Site icon DUNYA PAKISTAN

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر: بچوں سے جنسی زیادتی کے مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کا بل منظور

Share

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور ایک ترمیمی بل منظور کیا ہے جس بچوں سے زیادتی کے مرتکب مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا سمیت دیگر سخت سزائیوں کی منظوری دی گئی ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی کابینہ نے اس بل کو گذشتہ ماہ منظور کرنے کے بعد قانون ساز اسمبلی میں بھیجا تھا جہاں اس بل کو قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے پاس مزید کارروائی کے لیے بھیجا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے یہ بل دوبارہ قانون ساز اسمبلی میں ووٹنگ اور بحث کے لیے بھیجا جہاں اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔

منظور کروانا مشکل کام تھا مگر کوئی اور چارہ نہ تھا

اس بل کو قانون ساز اسمبلی میں پیش کرنے والے وزیر احمد رضا قادری نے بتایا کہ قانون ساز اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل توثیق کے لیے خطے کے صدر مسعود خان کے پاس بھیجا گیا ہے جہاں سے منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا اور ریاست بھر میں نافذ عمل ہوگا۔

ان کے مطابق صدر کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس بل کو رد کر سکیں۔ احمد رضا قادری نے بتایا کہ یہ قانون سخت ضرور ہے مگر اس کو ایسے جرم کے خلاف نافذ کیا جا رہا ہے جو انتہائی غیر انسانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں دفعہ 377 اے میں ترمیم کی گئی ہے جس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے شخص کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے علاوہ سزائے موت اور عمر قید میں سے کوئی بھی ایک سزا دینے کی تین تجاویز ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اس بل کی منظوری پر بی بی سی کو بتایا کہ اس ترمیمی بل کو کابینہ سمیت قانون ساز اسمبلی سے منظور کرنا ایک مشکل فیصلہ تھا مگر قانون ساز اسمبلی کے اراکین نے اس جرم کے پھیلاو کو روکنے کے لیے اسے متفقہ طور پر منظور کیا کیونکہ ہمارے پاس اس سخت قانون سازی کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ معاشرے میں بڑھتے کیسز کی بنا پر اس نجی بل کو حکومتی بل میں تبدیل کیا گیا تاکہ ریاست بھر میں بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والے افراد کو ایک ایسی عبرتناک سزا دی جائے تاکہ یہ جرم کرتے وقت کوئی بھی سو مرتبہ سوچے۔ انھوں نے بتایا دنیا بھر میں بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والے افراد کے خلاف اسی طرح سخت سخت سزائیں نافذ ہیں مگر پاکستان یا اس کے زیر انتظام کسی بھی انتظامی یونٹ میں یہ قانون پہلی مرتبہ بنایا گیا ہے۔

’سزا دیں مگر سزا کا تماشہ نہ بنائیں‘

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم انصار برنی ٹرسٹ کے سربراہ انصار برنی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اس قانون سازی کی سخت سے سخت مزمت کرتا ہوں کیونکہ یہ قانون سازی انتہائی مضحیکہ خیز ہے۔ ’آپ نے ایک ایسے ملک میں یہ قانون سازی کی ہے جہاں امیروں کے لیے الگ قانون، غیریبوں کے لیے الگ قانون اور حکمرانوں کے الگ قانون ہے۔ میرے نزدیک یہ نہ صرف مضحیکہ خیز ہے بلکہ انصاف کے ساتھ مذاق اور اس کا قتل ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس سے میرا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ایسا عمل کرنے والے شخص کو کوئی سزا نہ دی جائے۔ میرے نزدیک ایسے شخص عبرتناک سزا دیں اس کو عمر قید جیسی سزا دیں یا پھر ایسی سزا دیں جس سے اسے اس جرم پر شرمندگی ہو۔ آپ ایسے ملک میں یہ سزا منظور کر رہیں جہاں لوگ پیسے لیکر جھوٹی گواہی دیتے ہیں ایسی صورت حال میں کوئی بھی شخص اپنے مخالف کے خلاف کیس بچے کو کھڑا کر کے اسے یہ سزا دلوا سکتا ہے۔ ایسا جرم کرنے والے کو عبرتناک سزا دیں مگر سزا کا تماشا نہ بناہیں۔‘

عدالتی طریقہ کار میں بھی ترمیم

سپریم کورٹ کے وکیل کرم داد خان نے اس ترمیمی بل کی منظوری پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا بچوں سے جنسی زیادتی کا فعل غیر انسانی و غیر فطری ہے، ایسے غیر انسانی فعل پر غیر انسانی سزا تجویز کیا جانا کوئی غلط نہیں۔ ’اس خطے کی حکومت اور اپوزیشن نے اس قانون سازی پر دور اندیشی کا مظاہرہ کیا جو ان کا اہم کارنامہ ہے۔ یہ جرم کسی بھی مذہب میں جائز نہیں جبکہ مذہب اسلام میں یہ سنگین جرم سے بھی بڑھ کر ہے جس کی کوئی حدود نہیں بلکہ مقدس کتابوں میں اس جرم کے ارتکاب کرنے والوں پر عذاب الہی کہ داستانیں ملتی ہیں۔ مگر ان کو دی جانے والی سزا کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔‘

انہوں نے کہا کہ اس ترمیمی بل میں منظور کیا جانے والا عدالتی طریقہ کار اس قانون سازی سے بھی اہم ہے جس کے تحت سیشن عدالت ایسے کیسز کو سنے گی جہاں اسے زیادہ سے زیادہ 60 دن تک زیر بحث لایا جا سکے گا جبکہ ہائی کورٹ میں یہ مدت 90 دن تک ہے۔

اگر عدالت مجرم کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا دیتی ہے تو یہ عمل سرجری کے ذریعے مکمل کیا جائے تاہم اگر سرجری کے دوران مجرم کی ہلاکت کا خدشہ ہو تو کیسٹریشن (خصی کرنے کا عمل) کیمیکل کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس بل کے ذریعے پینل کوڈ 377A اور 352 اے میں ترامیم کی گئی ہے جس میں فیصلہ کرنے کے لیے سماعت کے لیے عدالتی طریقہ کار میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ اس بل کے مطابق یہ عدالت پر منحصر ہو گا کہ وہ مجرم کے لیے ان تینوں میں سے کون سی سزا کو تجویز کرتی ہے۔

منظور شدہ بل کے مطابق جنسی زیادتی کے مرتکب مجرموں کو ان سزاؤں کے علاوہ دس لاکھ سے پچاس لاکھ تک جرمانہ ادا کرنے کی تجویز بھی بل کا حصہ ہے۔ بل کے مطابق ایسے مجرم جن پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش ثابت ہوگی، ان کو دس سال تک قید کی سزا اور دس سے بیس لاکھ تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ اس ترمیمی بل کے تحت عدالت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایسے مقدمات کو 60 دنوں کے اندر مکمل کرے اور اگر ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ فیصلہ ساٹھ دن کے اندر نہ ہو سکے تو عدالت کو مزید 30 دن کی مہلت ہے۔ بل کے تحت ایسے مقدمات کی تفتیش اے ایس پی یا اس سے بڑے درجے کا افسر کرے گا۔

Exit mobile version