Site icon DUNYA PAKISTAN

سب سے بڑی مردانہ کمزوری

Share

کورونا کی وبا سے پہلے جب تھکا ہارا مرد کام سے واپس آتا تھا تو امید کرتا تھا کہ اس کا استقبال ایسے کیا جائے جیسے میدان جنگ سے آنے والے فوجی کا کیا جاتا ہے۔ اب کبھی لاک ڈاؤن تو کبھی سمارٹ لاک ڈاؤن اور کبھی آج جانے کی ضد نہ کرو ٹائپ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی مرد حضرات گھروں میں بند ہونے پر مجبور ہیں۔

انھوں نے گھر کو ہی میدان جنگ سمجھ لیا ہے اور یہ بھی خود ہی طے کر لیا ہے کہ اس میدان جنگ کا آخری مورچہ کچن بنے اور چونکہ ہر مرد میں ایک چھوٹا موٹا مجاہد موجود ہے، تو فیصلہ ہو گیا ہے کہ اپنے ازلی دشمن کے چھکے کچن میں ہی چھڑائے جائيں گے۔

جس طرح پچھلے سال تک ہر فرد کو سیاحت اور فوٹو گرافی کا شوق تھا، اب ہر مرد کا مشغلہ کُکنگ اور فوٹوگرافی ہے۔ کچے گوشت سے قورمہ بننے تک کے تمام مراحل فون پر لگے کیمرے کی آنکھ میں بند کر دیے جاتے ہیں۔ میدے اور انڈے کو پھینٹتے ہوئے فلٹر لگا کر فلم بند کیا جا رہا ہے۔

شاہی کبابوں کی گولائی پر تمغے اور سیلوٹ بٹ رہے ہیں۔ میں نے بھی کام و دہن کی محبت کی اشتہار بازی میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے ہاتھ سے بنی ایک پھولتی ہوئی چپاتی کی تصویر سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ ایسی نظر لگی کہ اس کے بعد ایک چپاتی بھی پھول کر نہ دی۔

ہر نیا محاذ جنگ ایک نئی تخریب کاری کو بھی جنم دیتا ہے اور اس نئے محاذ جنگ میں مرد کے سب سے بڑے دشمن برتن ہیں۔ فرض کریں آپ تین لوگ ہیں اور آپ نے صرف دال چاول بنانے ہیں۔ ایک برتن میں چاول پکے، ایک میں دال، ایک میں بنا بگھار، اور ہاں پہلے دال اور چاول بھگونے بھی تو ہوتے ہیں تو دو برتن وہ ہو گئے۔

اگر عیاشی کا موڈ بنے تو ساتھ رائتہ بن گیا، ایک اور برتن اور پھر رائتے کے لیے کھیرا مرچ وغیرہ کاٹنا پڑا تو ایک چھری اور ایک وہ منحوس تختہ جس پر یہ چیزیں کٹیں۔

دال اور چاول ڈونگوں میں ڈلے ان میں بڑے چمچے، پھر ہر فرد کے لیے ایک پلیٹ اور چمچ یا دال چاول کی کریٹ پر ہاتھ پھیرا تو کچن کی سنک میں برتنوں کا اتنا بڑا انبار لگ چکا ہے کہ اس سے تو بہتر تھا کہ میں دشمن کے بچوں کو ہی پڑھا لیتا۔

مرد کو اس میدان جنگ میں کئی دشمن نظر نہیں آتا۔ مثلاً اسے ابھی دھلنے والے برتن تو نظر آ رہے ہیں لیکن اسے یہ پتہ نہیں کہ اگر سنک کے نیچے والی الماری کھولیں تو اس میں جھاڑو پونچھے کا سامان بھی پڑا ہوتا ہے۔ کسی جنگی اکیڈمی میں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ جب کوئی چیز نکالنے کے لیے دراز کھولیں تو اسے بند بھی کیا جاتا ہے۔

ہینگر سے کپڑا اتاریں تو ہینگر کی جگہ فرش نہیں بنے۔ باتھ روم کا فرش آپ کی ٹی شرٹ کے لیے نہیں بنا۔ اگر ٹی وی کا ریموٹ نہیں مل رہا تو گھر کے ہر فرد سے تفتیش کرنے کے بجائے صوفے کے نیچے ہاتھ ماریں۔ پانی کی بوتل آپ نے فریج سے نکالی تھی وہ خود چل کر واپس نہیں جائے گی۔

آپ کے فون کا چارجر آپ کو ڈھونڈتا ہوا خود نہیں آئے گا۔ اور وہ جو آپ چیخ رہے ہیں کہ مجھے گرم مصالحہ نہیں مل رہا ہے تو گرم مصالحے کی شیشی آپ کے ہاتھ آ لگے۔

اگر کبھی آپ ٹرین پر لمبا سفر کریں تو پٹری کے دونوں طرف کراچی سے پشاور تک آپ کو مردانہ کمزوری کے علاج کے اشتہار ملیں گے۔ جن سٹیشنوں پر ٹرین رکتی نہیں وہاں بھی کوئی اللہ کا بندہ مردانہ کمزوریوں کی شفا بانٹ رہا ہے۔ لیکن جو مردانہ کمزوریاں گرہستی کے کاموں میں آڑے آتی ہیں ان کا علاج ابھی تک کسی کے پاس نہیں۔

اور میں ان مردوں کی بات نہیں کر رہا جو کھانے میں نمک کم ہونے پر شریک حیات کا ناک کاٹ دیتے ہیں۔ میں بظاہر نرم دل انسان کے بچوں کی بات کر رہا ہوں۔

گھریلو کاموں سے مردانہ کمزوری کے تعلق کی ایک جھلک مجھے تب نظر آئی جب سینسر سے پاس ہونے والی فلم زندگی تماشا پر علامہ خادم رضوی نے یہ کہہ کر دھاوا بول دیا کہ اس میں علما کرام کی توہین ہوئی ہے۔ یہ فتوی صرف ٹریلر دیکھ کر کیا گیا۔ ٹریلر میں ایک باریش آدمی کو گھر کے کام کرتے دکھایا گیا ہے۔ وہ کھانا پکا رہا ہے، کپڑے دھو کر سوکھنے ڈال رہا ہے۔

یہ مناظر دیکھ کر علامہ خادم رضوی کو اتنا جلال آیا کہ وہ کشمیر کی آزادی اور پاکستان کو عالمی قرضوں سے نجات دلانے کا مشن بھول کر زندگی تماشا پر اپنے غوری میزائل داغنے لگے۔ زندگی تماشا میں مردانہ کمزوری کا تھوڑا سا علاج موجود تھا کہ گھر کے کام کرنے میں مرد کی شان میں فرق نہیں آتا۔ لیکن علامہ وہ علاج کیوں ہونے دیتے کہ کہیں اس کے بعد ہم سب کو اپنے کپڑے خود ہی دھونے پڑتے۔

Exit mobile version