مذہب کی جنگ میں پہلا ہدف

qasim yaqoob
دنیا کے تمام مذاہب میں جنگ سے نفرت کا اظہار ملتا ہے مگر دنیا کا ہر مذہب کسی نہ کسی طرح جنگ اور جنگی صورتِ حال سے منسلک رہا۔اسلام اپنی تعلیمات میں ایک امن پسند مذہب ہے مگر مسلمانوں کی تاریخ ، اسلام کی تاریخ بنا کے پیش کرنے سے مذہب کے فکری نظام کے نظریاتی تارو پود کو شدید نقصان پہنچا۔امویوں کی فتوحات،عباسیوں کی حکمرانی وغیرہ طویل ادوار نے اسلام کے نظریات کو پھیلانے کی بجائے اپنے سیاسی عزائم کو پیش کیا۔
قران مجید میں چند ایک جگہوں پر جنگ یا خصومت کے متعلق حوالے ملتے ہیں:
’’لڑواللہ کی راہ میں ان سے جو تم سے لڑتے ہیں، زیادتی نہ کرو۔اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘(البقرہ: ۱۹۰۔۲)
’’ایمان والو!تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ،راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ۔کسی قوم کی عداوت تمھیں خلافِ عدل پر آمادہ نہ کرے۔‘‘(المائدہ:۸۔۵)
اسلام کے دورِ آغاز سے ہی مسلمانوں کو دیگر مذاہب کے پیروکاروں سے جنگ کرنے کے مواقع ملتے رہے۔ حضور ؐ کے دور ہی سے ، عیسائیوںیہودیوں اور مسلمانوں میں لڑائیاں شروع ہو گئیں تھیں۔ حضورؐ نے عیسائیوں کو امن کا پیغام دیا۔ کوہ سنائی کے قریب واقع راہب خانہ ’’سینٹ کیتھرین‘‘ کے راہبوں کے ساتھ معاہدۂ امن ایک مثال ہے۔ مگر آگے چل کے عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں، جو بڑی لڑائیوں کا موجب بنے۔ غسّانی شہزادہ (جو ہرقل کا باج گذار تھا) کو بجھوایا جانے والا پیغام، جس کے جواب میں سفیر کا قتل عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ کا باعث بنا۔
یہودیوں کے ساتھ بھی خون ریز معرکے ہوتے رہے۔ خیبر میں موجود بنی نضیر اور بنی قریظہ کی بہت سی شاخوں کے ساتھ مسلمانوں کی رنجشیں بڑھتی رہیں۔ حتیٰ کہ قلعہ خیبر پر حضرت علیؓ کے ہاتھوں سے یہودیوں پر غلبہ پانے کا کام مکمل ہوا۔ مگر عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ چپقلشیں ختم نہ ہو سکیں، جو آگے چل کر صلیبی جنگوں کا باعث بنیں۔ عیسائیوں کو اپنے مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت مقصود تھی۔ شام کی عیسائی سلطنتوں میں جنگ و جدال، یروشلم پر قبضہ، انطاکیہ پر قبضہ، نیسیا پر قبضہ اور دوسری صلیبی جنگیں جو ۱۱۴۷ء سے ۱۱۴۹ء تک جاری رہیں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے لاکھوں انسانوں کے قتل کا باعث بنیں۔
جب مسلمان برصغیر میں داخل ہوئے تو یہاں انہیں ہندوؤں سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمانوں کی فتح کے بعد یوں محسوس ہوتا جیسے سارا علاقہ مسلمان ہو گیا تھامگر جونہی سلطنت زوال کا شکار ہوتی فتنے سر اٹھانے لگتے جو مقامی سطح پر زبردست لڑائیوں کا موجب بنتے۔ آگے چل کر سکھوں کا گروہ نئے مذہبی نظریات کے ساتھ برصغیر میں نشرواشاعت شروع کرتا ہے۔ مسلمان اور سکھوں کے درمیان بھی کئی خون ریز معرکوں کا سراغ ملتا ہے۔
جب ہم مذہب اور جنگ کی بات کرتے ہیں تو ہمارے سامنے جنگ کرنے والے دونوں (یا زیادہ)گروہوں کے مقاصد میں اولین مقصد مذہب کی بالادستی یا بقا ہونی چاہیے۔ عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان طویل صلیبی جنگوں کے محرّکات میں مذہب ایک مرکزی مقصد بن کے سامنے نظر آتا ہے۔نشاۃِ ثانیہ کے بعد عیسائیوں نے مذہب کو دوسری صفحوں تک محدود کر دیا اور پہلے نمبر پر اقتصادیات،معاشرت اور جدید معاشی نظریات کے پرچار اور حصول کو اوّلیت دینا شروع کر دی۔جس سے اُن کی مذہبی بالادستی کے مقاصد بدل گئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں تاریخ کے صفحات میں عیسائی اور یہودی یورپی تاجر ہی چھائے ہوئے ملتے ہیں جو جنگوں کے نقشے تیار کرتے ہیں اور ملکوں کی معیشت کے فیصلوں میں جنگوں اور ہنگاموں کو ضروری سمجھتے ہیں۔
دنیا بھر میں اس وقت مذہب کی جنگ کو انھی پیمانوں سے ماپنا ہوگااس وقت مسلمان قوم مذہب کی جنگ تو لڑ سکتی ہے مگر اُن سے ٹکرانے والی قوت عیسائی ،یہودی یا ہندو اپنے مذہب کی نہیں بلکہ اپنے معاشی نظریات کی تکمیلیت کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے مسلمانوں سے ٹکرا رہے ہیں۔گویا اقتصادی اہداف کی تکمیل مذہب کی جنگ نہیں ۔یہ ایک طرف(مسلمانوں) سے تومذہب کی جنگ ہو سکتی ہے مگر دوسری طرف مذہب ہدف نہیں۔
امریکہ اور یورپی طاقتوں کے ہدف پر صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ،ویت نام،کوریا اور دیگر غیر مسلم ممالک بھی ہیں یہاں بھی ان طاقتوں کا حصول اقتصادی اہداف ہی ہیں۔
گویا کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت مذہب کی جنگ کہیں بھی نہیں ہو رہی۔ہر طرف معیشت اپنے دائرے بنا رہی ہے جس کے بھنور میں جو پھنستا ہے وہ اسے کھینچ لیتی ہے۔اگر عیسائی یا یہودی مذہب کی بالا دستی کا ٹکراؤ مسلمانوں سے ہوتا تو آج امریکہ اور یورپ میں اسلام کی شرح بڑھ نہ رہی ہوتی۔
ایک کنفیوژن کا ذکر کر دینا بھی بہت ضروری ہے کہ ہمارے ہاں طرح طرح کے مفروضے اور دانش مندانہ حقائق کے زائچے کھینچے جاتے ہیں مگراُن میں جانب دارانہ نقطۂ نظر غالب ہوتاہے ۔۔۔ڈارون نے جب یہ کہا کہ ’’جدو جہد برائے بقائے حیات‘‘ایک لازمی اَمر ہے تو اصل میں یہ ایک علمی نقطۂ نظر تھا۔مگر ہمارے ہاں خاص کر کے مذہبی انتہا پسندانہ فکر کے دائرے میں ہر علمی قضیے کے پیچھے مذہب دشمن دلائل کے تانے بانے ملائے جاتے ہیں۔
یہاں پر ڈارون کے ایک تھیسس سے اَخذ شدہ نتائج اور مذہب اسلام کی فکری خاکہ سازی سے جوڑے گئے نتائج کو الگ الگ دیکھیے۔
یحییٰ ہارون اپنی کتاب’’اسلام اور دہشت گردی‘‘ میں ڈارونزم کے قانونِ بقائے حیات سے مندرجہ ذیل نتائج اَخذ کرتے ہیں:
’’جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جنگِ عظیم اوّل یورپی مفکرین،جرنیلوں اور رہنماؤں کی وجہ سے شروع ہوئی جنھوں نے جنگ وجدل ،خون ریزی اور انسانی عذاب کو ترقی اور نشوونما کی قسم سمجھا۔وہ انھیں نا قابلِ تبدیلی قانون سمجھتے تھے۔وہ نظریاتی سرچشمہ جو اس ساری نسل کو تباہی کی طرف لے گیا وہ سوائے ڈارون کے نظریات’’ جدو جہد برائے حیات‘‘ اور ’’منظورِ نظر نسلیں‘‘ کے اور کچھ نہ تھا۔جنگِ عظیم اول ختم ہوئی تو اپنے پیچھے ۸ ملین انسانی لاشیں ،سینکڑوں تباہ شدہ شہر کئی ملین زخمی ،معزور ،بے گھر اور بے روزگار انسان چھوڑ گئی تھی۔دوسری جنگِ عظیم جو ۲۱ سال چھڑی اور اپنے پیچھے ۵۵ ملین انسانی لاشیں چھوڑ گئی تھی اس کی اصل وجہ بھی ڈارونیت تھی‘‘
یعنی بیسویں صدی میں دنیا بھر میںیورپی اور امریکی اقوام نے جہاں جہاں اپنے مذموم عزائم کا اظہار کیا ہے وہ حضرتِ ڈارون کا ردِّ عمل تھا۔یہ نفسیات سمجھنا بہت مشکل ہے کہ ایک علمی قضیہ کس طرح پوری پوری قوم کو اُن کے نظامِ حیات کے ایجنڈے ترتیب دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔یورپ میں ہزاروں ایسی کتابیں لکھی گئی ہے مثلاً اشپنگلر کی تاریخ جو یورپی تہذیب کی موت کا اعلان کرتا ہے مگر اُس کا ذکر نہیں ملتا۔دورِ حاضر میں نوم چومسکی اور دیگر امریکی تھنک ٹینک حضرات کی امریکا مخالف نظریات کے اُن کی قوم پر اثرات نہیں بتائے جاتے۔ ایسی مثالوں میں یاک ڈریڈا کے نظریات،اور حال ہی میں لکھا جانے والا مقالہ ’’تہذیبوں کی کشمکش۔اَزسموئل پی ہٹٹنگٹن‘‘پر ہونے والی گفتگو سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔
اگر علمی و فکری قضیے کا اِتنا ہی اثر ہو تا ہے تو مذہبی حلقوں کی جانب سے ہونے والی جنگی کشمکش کا اندازہ بھی سامنے ہونا چاہیے۔ڈاکٹر اسرار احمداپنی کتاب’’سابقہ اور موجودہ مسلمان اُمتوں کا ماضی،حال اور مستقبل‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ایک صلیبی جنگ کے لیے میدان تیزی کے ساتھ ہموار ہو رہا ہے جو احادیث نبویہ ؐ کے مطابق طویل ہوگی اور جس کے کئی مراحل ہوں گے جن کی تفصیل یہاں ممکن نہیں۔البتہ ایک بات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ ان کے دوران ایک جنگ جسے’’المحمۃ العظیمی‘‘ قرار دیا گیا ہے،نہایت عظیم اور حد درجہ خوف ناک ہوگی۔احادیث میں وارد شدہ تفاصیل سے اندازہ ہوتا کہ ان جنگوں کے دوران شدید جانی و مالی نقصانات کی صورت میں امتِ مسلمہ کے افضل اور برتر حصے یعنی اہلِ عرب کو ان کے اجتماعی جرم پر بھر پور سزا مل جائے گی جس کا ارتکاب انھوں نے دینِ حق کے نظامِ عدل و قسط کو ایک کامل نظام زندگی کی صورت میں قائم نہ کر کے کیا ہے۔ان جنگوں میں ایک مرحلے پر’’دارالاسلام ‘‘ صرف حجاز تک محدود ہو کر رہ جائے گا اور دشمن مدینہ منورہ کے’’دروازوں‘‘ تک پہنچ جائے گا لیکن پھر رحمت خداوندی جوش میں آئے گی ،مسلمانوں عرب ایک نئی ہےئت اجتماعی تشکیل دیں گے اور ایک قائد امیر بن عبداللہ المہدی کے ہاتھ پر ’’بیعت‘‘ کر کے جوابی کارروائی کے لیے مستعد ہو جائیں گے۔‘‘
گویا مذہبی حلقوں میں بھی غلبہ پانے کی خواہشات موجود ہوتی ہیں مگر ان کے پیچھے علمی قضیہ کی بجائے الہامی دلائل ہوتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *