اِیں گلشن است

MHTمستنصر حسین تارڑ

عرب ہمیشہ سے اتنے کور ذوق نہ تھے۔
میرے دل میں ہمیشہ کے لئے سجے، میرے رسول اللہؐ، ذوق جمال کا کامل نمونہ تھے۔ حُسنِ جمال کا آخری کمال تھے۔۔۔ حُسن کی پرکھ رکھتے تھے، جمال سے متاثر ہوتے تھے اور اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے منسوب مختلف احادیث نبوی میں اس کی گواہی ملتی ہے۔ رسول اللہؐ ایک کامل انسان تھے اور ان میں ذوق جمال کی کاملیت بھی مکمل تھی۔۔۔ وہ اگرچہ سادہ مگر ستھرا اور دیدہ زیب لباس زیب تن کرتے اور ذرا یہ بھی تو تصور کیجئے کہ اس پوتر بدن پر جونسا لباس بھی ہوتا وہ اس کی قربت سے یوں بھی دنیا کاخوبصورت ترین لباس ہو جاتا۔ نہ صرف لباس میں بلکہ نشست و برخواست میں، گفتگو میں اور طعام میں، یہاں تک کہ عبادت میں بھی ذوق جمال کا حُسن ایسا ہوتا کہ چہرے دمک اٹھتے اور لوگوں کی آنکھوں میں چراغ روشن ہو جاتے۔۔۔ ریش مبارک اور گیسو ہمیشہ چمکدار اور آراستہ ہوتے۔۔۔ جن اشیائے خوردنی کی مہک پسند نہ کرتے انہیں ہاتھ نہ لگاتے۔۔۔دندان مبارک ہمیشہ آبدار اور مسواک شدہ ہوتے۔۔۔ اور جب کسی جانور کو پسند فرماتے تو اس کی شکل شباہت کو ملحوظ خاطر رکھتے۔۔۔ اگر انہوں نے قصویٰ اونٹنی کو پسند کیا تو یہ اس کا رنگ اور چلنے کا انداز تھا جس نے ان کے دل میں گھر کیا۔۔۔ مدینہ منورہ میں آمد پر بچیوں کے استقبالیہ نغموں اور موسیقی کو پسند کیا یہاں تک کہ حضرت عائشہؓ کی قربت میں گیت گانے والی بچیوں کی نغمگی سے لطف اندوز ہوئے۔۔۔ اُحد کی جنگ میں جب زخمی ہوئے تو صحابہ کرام ’’چڑیوں کی مانند اُڑتے ہوئے‘‘ ان کے پاس آئے اور پینے کے لئے جو پانی پیش کیا وہ قدرے گدلا تھا تو پیاس کے باوجود اسے پینا پسندنہ کیا اور پھر حضرت علیؓ اپنی ڈھال میں کچھ شفاف پانی لے کر آئے تو رسول اللہؐ نے اسے اپنے حلق سے اتارا۔۔۔ ایسے نفیس طبع اور ذوق جمال والے تھے۔۔۔ اور اس موضوع کے لئے جو وسعت بیاں اور تفصیلی تذکرے درکار ہیں ان کے لئے تو کئی دیوان درکار ہیں، اس مختصر مضمون میں یہ سکت کہاں کہ رسول اللہؐ کے ذوق جمال کو بیان کرے۔
چنانچہ عرب ہمیشہ سے اتنے کور ذوق اور حِس جمال سے عاری تو نہ تھے۔۔۔ مسلمانوں میں، میں نے البتہ ایرانیوں کو ذوق جمال سے بہت آراستہ پایا۔۔۔ محض حافظ، سعدی اور عمر خیام کے حوالے کافی ہیں، مولانا روم کی حُسن پرستی اور مظاہر قدرت سے شیفتگی یا فردوسی کی شاعری اپنی جگہ لیکن میرا مشاہدہ ہے کہ ایک عام ناخواندہ ایرانی بھی ذوق جمال کی ایک لطیف آبائی حِس کا مالک ہوتا ہے۔۔۔ چھٹی کے روز بیشتر ایرانی خاندان کھلی فضا میں کسی دریا کے کنارے، کسی صحرا کی قربت میں، کسی جنگل میں جا کر پکنک کا اہتمام کریں گے۔ میں نے ایک غریب مزدور کو دیکھا جو بس پر سوار ہو کر تہران سے باہر دریائے خراج کے پتھریلے کناروں پر جا بیٹھتا ہے۔۔۔ کسی پتھر پر چادر بچھا کر اس پر ایک تربوز یا چند کھیرے سجاتا ہے، کوئی پسندیدہ مشروب پیتا ہے اور ٹیپ ریکارڈر پر حافظ کی کوئی غزل سنتا جھومتا ہے اور قریب سے گزرنے والوں کو دعوت طعام دیتا ہے۔ ایرانیوں کی گفتگو بھی نہایت لچھے دار ہوتی ہے۔ ایک ویٹر آپ کی انگلیوں کی تعریف کرے گا، آپ پر قربان ہوتا چلا جائے گا چاہے وہ بعد میں آپ کے سامنے نہایت بدذائقہ خوراک پیش کر دے اور بِل ایسا لے آئے کہ آپ کنگال ہو جائیں۔
میرے ایک قدیمی دوست پنجابی کے ایک بڑے نثرنگار اور شاعر حسین شاہد نے ہالینڈ میں منتقل ہونے سے پیشتر چند برس ایران میں قیام کیا۔ وہ اپنی موجودہ رہائش سے مطمئن نہ تھے چنانچہ انہوں نے اپنے دفتر کے کچھ ایرانی ساتھیوں سے درخواست کر رکھی تھی کہ وہ ان کے لئے کسی مناسب رہائش کا بندوبست کر دیں، تو ان میں سے ایک صاحب نے پیشکش کی کہ آقا حسین شاہد میری ملکیت میں ایک گھر ہے جو آئندہ ماہ خالی ہوجائے گا اور وہ آپ کے لئے ہو گا اور آقا۔۔۔ اس میں تو ایک گلشن ہے۔۔۔ چنانچہ اس دوران سب لوگ ان کی قسمت پر رشک کرتے رہے کہ آقا حسین شاہد ایک ایسے گھر میں قیام کریں گے جس میں گلشن ہے۔۔۔ یعنی گلشن دارد۔۔۔ بالآخر جب وہ گھر خالی ہوا اور وہ صاحب حسین شاہد کو لے کر وہاں گئے تو بقول حسین شاہد، ایک دس فٹ بائی دس فٹ کا ایک معمولی سا صحن تھا اور اتنا ہی ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جو ستھرا تو تھا پر قدرے مختصر تھا چنانچہ شاہد نے پوچھا ’’آقا گلشن کجا است؟‘‘ اور یاد رہے کہ شاہد بھی ایک شعر وہ اس دوران خواب دیکھتے رہے تھے کہ میرا ایک گھر ہو گا اور اس میں ایک گلشن ہو گا اور میں انگور کی بیلوں اور گلاب کے پھولوں اور چہکتی بلبلوں وغیرہ کے سائے میں بیٹھ کر شاعری کیا کروں گا۔۔۔ تو ان صاحب نے دروازے کی چوکھٹ کے ساتھ ویران صحن کے ایک کونے میں جو ایک پژمردہ سی بیل تھی اس کی جانب اشارہ کر کے کہا ’’ایں گلشن است‘‘۔
چنانچہ یہ تو آپ کا حُسن نظر ہے کہ ایک قطرے میں دجلہ دیکھ لیں، ایک نڈھال سی بیل کے چند پتوں کو گلشن تصور کر لیں۔
عمر خیام بھی تو اگر خواہش کرتے تھے تو شراب کتاب محبوب کے علاوہ ایک ایسے ہی گلشن کے تصور میں شاعری کرتے تھے، یہی ذوق جمال ہے۔ ابن انشا نے بھی تورکنا باد ندی کا سراغ لگایا جس کی توصیف میں شعراء نڈھال ہوئے جاتے تھے اور وہ ندی نہ تھی ایک گدلی سی نالی تھی۔
کبھی کبھار۔۔۔ یعنی کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اگر ہمارے ہاں ذوق جمال کا کسی حد تک فقدان ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ ہمیں دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت قدرت نے کچھ زیادہ ہی مالا مال کر دیا ہے۔۔۔ہمارے پاس اتنی کثرت اور فراوانی ہے۔۔۔ ہریاول، جنگلوں، پانیوں، خوراکوں، چہروں، جانوروں، صحراؤں اور پہاڑوں کی کہ ہم ان کی قدر نہیں کرتے۔ یعنی اپنے عظیم شاعروں کے کلام میں کھوج کیجئے، یہ میرؔ ہو، غالبؔ ہو یا داغؔ ۔۔۔ حرام ہے کہ ان کی شاعری میں رنج و الم۔۔۔ محبوب کی بے وفائی اور موت کے تذکروں کے سوا قدرت کے مناظر کی کہیں توصیف ہو۔۔۔ اگر کہیں گلشن ہے تو اس حد تک کہ۔۔۔ چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے۔۔۔ اور یہ بھی طے نہیں ہے کہ گلشن نام کی کوئی طوائف ہے جس کا کاروبار نہیں چل رہا۔۔۔ البتہ پنجابی اور سندھی شاعری میں قدرتی مناظر کے بیان کمال کے ہیں۔۔۔ وہ بھٹائی کے صحرا ہوں یا خواجہ فرید کی روہی ہو۔۔۔ خوشحال خان خٹک کے چٹیل پہاڑ ہوں۔۔۔ یہ سب اُن کی شاعری کی لینڈ سکیپ میں رنگ بھرتے ہیں۔
تو یہ ذوق جمال کیا شے ہے۔۔۔ ابر ہے، ہوا ہے، کیا ہے!
گلاب کے پھولوں کے انبار کو دیکھ کر صرف یہ خیال آنا کہ سبحان اللہ ان سے ایک پورا مرتبان گلقند کا تیار ہو سکتا ہے جسے ہم نوش کریں گے یا پھر کسی ایک گلاب کے پھول کو سونگھ کر شاعری پر آمادہ ہو جانا، مست ہو جانا۔۔۔ ذوق جمال کیا ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *