ٹی وی کے فحش پروگرام دیکھنے کی ذمہ داری اور حکومت کا چھنکنا!

dhernaپہلا نکتہ: 295 سی، پی پی سی میں کوئی ترمیم زیر غور نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی ترمیم کی جائے گی۔
حکومت کا یہ بیان قطعی سچ ہے کہ کسی قانون میں ترمیم اس کے زیر غور نہیں۔ لیکن وہ مستقبل کا وعدہ کیسے کرسکتی ہے؟ پارلیمنٹ کی اکثریت کسی بھی قانون کو بدلنے یا نیا قانون بنانے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔
دوسرا نکتہ: پر امن احتجاج کرنے والے گرفتار شدگان کو رہا کردیا جائے گا۔
پرامن احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کرنے ہی کا کوئی جواز نہیں چنانچہ انھیں رہا کرنے کی بات ماننے میں کوئی ہرج نہیں۔ لیکن واضح رہے کہ پر تشدد احتجاج کرنے والے گرفتار شدگان کو رہا نہیں کیا جائے گا۔
تیسرا نکتہ: توہین رسالت مآب ﷺ کے مقدمات میں سزا یافتہ کسی فرد کو رعایت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
پورا ملک بلکہ پورا عالم اسلام پہلے ہی اس نکتے پر مکمل طور پر متفق ہے۔ لیکن یاد رہے کہ سزا یافتہ مجرم کی بات ہورہی ہے۔ جس شخص کا مقدمہ عدالت میں ہو، وہ ملزم ہوتا ہے۔ حکومت نے یقینی طور پر سوچ سمجھ کر لفظ ملزم استعمال نہیں کیا۔
چوتھا نکتہ: فورتھ شیڈول کی فہرست پر نظرثانی کا عمل جاری ہے۔ بے گناہ افراد کے نام خارج کردیے جائیں گے۔
پہلا جملہ محض ایک بیان ہے، اس میں کوئی وعدہ نہیں۔ دوسرا جملہ غیر ضروری ہے کیونکہ بے گناہ افراد کو کون سزا دینا چاہتا ہے۔
پانچواں نکتہ: علمائے کرام پر درج مقدمات کی واپسی کا جائزہ لیا جائے گا۔خیال رہے کہ مقدمات کی واپسی کا فقط جائزہ لیا جائے گا۔ مقدمات واپس لینے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔ اگر کوئی ارادہ ہے بھی تو کم از کم یہاں کوئی وعدہ نہیں ہے۔
چھٹا نکتہ: میڈیا پر فحش پروگراموں کی روک تھام کے لیے علمائے کرام ثبوتوں کے ہمراہ پیمرا سے رجوع کریں گے جو کہ قانون کے مطابق کارروائی کا مجاز ادارہ ہے۔
حکومت نے فحش پروگرام روکنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا بلکہ ساری ذمے داری علمائے کرام پر ڈال دی ہے۔ اب وہ ہفتوں بلکہ مہینوں تک فحش اور غیر فحش، سارے پروگرام دیکھیں اور ثبوت اکٹھے کریں۔ اس شق کی رو سے علمائے کرام خود پیمرا سے رجوع کریں گے، حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ پیمرا کی مرضی کہ کارروائی کرے یا نہ کرے کیونکہ وہ مجاز ادارہ ہے۔
ساتواں نکتہ: نظام مصطفیٰ ﷺکے ضمن میں سفارشات مرتب کرکے وزارتِ مذہبی امور کو پیش کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ سفارشات مرتب کرنا علمائے کرام کی ذمے داری ہے۔ جب سفارشات تیار ہوجائیں گی تو وہ خود انھیں متعلقہ وزارت کو پیش کریں گے۔ وزارت ہرگز اس بات کی پابند نہیں کہ ان سفارشات پر غور کرے۔ ان سفارشات پر عمل کرنے کا وعدہ کہیں نہیں کیا گیا۔
غور فرمائیں کہ علمائے دین متین آف دھرنا شریف کوسوائے فحش اور غیر فحش ٹی وی دیکھنے کے اور کیا فائدہ ہوا؟سچ کہتے ہیں کہ حکومت نے ان کو چھنکنا یعنی جھنجھنا ہی دیا نا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *