ایک تقریب ، وزیراطلاعات اور اُن کے شہ بالا کیلئے

Rauf tahirرؤف طاہر

اتوار کو گیارہ ، ساڑھے گیارہ بجے بھی ’’علی الصبح‘‘ ہی ہوتا ہے، خصوصاًمدیرانِ جرائد، کالم نگاروں اور سینئر اخبار نویسوں کے لیے اتنی’’ علی الصبح‘‘ بن ٹھن کر ، شہر کے دور دراز علاقوں سے کسی ایک جگہ جمع ہونا کوئی کم آزمائش نہیں ہوتی، لیکن جناب پرویز رشید کے لیے ان لوگوں کی بڑی تعداد مقررہ وقت پر ایوان اقبال پہنچ گئی تھی۔ اس میں چیئرمین ایوان اقبال جناب عارف نظامی کی اپنی صحافی برادری میں مقبولیت کے علاوہ، کچھ حصہ ایوان اقبال کے معاملات میں ان کے دستِ راست انجم وحید کی بار بار کی یاددہانیوں کا بھی تھا۔پرویز رشید کے ساتھ بے تکلف نشست کا میزبان ایوان اقبال تھا، جس کے اختتام پر پُرتکلف ظہرانے کا اہتمام بھی تھا۔ شامی صاحب کو مدیران جرائد کی تنظیم (سی پی این ای) کا صدر بنے ، یہ چوتھا مہینہ ہے (انہیں یہ اعزاز تیسری بارحاصل ہوا ہے) عارف نظامی صاحب نے ایک پنتھ دو کاج (ٹو ان ون) کے مصداق اس تقریب کو سی پی این ای کے’’ نومنتخب صدر‘‘ کے لیے بھی استقبالیے کا عنوان دیدیا اور یوں جناب شامی مہمانِ خصوصی نمبر دو قرار پائے۔
پرویز رشید صاحب کے پاس کتنی وزارتوں کے قلم دان ہیں، کمزور یادداشت والے شخص کے لیے ان کی تعداد یاد رکھنا آسان نہیں۔ اُنہوں نے سات جون کو وفاقی کابینہ میں وزارتِ اطلاعات و نشریات کا حلف اُٹھایااورپھراُن کی سلطنت وسیع ترہوتی چلی گئی۔ اب قومی ورثہ، ثقافت، قانون اور انسانی حقوق کی وزارتیں بھی ان کی قلمرو میں شامل ہیں۔ عارف نظامی نے شامی صاحب کے بھی مہمان خصوصی ہونے کا اعلان کیا تو مؤخرالذکر کا کہنا تھا، اس تقریب کے اصل دولہا تو پرویز رشید ہی ہیں، مجھے ان کا شہ بالا کہہ لیں، جسطرح جناب عرفان صدیقی ، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی امور کے طور پر پرویز صاحب کے معاملات میں بطور شہ بالا شریک ہوگئے ہیں۔ عارف صاحب نے پرویز رشید کی توجہ (وزیر اطلاعات و نشریات کے طور پر) الیکٹرانک میڈیا میں بڑھتے ہوئے غیر ملکی مواد (فارن کنٹینٹ ) کی طرف دلائی، اُنہوں نے بطورِ خاص انڈین کنٹینٹ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ایک پاکستانی چینل تو انڈین چینل کا ایک مکمل پروگرام (کون بنے گا کروڑ پتی) دکھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ انڈیا میں پاکستانی چینلز کو پر مارنے کی بھی اجازت نہیں ، پھر پاکستان میں انڈین مواد کے لیے یہ فراخ دلانہ رویّہ کیوں۔۔؟
وزیر اطلاعات نے اس کے جواب میں پیمرا قوانین کا حوالہ دیا جن کے مطابق کوئی پاکستان بیسڈ چینل ، اپنے پروگراموں کا دس فیصد سے زائد فارن کنٹینٹ نہیں دکھا سکتا لیکن یہ پابندی ان چینلز پر نہیں جو رجسٹرڈ تو بیرونِ ملک میں ہیں لیکن پاکستان میں لینڈنگ رائٹس رکھتے ہیں۔ وہ سوفیصد غیر ملکی مواد دکھا سکتے ہیں۔ اب بات پاکستانی مصنوعات کے اشتہارات میں ہندوستانی چہروں کی ہوئی جس پر وزیر اطلاعات کا کہنا تھا، انسدادِفحاشی کے نام پر ڈنڈا بردارہماری ثقافت اور فن پر حملہ آور ہوئے تو پاکستان کے پری چہرے غائب ہوگئے، اب کسی نہ کسی کو تو یہ خلا پُر کرنا تھا، چنانچہ یہ کام پڑوسی ملک کے پری چہروں سے لیا جارہا ہے۔ یہاں وزیر اطلاعات کو اختلاف ِ رائے کا سامنا تھا۔ اختلاف کرنے والوں نے مشرف دور کی یاد دہانی کرائی، جب بسنت جیسے معصوم سے تہوار کو ایسی شکل دیدی گئی کہ مذہبی نہ سہی، مشرقی تہذیبی اقدار پر یقین رکھنے والے بھی الامان والحفیظ پُکار اُٹھے۔ تب بسنت شب یوں منائی جاتی کہ بعض چھتیں، اور بعض حویلیاں’’کوٹھے‘‘ کا منظر پیش کرنے لگتیں۔ صدر مشرف بھی اپنے مصاحبینِ خاص کے ساتھ موجود ہوتے۔ بطورِ خاص مدعو کئے جانے والے بالی وڈ کے مہمانوں کی حیرت بھی چھپائے نہیں چھپتی کہ اس حد تک تو اُن کے ہاں بھی نہیں ہوتا۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا آپ کو اپنی صفوں میں، اپنے شعبوں میں کوئی چیز قابل اعتراض نظر آتی ہے تو اس کی اصلاح بھی خود کریں۔ اخلاقی اور معاشرتی دباؤ کے لیے سول سوسائٹی کو بھی متحرک کیا جاسکتا ہے۔ ’’قانون کی طاقت کا استعمال ‘‘جتنا کم ہو ، اُتنا ہی آپ کے حقوق اور آزادیوں کے لیے بہتر ہے۔ پاکستان کا سیاسی کلچر بدل رہا ہے، تو اس کے اثرات دیگر شعبوں میں بھی نمایاں ہورہے ہیں۔ نواز شریف اور اُن کی مسلم لیگ نے ’’فرینڈلی‘‘ کے طعنے سہے، لیکن سسٹم کو ڈی ریل نہ ہونے دیا ۔ سیاسی مفاہمت اور سیاسی مخالفین کے لیے برداشت اور تحمل کا یہ کلچر آگے بڑھ رہا ہے۔ تھر کول پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب میں سابق صدر جناب زرداری بھی وزیر اعظم کے پہلو میں موجود تھے۔اب قحط زدگان کی حالت ِ زار کا جائزہ لینے اور اُن کے دُکھ میں شریک ہونے کے لیے، وزیر اعظم تھر پارکر پہنچے تو اُن کا خیر مقدم کرنے والوں میں بلاول بھٹو بھی تھے۔ وہ سارا وقت وزیر اعظم کے ساتھ رہے۔ اس دوران بلاول کا رویہ اسی ادب و احترام پر مبنی تھا جس کی توقع ایک نوجوان سے اپنے بزرگ کے لیے کی جاتی ہے۔ وزیر اعظم بنی گالہ گئے، تو کپتان نے اُن کے لیے پُرتکلف ضیافت کا اہتمام کر رکھا تھا (احباب کی خاطر تواضع میں کپتان کا ہاتھ عموماً تنگ ہی ہوتا ہے) اِدھر ٹریڈ یونین میں بھی نیا کلچر فروغ پا رہا ہے۔ گذشتہ اتوار کو وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ریلوے لیبر یونین کے کل پاکستان کنونشن کے مہمانِ خصوصی تھے۔ اس اتوار کو لاہور میں حافظ سلمان بٹ کی پریم یونین کی مجلس عاملہ کا اجلاس تھا۔ خواجہ سعد رفیق سے ملاقات بھی اُن کے پروگرام میں شامل تھی۔ اس موقع پر پریم یونین کے سربراہ کھلے دل سے اعتراف کر رہے تھے کہ ریلوے میں کرپشن ختم ہو چکی۔ وزیر ریلوے نے افسران کی جس ٹیم کا انتخاب کیا ہے، اُن کی دیانت اور صلاحیت بھی مسلمہ ہے۔ ریلوے کا محنت کش بھی ایک نئے جذبے کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ چنانچہ ریلوے خسارے سے نکل رہی ہے۔ ’’ریلوے کی بحالی‘‘ کے عمل میں ریل کے محنت کش خواجہ سعد رفیق اور اُن کی ٹیم کے ساتھ ہیں۔ ’’ریلوے کی بحالی‘‘ کے بعد اگلا مرحلہ ’’مزدور کی خوش حالی‘‘ کا ہوگا۔ وہ ابھی کوئی ایسا مطالبہ نہیں کریں گے جو ریلوے کے مالی بوجھ میں اضافے کا باعث ہو۔ ابھی حقوق کے مطالبے کا نہیں، فرائض کی ادائیگی کا مرحلہ ہے۔ جس میں ریلوے کا محنت کش کسی کوتاہی کا ارتکاب نہیں کرے گا۔ چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *