سب اچھا ہے

Nusrat

ریاستیں جب کسی ملک کا بھیجا ہوا کوئی اعلیٰ سطحی جاسوس پکڑلیتی ہیں تو اس کی گرفتاری کا اعلان عموماََ نہیں کیا جاتا۔ ایسی گرفتاری کو چھپانا منطقی حوالوں سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ گرفتار ہوئے جاسوس سے تفتیش کے کئی مراحل سے گزرکر بہت کچھ پوچھنا مقصود ہوتا ہے۔ خاموشی اس لئے بھی ضروری ہوتی ہے کہ گرفتار شدہ جاسوس کے لئے کام کرنے والے اور اس کی کسی نہ کسی صورت میں معاونت کرنے والے اپنی گرفتاری کے خوف سے دائیں بائیں نہ ہوجائیں۔ ان پر کڑی نگاہ رکھتے ہوئے مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔
ہمیں ہرگز خبر نہیں اور شاید ہونی بھی نہیں چاہیے کہ بلوچستان میں کئی برسوں سے متحرک را کے مبینہ ایجنٹ کو کب، کہاں اور کن حالات میں گرفتار کیا گیا۔ یہ جاننا البتہ خارجہ امور کی رپورٹنگ کرنے والے ہر پیشہ ورکی ضرورت تھی کہ اس کی گرفتاری کے اعلان کے لئے یہ وقت کیوں چنا گیا۔
عرصہ ہوا میں رپورٹنگ کے دھندے سے تقریباً فارغ ہوچکا ہوں۔ اس کالم کے ذریعے دانشور دِکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور ٹی وی پروگراموں کے ذریعے اپنے خیالات کو بھاشن کی صورت ادا کرتا ہوں۔ ایک محاورہ مگر اصرار کرتا ہے کہ چور اپنے دھندے کو چھوڑ بھی دے تو کوئی بھی تالہ دیکھ کر اسے کھولنے کے طریقے سوچنے پرجبلی طورپر مجبور ہوجاتا ہے۔
اپنی جبلی مجبوری کی وجہ سے مجھے شک ہوا کہ بلوچستان سے ہوئی گرفتاری کو بھارتی حکومت کے اس فیصلے سے منسلک کرکے دیکھا جائے جس کے ذریعے اس نے پاکستان کی ایک تحقیقاتی ٹیم کو پٹھان کوٹ واقعے کے حوالے سے اپنے ملک جائے وقوعہ کے معائنے اور گواہان وغیرہ سے سوالات کی اجازت دے دی ہے۔ پاکستان کی ریاست، بھارت اور باقی دُنیا کو شاید اب یہ پیغام دینا چاہ رہی تھی کہ دہشت گردی کا نشانہ ہمارا ملک بھی ہے اور اس دہشت گردی کی سرپرستی چند بھارتی ریاستی ادارے بھی کررہے ہیں۔ اس ضمن میں کچھ سوالات ہمارے بھی ہیں جن کے جوابات بھارت کی ریاست کو فراہم کرنا ہوں گے۔
اپنے تئیں میں جب یہ بات طے کرچکا تھا تو بھارتی ایجنٹ کے ایران سے متعلقہ واسطوں کا ذکر چل پڑا۔ فوراً خیال آیا کہ اس کی گرفتاری کا اعلان ایرانی صدر کے دورئہ پاکستان سے کسی نہ کسی طرح جڑا ہوا ہے۔ اپنے ایک دوست سے اس شبہ کا اظہار بھی کیا۔ ایرانی صدر کے دورے کے آخری لمحات میں لہذا جو کچھ بھی سوشل اور باقاعدہ میڈیا کے ذریعے ہمارے سامنے آیا اس کے بارے میں ہرگز حیرانی نہ ہوئی۔
حیرانی اور پریشانی ہے تو صرف اس بات پر کہ نام نہاد Same Page پر ہونے کے بارہا دہرائے دعوئوں کے باوجود ہماری سیاسی قیادت اور قومی سلامتی امور پر نگاہ رکھنے والے ایک سوچے سمجھے سکرپٹ پر یکساں ہوکر عمل کرتے نظر نہیں آرہے۔
کسی بھی جدید ریاست میں سیاسی قیادت اور قومی سلامتی کے بارے میں فکرمند اداروں کے درمیان مکمل یکسوئی نہیں ہوا کرتی۔ مشرقِ وسطیٰ اور خاص کر شام کے معاملے پر امریکی صدر کا جو مؤقف اور رویہ ہے وہ اس ملک کی قومی سلامتی کے روایتی اداروں کی سوچ اور ترجیحات سے قطعاً مختلف ہے۔ امریکی میڈیا میں سوچ کے اس اختلاف کا کئی ہفتوں سے بڑی شدت کے ساتھ ذکر ہو رہا ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ ہمارے میڈیا میں ایسے معاملات کو وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہوئے بیان کرنے کی صلاحیت پروان نہیں چڑھ پائی ہے۔ سارا قصہ Either/Or بناکر رکھ دیا جاتا ہے۔ حب الوطنی کے چمپئن بنے لکھاریوں اور عقل کل بنے اینکر خواتین وحضرات ایسے واقعات کو بلکہ فوراً ہماری سیاسی قیادت کی مذمت کے لئے استعمال کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مبینہ طور پر بھارت سے ’’اپنے کاروباری مفادات‘‘ کی خاطر تعلقات بہتر کرنے کو ’’مرے جانے والی قیادت‘‘ بمقابلہ قومی حمیت وغیرہ کے تقاضے وغیرہ۔
سیاسی قیادت پر لیکن کوئی رحم اس لئے نہیں آتا کہ نظر بظاہر ان کا اپنا کوئی ’’سکرپٹ‘‘ہی نہیں۔ ایسا اگر کوئی سکرپٹ ہے بھی تو طویل اور آف دی ریکارڈ بریفنگز کے ذریعے کسی نہ کسی شکل میں اسے لوگوں تک پہنچانے کا تردد ہی نہیں کیا گیا۔ سیاسی قیادت کی دانستہ خاموشی کو میڈیا محض شورشرابے کے ذریعے ختم نہیں کرسکتا۔
پاکستان ایک جمہوری ملک ہونے کا دعویدار ہے۔ جمہوری نظام میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئی پارلیمان کو ہر نوعیت کے سوالات کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ خارجہ امور پر قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایوانوں میں دھواں دھار تقاریر سے کوئی ٹھوس معلومات نہیں ملتیں۔ حقائق جاننے کے حقیقی ذرائع ہیں ان دونوں اداروں میں موجود خارجہ امور پر مختص کمیٹیاں جن میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں سے بڑے قدآور افراد بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ان اراکین کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کوان کمیٹیوں کے تواتر کے ساتھ اجلاس کرنے پر مجبور کرے۔ حکومت کو ایسے اجلاس بلوانے پر مجبور کرنا منتخب لوگوں کا حق ہی نہیں بلکہ فرض بھی ہے۔ وہ اپنے فرائض ادا نہیں کریں گے تو میڈیا روایتی سیاپا فروشی سے بڑھ کر کچھ نہیں کر پائے گا۔
نظر بظاہر اس وقت پاکستان میں ’’سب اچھاہے‘‘ کا ماحول نظر آرہا ہے۔ حقیقت مگر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ آپریشن ضربِ عضب ہے اور چین کے ساتھ ملکر گوادرکو کاشغر سے جوڑنے کا ایک تاریخ ساز منصوبہ۔ اس منصوبے کو ہمارے خطے کے تمام ممالک کے لئے Win-Winکی صورت بناکر پیش کرنا ہوگا۔ ایک ایسی صورت جو پاکستان سے جغرافیائی حوالوں سے وابستہ ممالک میں موجود تمام لوگوں کو اقتصادی ترقی اور خوش حالی کی راہ پر ڈال سکے۔ اس راہ پر چلنے کے لئے اس خطے کے تمام ممالک کی حکومتوں کے لئے اپنے ماضی کا کڑے انداز میں جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ اس جائزے سے مفر ممکن نہیں۔ پاکستان کی سلامتی اور استحکام ہمارے خطے کے مجموعی امن اور خوشحالی کی کلید ہے اور میں یہ بات محض ایک عام پاکستانی ہوتے ہوئے نہیں عالمی تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت میں بھی کہہ رہا ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *