بھارت چاہتا کیا ہے؟

jam sajjad hussain
لالو پرساد بھارت کے صوبہ بہار کی نمائندہ سیاسی جماعت یادیو بھارتیا جنتا دل کے صدر ، سابق وزیراعلیٰ صوبہ بہار اور بھارت کے وفاقی وزیر برائے ریلویز بھی رہ چکے ہیں۔ ایک پاکستانی جسٹس نے ایک پاکستانی سیاست دان کو سیاست کے داؤ پیچ سیکھنے کے لئے لالو پرساد یادیو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیاست کرنا ہے تو لالو کے اندازِ سیاست سے سیکھیں۔ تب سے راقم نے لالو کے بارے میں پڑھنا شروع کردیا ۔ لالو پرساد منحنی قد کا بھارتی سیاست دان ہے جس کا اندازِ سیاست مکمل عوامی ہے۔ جو بھارت کی چھوٹی ذاتوں کا نمائندہ بھی کہلایا جاتا ہے۔ لالو نے ابھی تک کی زندگی میں اپنے لوگوں کو انصاف دلوانے کے لئے ہر دور کی حکومتِ بھارت سے سیاسی جنگ لڑی ہے ۔ اس لیے وہ بہار کو بین الاقوامی سطح پر پہچان کرانے میں کامیاب رہے۔ یوں لفظ یادیو سے محبت سے ہوگئی۔ اب پاکستانی سکیورٹی اداروں نے کل بھوشن یادیو نامی بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ کے افسر کو ہمارے ہمسایہ ملک ایران کی بندرہ گاہ چاہ بہار سے اندر داخل ہوتے ہی دھر لیا۔ کل بھوشن یادیو نے جب خود کو آہنی ہاتھوں میں بے بس محسوس کیا تو اس نے اپنی ذات، اپنے مشن اور اپنے مستقبل بارے کھل کر بتادیا۔ یہ اچھی روایت ہے ۔ جسے پاکستانی میڈیا نے سراہا ہے۔راقم کی خواہش ہے کہ دیگر بھارتی ایجنٹوں کو بھی اپنے بھائی اور پاکستان سرکار کے ’’خاص مہمان‘‘ کی پیروی کرنا چاہیے۔ اسی میں دونوں ممالک کی سلامتی کا پہلو پنہاں ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ بھارتی ایجنٹ ہونا کل بھوشن یادیو کی پیشہ ورانہ زندگی کا جزوِ لازم ہے۔ پاکستانی عوام، بیوروکریسی یا افواجِ پاکستان کو اس کی ذاتی زندگی سے شاید کوئی خاص دلچسپی نہ ہو مگر کل بھوشن یادیو کا پاکستان کی سرحد پار کرنا، پاکستان کی دھرتی پر بھارتی مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے مرکزی کردار ادا کرنا، نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی سے روابط بڑھانا ، علیحدگی پسند عناصر کو فنڈنگ کرنا اورسرزمین پاکستان پر دہشت گردانہ اقدامات میں ملوث ہونا کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں ہے۔ پہلے بھی کئی بار ایسا ہوچکا ہے کہ بھارت سرکار نے سرزمین پاکستان پر دہشت گردی کے ماحول کو پروان چڑھایا۔ موجودہ بھارت سرکار کے پردھان منتری جنابِ نریندرا دمودرداس مودی نے دورہِ بنگلہ دیش میں اس جنگی جرم کا کھلے عام اعتراف کیا تھا کہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں مکتی باہنی کو فنڈنگ بھارت سرکار نے کی اور مکتی باہنی کے ساتھ رضاکار کے طور پر مودی نے خود بھی شرکت کی۔ اس سے بڑا اعترافِ جرم اور کیا ہوسکتا ہے؟ اب جنابِ کل بھوشن یادیو اپنے گرو پردھان منتری کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے جرائم کا بھی اعتراف کردیا ہے۔ یہاں پاکستان سکیورٹی اداروں کو اس پہلو کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ جب اس طرح کے جاسوس یوں معصومانہ انداز میں کھلے عام جرائم کا اعتراف کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے ابواب میں سے ایک سدھایا ہوا باب ہوتا ہے جس کے تحت وہ پیشہ ورانہ تربیت سے سیکھے گئے اصول کو اپناتے ہوئے اک من گھڑت کہانی سنا دیتے ہیں۔ یقینی طور پر ہماری سکیورٹی ایجنسیز نے اس کا بغور جائزہ لیا ہوگا۔ دوسرااہم پہلوگلشن اقبال پارک میں معصوم قیمتی جانوں کا ضیاع ہے جس میں دہشت گردوں نے ہمارے عوام، عورتوں، بچوں اور ایسٹر کے موقع پر اقلیتوں خصوصاََعیسائیوں کو نشانہ بنایا ۔ یوں سرزمین پاکستان کے ہندو ، عیسائی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں نے بھی جان لیا کہ بھارت سمیت کسی بھی دوسرے ملک کو پاکستان کی اقلیتوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ احمدیوں کی عبادت گاہوں، عیسائیوں کی گرجا گھروں اور ہندوں کے مندروں پر حملوں نے یہ بات موزوں معنوں میں واضح کردی ہے کہ بھارت کو پاکستان کے شہری ہندؤں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ دراصل دشمن عناصر نے عرصہِ دراز سے یہ روش اپنا رکھی تھی کہ وہ کسی طرح پاکستان کی اقلیتوں کو پاکستان کے خلاف ابھار سکے مگر اقلیتوں نے اس ملک کو اپنا ملک جانا اور ہر موقع پر وہ پہلی صف میں نظر آئے۔ اقلیتوں کا یہ جذبہ قابلِ تعریف ہے۔ گلشن اقبال پار ک پر حملہ کے بعد ہمارے پردھان منتری نے عوام کے نام ایک پیغام ’’دھر ‘‘ دیا جس میں عرق ریزی کرنے کے باوجود کوئی کام کا پہلو نہیں نکلا۔ حالانکہ اس خطاب میں عوام کو ایک واضح ڈائریکشن کی امید تھی کہ وزیراعظم پاکستان کل بھوشن یادیو کی گرفتاری پر بھارت سرکار کو کوئی ٹھوس جواب دیں گے۔ اقوامِ متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی فورم پر بھارتی مداخلت پر بات کریں گے۔ پہلے بھی پاکستانی وزیراعظم نے بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں بھارتی در اندازی پر امریکی صدر کو کچھ ثبوت پیش کیے تھے مگر پیروی نہیں کی گئی۔ اہل دانش کئی دہائیوں سے دہائی دیتے آرہے ہیں کہ بلوچستان میں بھارت افغانستان اور ایران کے راستے مداخلت کررہا ہے۔ کل بھوشن یادیو کی گرفتاری سے ان دعوؤ ں پر مہر ثبت ہوگئی ہے۔ دوسری جانب یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کو پٹھان کوٹ ائیر بیس پر مبینہ حملے تک رسائی دی گئی ہے۔ مگر آوازیں آرہی ہیں کہ بھارت سکیورٹی ادارے سچائی تک رسائی دینے میں گریزاں ہیں۔ ایسا کیوں؟ اگر بھارت سمجھتا ہے کہ واقعی پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملہ سرحد پار سے ہوا ہے تو اسے کھلے دل سے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کو ہر ثبوت دکھانا چاہیے۔ اسی طرح حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ یا تو وہ ثبوت بھارت سمیت پوری عالمی برادری کے سامنے رکھے کہ ہمارا ہمسائیہ منہ میں رام رام کے ساتھ بغل میں چھریوں کا بازار سجائے بیٹھا ہے۔ حیرانی سی ہوتی ہے کہ ایک طرف ہمارے ہمسائیہ ملک میں سدھندرا کلکرنی ، ارون دتی رائے ، نصیر الدین شاہ، اوم پوری اور کلدیب نیئر جیسی آوازیں بھی ہیں جو بہ یک وقت بھارت سے محبت بھی کرتی ہیں اور ہمسائیوں کے ساتھ سچائی اور نیک نیتی پر اچھے تعلقات کی خواہاں بھی ہیں۔ دوسری طرف بال ٹھاکرے ، اب ان کی اولادیں، راشٹریہ سیویک سنگھ (پریوار)، حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور دیگر کئی جماعتیں اور شر پسند عناصر پاکستان سمیت دیگر ہمسائیوں کے وجود تک کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔شنید ہے کہ کل بھوشن یادیو نامی جاسوس کی طرز پر بھارت سرکار سرتوڑ کوششیں کررہی ہے کہ کل بھوشن کی طرح کوئی جاسوس ڈھونڈ نکالا جائے، ایک اور اجمل قصاب نامی کٹھ پتلی تلاش کی جائے یا پھر پٹھان کوٹ طرز پر حملہ کرکے الزام پاکستان پر دھر دیا جائے تاکہ حساب برابر کیا جاسکے اور عالمی برادری کو بے وقوف بنایا جاسکے۔ تنقید برائے تنقید اور الزام برائے الزام کب تک چلے گا؟ ایسا کیوں نہیں ہورہا ہے کہ بھارت سرکار بھی اسی خلوصِ نیت کے ساتھ آگے بڑھے جس انداز میں پاکستان سرکار بھارت سے دوستی کی خواہاں ہے؟ ہندوستان کا تقسیم ہونا اگر تاریخی کی کسی کتاب میں درج تھا اور مقدر نے اسے قبول کرنا تھا وہ ہوگیا۔ پھر پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنانا بھی کہیں درج تھا تو وہ بھی صفحہ قرطاس پر اتر چکا۔ مگر یہ شر پسندی اور ہمسائیہ کش پالیسی کب تک چلے گی؟ کب تک اولادِ آدم ظلم کی چکی میں پستی رہے گی؟ بھارت سرکار کو چاہیے کہ وہ صدقِ دل سے آگے بڑھے اور مذاکرات کے ذریعے کشمیر سمیت تمام معاملات کو سدھارنے کی جانب قدم بڑھائے۔ ہمیں اس خطے کو طاقتور بنانا ہے تو ہمسائیوں کا زور بازو بننا ہوگا وگرنہ مغربی اغیار ہمیشہ کی طرح ہمیں لڑاتے رہیں گے اور ہم ایک دوسرے سے لڑتے رہیں گے۔ ابھی بھی وقت ہے۔ عقل کرنے والوں کو عقل کرنی چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *