میرے شہر جل رہے ہیں !

( ڈاکٹر عطا ء ا لودود)

Ata ullah wadood

انتہا ئی دردناک اطلاعات کا مجموعہ میری ذات کو جھنجھوڑے بیٹھا ہے دل خون کے آنسو رو رہا ہے مختلف افسوسناک اطلاعات اتوار کے دن موصول ہوئی ہیں پہلی اطلاع شہر کراچی جو کہ روشنیوں کا شہر کہلا یا جاتا ہے سے موصول ہو ئی کہ چند دیوانوں نے کراچی پریس کلب کی عمارت کو محض اس لئے نظر آتش کرکے اپنی قوت کا مظاہرہ کیا کہ ان کی منشاء کے مطابق ان کے تئیں پریس نے رپورٹنگ نہیں کی ، اس کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے یہ خبر موصول ہو ئی کہ کچھ مشتعل مظاہرین نے شہر اسلام آباد کی مرکزی شاہراؤں اور ریڈ زون کا حشر نشر کرد یا ہے اور پورا دن وفاقی دارالحکومت میدان جنگ کی منظر کشی کرتا رہا اس تمام صورتحال میں سیکیورٹی ادارے مکمل بے بسی کی تصویر پیش کر تے رہے اور اس دگرگوں صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے سول حکومت کو ایک دفعہ پھر فوجی امداد کی ضرورت درپیش آئی اور ریڈ زون میں ٹرپل ون بریگیڈ نے سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال کر صورتحال کو فورا کنٹرول کیا موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تاحال مشتعل مظاہرین کا دھرنا اسلام آباد میں جاری ہے اور وہ اپنے مطالبات کے پورا ہونے تک دھرنا ختم کرنے سے انکاری ہیں ، تیسری اور دن بھر کی سب سے افسوسناک خبر شہر لاہور میں دہشت گرد کاروائی کی صورت میں مو صول ہوئی جس میں اب تک کی اطلاع کے مطابق اسی سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں اس بربریت اور سفاکیت کا سب سے مکروہ فعل خودکش بمبار کا کوشش کرکے اس علاقے میں جانا تھا جہاں فیملیز کی اکثریت موجود تھی جس سے ان درندوں کی سوچ و فکر کی صلاحیتیں بھی آشکارا ہوتی ہیں،کس قانون کے رو سے کسی کے پاس یہ حق یا جواز ہے کہ وہ بے گناہ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنائیں ؟ وہیں ایک تازہ ہوا کا جھونکا جو کہ اس ظلم و بربریت کے بالکل برعکس امن پسند لاہوری عوام کا سینکڑوں کی تعداد میں ہسپتالوں کے باہر عطیات خون کے لئے جمع ہو نا ہے جو کہ یقیناًہمارے معاشرے کا اصل چہرہ ہو نا چاہئے تھا ، لیکن نہایت دکھ سے یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ ایک اقلیتی سوچ کو ہمارا اصل چہرا گردانا جاتا ہے جس سے چھٹکارا پانا از حد ضروری ہے ۔
اب ان تینوں واقعات پر غور کیا جائے تو واضح طور پر ہمیں اپنی سوسائٹی کا مکرو ہ چہرہ نظر آتا ہے شائد اس بات پر بعض لوگوں کو تکلیف بھی پہنچے لیکن ہمیں اپنی عملی حالت کا جائزہ لینے کی اشد ضرور ت ہے تاکہ اصلاح کا کوئی پہلو سامنے آسکے وہ انتہاء پسندی کا بیج جو ایک سابق جرنیل اپنی حکومت کو دوام بخشنے کے لئے ہماری سوسائٹی میں بو گیا تھا وہ آج ایک توانا فصل کی صورت اختیار کر گیا ہے اور ہر روز بم دھماکوں خودکش حملوں اور دیگر ایسی ہی قبیح اور مکروہ وارداتوں کی صورت میں ہم اس فصل کو کاٹ رہے ہیں ۔
ہمارے ذہن میں سانحہ آرمی پبلک اسکو ل کے بعد یہ خام خیالی پیدا ہوئی تھی کہ شائد اب ہم من حیث القوم کو ئی واضح سوچ اپنے اندر پیدا کرسکیں اور متفق اور متحد ہو کر کوئی لائحہ عمل اس عفریت سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنا سکیں لیکن افسوس صد افسوس اڈیالہ جیل میں ہونے والے ایک واقعہ نے میری اس خام خیالی کو روز روشن کی طرح واضح کر دیا اور شائد ہر دردناک دل کو بھی خون کے آنسو رلا دیا ہو یہاں صرف اس بات کا جواب مجھے درکار ہے کہ کس قانون کے رو سے کسی اور بے گناہ انسان کی جان لی جا سکتی ہے ؟ جب کہ اس انسان کا جرم بھی واضح نہ ہو نہ کو ئی مقدمہ نہ کوئی تفتیش نہ کوئی ٹرائل ڈائریکٹ سزا ! جب معاشرہ ایک بے ہنگم ہجوم کی صورت اختیار کر جائے اور بعض نام نہاد عوامل فتاوٰی صادر کر کے ہی فیصلہ صادر فرما دیں کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر ؟ اور حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ تقسیم کرتے پھریں اور خود ہی فیصلہ فرماویں کہ کون محب وطن ہے اور کون غدا ر اگر قانون کو ہاتھ میں لینے کا اختیار ہر شخص کے پاس ہو تو یہ مہذب معاشروں کا دستور نہیں بلکہ جزاء و سزا کے لئے ہی پولیس اسٹیشن اور عدالتیں قائم کی گئی ہیں تاکہ ایک ضابطہ کے تحت ہر شکائت کا مداوا کیا جائے ۔
کیسی بخشش کا یہ سامان ہو ا پھرتا ہے شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے
جانے کب کون کیسے مار دے’’ کافر‘‘ کہہ کر شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے
اب اس تمام صورتحال کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایک اور اہم واقعہ جو کہ کل رونما ہوا اور یقیناًہمارے معاشرے میں موجود عدم برداشت پر دال ہے وہ مولانا جنید جمشید صاحب کی اسلام آباد ائیر پورٹ پر پٹائی کا واقع ہے اس واقع پر اگر کسی کو افسوس نہ ہوا ہو اور کو ئی زندہ دل افسردہ نہ ہو تو افسوس کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے کہ چھ سات بد معاشوں کا گروہ جنھوں نے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے ائیر پورٹ جیسے حساس مقام پر کھلے عام مولانا صاحب کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور ائیر پورٹ سیکیورٹی نہ جانے کہاں غائب رہی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید صاحب کو کرنا پڑا جب ایک ہجوم نے انھیں جوتوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی اس قسم کے واقعات جہاں حکومت کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں وہیں ہمارے معاشرے کا بھی منہ چڑا رہے ہیں ۔
کیسا عشق ہے ؟ تیرے نام پہ قربان ہے مگر تیری ہر بات سے انجان ہوا پھر تا ہے
آج کل جب کہ معاشی مضبوطی ہی کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس وقت ہم اپنے داخلی مسائل میں مکمل طور پر الجھے ہوئے ہیں یورپ داعش کی زد پر ہے امریکہ ،ایران اور بھارت میں قربتوں کا سلسلہ جاری ہے پاکستان کا دوست ملک چین مسلسل اپنی تجارت امریکہ اور بھارت کے ساتھ بڑھاتا چلا جارہا ہے ایسے موقع پر ہمیں مضبوط خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے اور تب تک ہم کو ئی واضح اور ٹھوس مؤقف نہیں اپنا سکتے جب تک ہمیں داخلی استحکام نصیب نہ ہو را کا ایجنٹ جو کہ گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقہ سے پکڑا گیا وہ بھی روز متعدد انکشافات کر رہا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے دشمن بھی پاکستان کو داخلی طور پر مستحکم ہوتا نہیں دیکھ سکتے وہیں را کے ایجنٹ کا ایران کے علاقے چاہ بہار میں تعینات ہونا بھی صورتحال کی معنی خیزی میں اضافے کا باعث ہے کیا ایران اور انڈیا کی خفیہ ایجنسیاں باہم تعاون کے کسی معائدے پر عمل پیراء ہیں ؟اس تمام صورتحال میں ہمیں بحیثیت قوم متحد ہونے کی شدید ترین ضرورت ہے تاکہ وطن عزیز کو درپیش چیلنجز کا مداوا کیا جا سکے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *