قابل نفرت کون؟

عامرعالم

amir alam

دین اسلام کے بارے میں ہمیشہ سے یہ پڑھا اور سُنا ہے کہ ہمارا دین اسلام محبت کا درس دیتا ہے،ہمارے پیغمبر پاک حضرت محمد ﷺ اس دنیا اور یہاں بسنے والوں کیلئے رحمت یعنی رحمت اللعالمین بن کر آئے تھے اور اُن کے تعلیمات اپنانے سے یہ دنیا امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔اسی طرح قرآن مجیدکے تعلیمات پر بھی عمل کیا جائے تو وہ تمام مشکلات کاحل نکال سکتا ہے ۔ اسی طرح اُس میں بھی جگہ جگہ ہمیں امن،شانتی اور محبت کا درس ملتا ہے،لیکن آج کل ہمیں عجیب صورتحال کا سامنا ہے ، ہر طرف دین اسلام کے نام پر نفرت پھیلایا جا رہا ہے،فتووں کی بارش دو طرح کی ہورہی ہے، ایک اوریجنل اور دوسری پروویجنل، اوریجنل کا مطلب اوریجنل ہی ہے اور پروویجنل فتووں کی وہ شکل ہے جس کو سوشل میڈیا کے فتووں کا نام دے سکتے ہیں ۔ مطلب کہ ہر کوئی کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ لکھ کر ایک معزز اور معتبر دینی ادارے کا لیٹر پیڈ استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ زمانہ بہت ڈیجیٹلائز ہوگیا ہے ۔
ایسے حالات میں نہ صرف مسلمان بلکہ تمام انسان حیران و پریشان ہیں کہ آخر یہ دین اسلام کتنے مذاہب کا مجموعہ ہے؟کہ ایک فرقہ ایک انسان کو جہنم واصل کر رہا ہے تو دوسرا فرقہ اُس کو جنتی قرار دے کر ولی اﷲ کے مرتبے پر فائز کر نے کی پوری کوشش کررہا ہے۔ جہاں تک ہم نے پڑھا ہے رب ذولجلال نے انسان کو یہ اختیار دیا ہی نہیں کہ وہ کسی کے جہنم یا جنت جانے کا فیصلہ کریں حتیٰ کہ رسول اکرم ﷺ نے بھی کسی کے بارے میں یہ نہیں کہاں کہ فلاں جنت میں جائیگا اور فلاں جہنم واصل ہوگیا ہے بلکہ جہاں تک رسول اﷲ ﷺکے سیرت سے ثابت ہوا ہے تو انہوں نے منافقین کے حق میں بھی بخشش کی دُعائیں مانگی ہیں اور اب اُس ہستی کے اُمتی ایک دوسرے کو کافر کافر کے چکر میں قتل کر رہے ہیں اور اُس قتل کو بر حق ثابت کر نے کیلئے مضبوط دلائل بھی رکھتے ہیں۔اس کافر کافر کے چکر میں مجھے کبھی کبھی فکر لا حق ہوجاتی ہے کہ کہیں ایسا وقت نہ آئے کہ پھر لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہلاناہی بند کر دیں کیونکہ ہم تو اپنے ہی لوگوں کو قتل کر رہے ہیں حالانکہ قرآن مجید میں واضح طور پر یہ بات کہی گئی ہے کہ ’’جس کسی نے بھی ایک ناحق [انسان] کو قتل کیا وہ جہنمی ہے‘‘ ۔
اسلام کے نام پر جو کھیل ہم کھیل رہے ہیں کل کو کس منہ خدا کا سامنا کریں گے؟ ابھی تو ہم دوسروں کو جنت اور دوزخ کے ٹکٹ تھما رہے ہیں لیکن وہ لوگ جو اسلام کے نام پر اپنی دکانیں چمکا رہے ہیں وہ لوگ بھی یہ بات ذہین نشین کر لیں کہ حساب والے دن اُن کی اپنی ٹکٹ بھی اُن کے ساتھ نہیں ہوگی۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم مسلمان جو اجتماعی غلطیاں کررہے ہیں اُن غلطیوں کے اصلاح کیلئے کچھ عملی اقدامات کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرتے اوراپنے آنے والی نسلوں کو اُن غلطیوں سے آگاہ کرتے،لیکن ہم اُنہی غلطیوں پر فخر کررہے ہیں ساتھ ہی اُن غلطیوں کے بل بوتے پر اپنے ہی لوگوں کو قتل کرکے قتل کا مرتکب بھی ہورہے ہیں۔
یہ میری ذاتی رائے ہیں کہ آج ہم بحثیت مسلمان جو کررہے ہیں،تویہ سوال اٹھنا محال ہے کہ یہ [نعوذ باللہ] مذہب ہی نہیں جو اپنے ماننے والوں کو دوسروں کے بے گناہ قتل،سود،جھوٹے الزامات،گالم گلوچ اور تہمتوں کی اجازت دے،لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ مذہب میں کچھ بھی غلط نہیں،بلکہ یہ ہم ہی کم ظرف اور کم علم ہیں جو اپنے غلط کاموں کو دین سے جوڑ دیتے ہیں،دین اسلام تو بہت ہی ماڈرن اور مکمل دین ہے،زندگی کے ہر زاویے کے حوالے سے یہی دین بھرپور رہنمائی کرتا ہے۔
اسلام آباد میں بیٹھے ایک مولانا صاحب جو ناموس رسالت ﷺکے نام پر دھرنا دے رہے تھے ،اُن کی منہ سے جو غلیظ گالیاں نکل رہی تھیں،یہ تو اسلام نے اُسے نہیں سکھایا بلکہ یہ اُس کی اپنی گندگی تھی جو اُس کے منہ کے ذریعے باہر آرہی تھی،اب اُس مولانا صاحب کی تقریر کو اسلام کے ساتھ جوڑنا نہ تو ایمانداری ہے اور نہ ہی انصاف۔اسی طرح اسلام کے ساتھ بہت سارے چیزوں کو جوڑا گیا ہے جو دنیا بھر میں اسلام کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کیلئے بھی بد نامی کا باعث بن رہا ہے۔یہ میری غلط فہمی ہو سکتی ہے لیکن مجھے دنیا کا جو نقشہ نظر آرہا ہے تو دنیا مسلمانوں کو ان چند لوگوں کی وجہ سے بہت حقیر نظروں سے دیکھتی ہے،دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ اس جدید دور میں بھی ہم پسماندگی اور پتھر کے دور میں زندگی بسر کررہے ہیں،جبکہ حقیقتاً ایسا بالکل نہیں۔ دنیا کے تمام مذاہب میں ایک دین اسلام ہے جو آئیڈیل زندگی گزارنے کے تمام طور طریقے اپنے ماننے والوں کو سکھاتی ہیں۔یہ وہی دین اسلام ہے جس نے (۱۴۰۰)سال پہلے لوگوں کو اقراء کا منشور و دستور دیا،یہ وہی دین اسلام ہے جس نے اُس پتھر کے دور میں لوگوں کو بھائی بھائی ہونے کا درس دیا۔ پھر کیسے یہ دین (۱۴۰۰)سال بعد کسی کے قتل کو جائز قرار دے سکتی ہے،اس دین کا پیغمبرﷺ تو وہ ہستی ہے جس نے عبد اﷲ بن اُبئی جیسے منافق کا جنازہ بھی خود پڑھایا، تو پھر وہ کیسے اپنے اُمتی کو نعوذ باﷲ اسلام کے نام پر قتل کا درس دے سکتے ہیں۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ دین اسلام امن،محبت،بھائی چارے اور قربانی کا درس دیتا ہے،اسے ہم نے ہی دنیا کے سامنے بدصورت کر دیا ہے،کیونکہ ہم خود بد صورت ہیں،ہم اگر محبت نہیں پھیلا سکتے تو ہمارے اندر نفرت کی آگ کو بھی اسلام کے ساتھ جوڑنے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔ہمارے نس نس میں اگر یہ مذہبی انتہا پسندی اور نفرت بھر گیا ہے ،تو اُس کیلئے ہمیں کوئی دوسرا میدان ڈھونڈناہوگا ، اسلام قابل نفرت نہیں بلکہ ہم خود وہ لوگ ہیں جو قابل نفرت ہیں،ہمیں اپنے آپ سے نفرت کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے ایسے مقدس، پرامن اور ماڈرن دین کو بدنام کیا ہے، اتنا بدنام کہ لوگ اب ہم سے نفرت کررہے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *