرعون وقت سے دیکھے نہیں جاتے ۔پاکستانی قوم ایک لمبے عرصے سے اس فرعون سے نبردآزماہے ۔ قیام پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک یہ فرعون کسی نہ کسی شکل میں پاکستانیوں کوہراساں کرنے کی کوشش میں رہاہے ۔ کبھی فرقہ واریت کے پردے کے پیچھے تو کبھی سیاسی داؤ پیچ کی آڑ میں ،کبھی اقلیتیوں کے بھیس میں تو کبھی سیکولرازم کے دیو کی شکل میں ،کبھی دہشت گردوں کے روپ میں تو کبھی مذہب کاماسک چڑھا کریہ فرعون پاکستان پر قبضہ کرنے کی کوشش میں رہاہے ۔گلشن اقبال پارک ہو،واہگہ بارڈر دھماکہ ہو یاپھر آرمی پبلک سکول پرہونے والا حملہ اس کے پیچھے جو بھی ہے اس کا مقصد صرف انسانوں کو ختم کرناہوتاتو وہ اپنے ملک میں اپنے اردگرد عوام الناس کو نشانہ بناکر کرسکتاتھا ۔ لیکن اس کا مقصد پاکستان میں رہنے والے ان پاکستانیوں کو ختم کرنا ہے جو محب وطن ہیں ،جو اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں کہ بڑا ہو کر ملک کی خدمت کرے ،جو اپنے 4،4بچوں کو شہید کرواکر بھی اللہ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اللہ اور بیٹے دے میں تیری راہ میں قربان کروں ۔مورخ جب پاکستان کی تاریخ لکھے گا تو وہ ان خودکش حملوں،دھماکوں ،ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردانہ حملوں کا لازمی ذکرکرے گا کہ جس نے پیرس اور برسلز کی عوام کوڈرا دیاتھا لیکن پاکستانی وہ قوم ثابت ہوئی جو اس طرح کے حملوں کے بعد مزید مضبوط ہو کر سامنے آئی ۔
بھارتی ایجنٹ کا بلوچستان سے پکڑاجانا ان قوتوں کے لئے تازیانہ ہے جو بھارت کو اپنا دوست سمجھتے ہیں اور امن امن کے راگ الاپتے ہیں ۔بھارت کے ایجنٹ ’کل بھوشن یادیو‘ کا پکڑاجانا اور اس سے ہونے والی تفتیش کو میڈیا کے سامنے لانا پاکستان کا ایک احسن اقدام ہے ۔ اب تک’ کل بھوشن یادیو ‘ میری معلومات کے مطابق بہت کچھ(بہت کچھ سے مراد بہت کچھ ہی ہے ) تفتیشی اداروں کو بتاچکاہے اور انہیں معلومات کے باعث اب پنجاب میں آپریشن ہورہا ہے جسے مہمیز اقبال پارک میں ہونے والے خودکش حملے نے لگادی ہے ۔اب تک 74کے قریب افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور 350سے اوپر زخمی ہیں ۔میری 28-03-16کو فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے چیئرمین حافظ عبدالرؤف سے ملاقات ہوئی جن کی جماعت نے زخمیوں کو ہسپتال لانے اور جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کو گھروں تک پہچانے کا اہتمام کیاتھا وہ بتا رہے تھے کہ’’ لاہور گلشن اقبال پارک میں برپاہونے والی قیامت صغریٰ نے ہرشخص کو دکھ ،درد ،تکلیف اورپریشانی میں مبتلاکردیاہے ۔یہ بدترین دہشت گردی کی مثال ہے۔حافظ عبدالرؤف بتاتے ہیں کہ 24گھنٹے گذرجانے کے بعد بھی میری حالت وہی ہے جو دھماکے کے فوراََ بعد وہاں کٹی پھٹی لاشیں ، زخمیوں کی چیخ وپکار اور کٹے ہاتھوں پاؤں کے ساتھ اٹھنے کی کوشش میں مصروف انسانوں کو دیکھ کرہوئی تھی ۔مزید بتاتے ہیں کہ زخمیوں کی اکثریت معصوم بچوں اور عورتوں کی ہے‘‘۔جہاں ایک طرف خود کش حملہ آور کا تعلق مدرسے سے جوڑاجارہاتھا وہیں جماعۃ الدعوۃ کی فلاح انسانیت اور جماعت اسلامی کی الخدمت کے داڑھیوں والے لوگ انسانیت کوبچانے میں مصروف عمل دکھائی دے رہے تھے ۔ بھارت کے ایجنٹ کی گرفتاری گوپہلے عمل میں لائی جاچکی تھی لیکن اسے میڈیاکے سامنے لانے کے بعد اس طرح کی کاروائی کا ہونا سیدھی اور صاف بات ہے اس میں بھارت ملوث ہے ۔بھارتی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ کا پکڑاجانا اور وہ بھی حاضر سروس نیوی آفیسر کا ایک بہت بڑی کامیابی ہے اور میڈیا بھی اسے بریکنگ نیوز چلاکرثابت کررہاتھا کہ ہم سب ایک پلیٹ فارم پر ہے جوکہ بھارت کو کسی صورت بھی ہضم نہیں ہورہاتھا ۔اور جس جماعت نے یہ بہیمانہ کاروائی قبول کی ہے وہ اسلام کی کوئی نمائندہ جماعت نہیں بلکہ بھارت کی لے پالک جماعت ہے ۔بھارت کے مذموم عزائم ومقاصدکے آگے اگر کوئی ملک کھڑ اہے تو وہ صرف پاکستان ہے ۔ پاکستان سے بھارت کی ازلی دشمنی ہے وہ کسی بھی صورت پاکستان کو مستحکم ہوتانہیں دیکھ سکتابلکہ ان کا موجودہ وزیراعظم نریندر مودی بنگلہ دیش میں ببانگ دہل مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے کردار کوواضح کرچکاہے ا ور یہ کہ وہ بھی مکتی باہنی کے کارکنوں میں شامل تھا۔مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ہونے والی دہشت گردی اور بھارت میں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہندو اس وقت بھی سب سے زیادہ پاکستان کے خلاف کام کررہے ہیں ۔یادیو کی گرفتاری ایک مکمل نیٹ ورک کی گرفتاری ہے ۔ ایک ایسانیٹ ورک جو ایک لمبے عرصے سے پاکستان میں دشمن عناصر کو سپورٹ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں تربیت بھی فراہم کررہاتھا ۔نیٹ ورک کی شاخیں جہاں پاکستان میں تھیں تو اس کی جڑیں ایران میں بیٹھ کر پاکستان دشمنی پروان چڑھارہی تھیں ۔آرمی چیف کی ایرانی صدر سے ملاقات ایک خوش آئند بات ہے جس میں لازمی طور پر اس بات کی طرف صدرصاحب کی توجہ دلائی ہوگی کہ ایرانی زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔
اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اس کا دہشت گردی او ر خون خرابے سے کوئی تعلق نہیں ۔قرآن وحدیث نبویہ ﷺ میں واضح طور پر انسانیت کی خدمت کرنے کاحکم دیاگیا ہے ۔نبی رحمت ﷺ نے خود انسانیت کی خدمت کی عملی تصویر پیش کی ہے ۔ہرداڑھی رکھنے والااورہر برقع پہننے والی عورت مسلمان نہیں ہواکرتے ۔چاہے وہ تحریک طالبان پاکستان کا کوئی کارندہ ہو یاپھر کوئی گمنام دہشت گرد ایک بات واضح کردوں کہ مسلمان کبھی دہشت گردی نہیں کرسکتا ۔خبر ہے کہ’’ احسان اللہ احسان‘‘ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے یہ بھی ایساہی مسلمان ہے جیسا’’ حسین مبارک پٹیل (کل بھوشن یادیوکاپاسپورٹ نام)‘‘ ہے ۔دونوں کے مقاصد میں سرفہرست پاکستان کو توڑنا اور نہتے لوگوں کا زیادہ سے زیادہ خون بہانا ہے ۔بھارتی ایجنٹس کے پکڑے جانے کے بعد ہمیں اورزیادہ مضبوط اور محتاط ہونے کی ضرورت ہے ۔ جہاں سیکیورٹی ادارے کام کررہے ہیں ۔ہم سب پاکستانیوں بشمو ل سیاست دانوں ،مذہبی جماعتوں ،تعلیمی اداروں اور عوام الناس کو ایک پلیٹ فار م پراکٹھے ہوکر بھارت اور دیگر اسلام وپاکستان دشمن عناصر کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے ۔اپنے اردگرد نظررکھنے اور اپنے آپ کو ہمہ وقت ایک ذمہ دار شہری چابت کرنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان میں مقیم عیسائی ،سکھ اور ہندو ہمارے ہم وطن ہیں ا ور ان کی حفاظت کرنا ہم مسلمانوں کا مذہبی فریضہ بھی ہے۔یہ وطن ا ن اقلیتیوں کا بھی ہے ۔ان کا درد ہمارا دردہے ۔ان کی خوشی ہماری خوشی ہے۔ہمیں اب مینگو اور سارھی ڈپلومیسی کو خیر باد کہتے ہوئے وطن کی محبت میں سرشارہوکر بھارت کے خلاف اٹھنا ہوگا نہیں تو اللہ سیاست کے میدان میں کوئی اورشریف بھی لاسکتاہے ۔یادرکھیں وہ ذات ’’کن فیکون ‘‘ والی ذات ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *