عرض کیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ کہانی ختم!

masood iqbal mashhadi

مانسہرہ ضلع میں ضلعی نظامت کیلئے کبڈی کا میچ جاری ہے۔ تو ۔تو۔ تو ۔تو کرتے مختلف امیدوار مختلف چھوٹی چھوٹی تین یاچارپارٹیوں کے ممبران ضلع کونسل کو ہاتھ میں لینے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ پچھلے نو ماہ سے یہ کبڈی جاری ہے۔ اب 5 اپریل کو دوبارہ بجٹ اجلاس بلایا گیا ہے ۔ اور اسی مناسبت سے مختلف ممبران کی مختلف طرح کی آراء اور بیانات سامنے آرہے ہیں۔ موجودہ آدھے اقتدار کے حامل ناظم سردار سید غلام کے ناظم بننے سے قبل تحریک انصاف میں اعظم خان سواتی ، لائق محمد خان ، سابقہ منسٹر شازی خان اور ایم پی اے ابرار حسین وغیرہ اتحادی تھے۔ لیکن شفاعت علی خان کے ٹکٹ ہولڈر ہونے کی بنا پر یہ گھونسلہ ٹوٹ گیا ۔ اور بازی پلٹ گئی ۔ دوسرے دور میں تحریک انصاف کے ممبران ضلع نے پہلے شفاعت علی خان کو امیدوار بنایا۔ پھر شفاعت علی خان نے ممبران کی تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے یہ پگڑی واپس کر دی ۔ پھر شاہد رفیق بھی اس کو سنبھال نہ سکے۔ اب فدا خان نے اس کو اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی۔ کہ پگ گھنگرو میرا ناچی تھی ۔۔۔دیکھتے ہیں 5اپریل تک اس پگ پر داغ لگتے ہیں یا بے داغ رہتی ہے۔ دوسری طرف سردار سید غلام کی پگ مسلسل ادھر ادھر ڈول رہی ہے۔ اور کبڈی کے کھلاڑی اسے چھیننے کی کوشش میں لگے ہیں ۔ سردار سید غلام نے جس دن سے ضلعی نظامت کا حلف ا ٹھایا ہے ۔ اس دن سے قیامت کی نشانیاں ہمارے سامنے آرہی ہیں ۔ بجٹ پیش ہوا بھی تو پاس نہ ہو سکا۔ اور اس میں ابھی تک یہ بحثیں ہی ہوتی رہیں کہ یہ پاس ہوا ہے یا نہیں ہوا۔ لیکن سردار سید غلام کی ناظمی ان کے آبائی علاقہ کیلئے بہت بھاری ہوگئی۔ ان کے علاقوں میں مسلسل قدرتی آفات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ آئے روز خوفناک حادثات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کبھی روڈ ایکسڈنٹ کبھی آسمانی بجلی سے گھر اور مال مویشی جل گئے۔ کبھی بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور پھر ایک پورا پہاڑ آبادیوں کو نگل گیا ۔ سردار سید غلام ناظم ہوتے ہوئے بھی بے بس ہیں۔ انکے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ بجٹ میں اربوں روپے ضلع کیلئے رکھے گئے۔ لیکن وہ خرچ نہیں کر سکتے۔ لے دے کر ان کے پاس متاثرین کیلئے دعائیں ہی بچی ہیں۔ یا دوسرے اداروں کو امداد کی چھٹیاں لکھیں۔ اب یہ مناظر بھی کافی دلخراش تھے کہ متاثرہ علاقوں میں جب جاتے تھے تو ایک جانے پہچانے شخص بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یعنی مانسہرہ کی ہر دلعزیز شخصیت سردار محمد یوسف، وہ تصاویر میں ضلعی ناظم سے زیادہ بے بس اور مجبور نظر آرہے تھے ۔وہ بھی صوبائی حکومت سے مدد کی اپیلیں کررہے تھے۔ سردار محمد یوسف بھی 2005 مشرف دور میں جب ضلعی ناظم بنے تو حلف اٹھاتے ہی زلزلہ 2005 نے تباہی مچادی۔ جس کے مناظر آج بھی ذہن میں آتے ہیں تو جسم لرز جاتا ہے۔ اب مانسہرہ کے عوام یہ سوچ رہے ہیں کہ 2005 اور 2015 میں بننے والے ان دو سرداران کی نظامت میں آنے والی یہ تباہیاں محض اتفاقات ہیں یا ان کے قدم ہی عوام کیلئے بہت بھاری ہیں۔ سردار محمد یوسف ہوں یا ایبٹ آباد سے سردرا مہتاب عباسی اپنے تمام دور حکمرانی میں کوئی ایک پراجیکٹ دکھا دیں۔ سردار مہتاب عباسی وزیر اعلیٰ بھی رہے ۔ گورنر بھی رہے ۔ لیکن مجال ہے کوئی ایک بھی کام ان کے کریڈٹ پر ہو ۔ یہ ہی حالت ہمارے مسلم لیگ ن کے بڑے راہنما کیپٹن محمد صفدر کے حلقہ کی ہے۔ حکومت بنے تین سال ہونے کو ہیں۔ ائیر پورٹ بنانے کی نویدیں روز سنتے ہیں۔ لیکن موقع پرکسی مالک سے زمین ہی نہیں خریدی گئی ۔ نہ ہی موقع پر کوئی دوسرا کام ہوا۔ گیس کے وعدے ابھی تک جاری و ساری ہیں۔ اب ان کے حلقے کے لوگ بھی ان وعدوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔ کیا فائدہ اتنی بھاری بھر کم چیزیں مغز میں سنبھال کر رکھنا۔ تناول کے لوگ ویسے بھی قناعت پسند ہیں۔ اپنی محنت سے روزی کماتے ہیں اور یہ منصوبے بن بھی گئے تو صرف قلی اور چپڑا سی ہی بنیں گے ۔ بڑے عہدے تو پنجابیوں کو ہی ملیں گے۔ اب مانسہرہ حلقہ 53 میں سردار ظہور بھی صوبائی ایم پی اے ہیں ۔ گذشتہ ڈھائی سالوں سے اپنے بڑوں سردار یوسف اور سردار مہتاب عباسی کے نقش قدم پر پوری ایمانداری سے چل رہے ہیں۔ ان کے آبائی گاؤں جنگلاں میں ایک راستہ اتنا تنگ ہے کہ انسان تو انسان کوئی کھوتا بھی نہیں چل سکتا ۔ بلکہ ایک کھوتے (گدھے) نے وہاں سے گزرنے کی کوشش کی تو وہ کھائی میں گر کر مر گیا۔ یہ قصہ بھی ان کے گاؤں والے نے سنایا۔ ڈھائی کروڑ ایم ڈی آر کی رقم جو 53 کی رابطہ سڑکوں کیلئے خرچ ہونی تھی۔ وہ ان کے پیٹی بند بھائی صالح محمد خان سواتی نے کمال ہوشیاری سے اپنے حلقہ پی کے 55 میں ٹرانسفر کرلی اور سردرا ظہور بعد میں جاگے تو چڑیا کھیت چگ گئیں تھیں۔ ابھی درجنوں گلیاں پختہ ہو رہی تھیں کہ تمام کام یکدم ٹھپ ہو گئے ہیں۔ ٹھیکدار غائب ہیں اور حلقہ کے مکین پریشان۔ایم پی اے صالح محمد خان کے بارے میں ؂خبریں بہت آتی ہیں۔ ہر روز کروڑوں کے منصوبوں کی تفصیل ہوتی ہے۔ لیکن یہ منصوبے کہاں پر ہیں ۔نظر نہیں آتے ۔ بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا ۔۔ چیرا تو اک قطرہ خون نہ نکلا۔ وجیہہ الزمان سردار تو نہیں ۔ لیکن ان کا تعلق سردار محمد یوسف سے بہت پرانا ہے۔ کاغذوں کے مطابق مسلم لیگی ہیں۔ زبانی طور پر تحریک انصاف کی قیادت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور تحریک انصاف کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہیں۔ اندر سے کچھ ۔ باہر سے کچھ ۔۔ ٹکٹ مسلم لیگ کا اور ٹوپی عمران خان کی پہنی ہوئی ہے۔
ہزارہ میں جھاری کس سے لے کر تھاکوٹ تک جانے والی واحد سڑک شاہراہ ریشم اب شاہراہ شرم بن چکی ہے۔ اتنے بڑے بڑے سیاسی تھم کہلانے والے اس سڑک کی حالت کو دیکھنے کے بعد بھی پوری دل کی گہرائیوں سے خاموش ہیں۔ یہ چاہتے تو این ایچ اے سے پوچھ سکتے کہ این ایچ اے صاحب یہ جو کروڑوں کا فنڈ اس سڑک کی مرمتی کیلئے سالانہ بجٹ میں رکھا جاتا ہے۔ وہ کہاں ہے ۔۔۔؟ کیا یہ سڑکوں کی حالت ٹھیک کرنے کیلئے ہے ۔ یا کسی کی بہن، بیٹی کے جہیز پر خرچ کردیا جاتا ہے۔ پھر کیوں یہ سڑکیں بیوہ عورت کی طرح روتی ہیں۔ جس پر چلنے والی ہزاروں گاڑیاں ٹوٹتی ہیں۔ ڈرائیور روتے ہیں اور ان میں سواریاں ہوں یا مریض چیختے ہیں۔ لیکن ہم کیا کریں کہ ہمارے نمائندے اپنے گاؤں کی سڑک کو ٹھیک نہیں کر سکتے اور وہاں سے گزرنے والے کھوتے بھی گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ شاہراہ ریشم کس کھیت کی مولی ہے ۔ صوبائی حکومت کے ترقیاتی فنڈز دھڑا دھڑ لیپس ہو رہے ہیں۔ صرف 37 فیصد فنڈز ابھی تک خرچ ہوئے ہیں۔ گذشتہ مالی سال میں بھی یہ ہی انجام ہوا۔ تحصیل اور ضلع کونسلیں ابھی تک ڈھنگ سے کام شروع ہی نہیں کرسکیں۔ صرف ضلعی ناظم پشاور نے کام شروع کیا ہے۔ 9ماہ بعد پہلا حکم انہوں نے یہ دیا ہے کہ جو بھی مرے ہوئے چوہے کا سرلا کر ضلعی ناظم کو پیش کرے گا۔ اسے 25روپے انعام دیا جائے گا۔ لگتا ہے ناظم پشاور کو چوہوں سے کوئی دیرینہ دشمنی ہے یا وہ ھلاکو خان کے خاندان سے ہیں۔ جو انسانی سر کے بجائے اب گزارے کیلئے چوہوں کے سروں کے ڈھیر لگانا چاہتے ہیں۔ اب اس کے بعد اپنے خدمت خلق سے سرشار نمائندوں سے اور کیا کہوں ۔ صرف اتنا عرض ہے کہ ایک شخص نے کہانی سنائی۔ کہ ایک شخص نے شادی کی ۔۔۔جب طویل وقفہ ہوا تو سننے والے نے پوچھا۔’’پھر کیا ہوا‘‘ ۔۔۔’’کہانی ختم ‘‘ سنانے والے نے جواب دیا۔۔۔ ہمارے نمائندے جب جیت جاتے ہیں تو پھر کہانی ختم ہو جاتی ہے ۔ جیسے شادی کے بعد ۔۔۔ ہمارے منتخب نمائندوں کی کہانی ختم ہے۔ لیکن حیرت ہے ہم پھر بھی ان سے توقع لگائے بیٹھے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *