سی ایس ایس کے امتحانی پرچے میں کاپی پیسٹ کا انکشاف

fpscیہ بات علم میں آئی ہے کہ مقابلے کے امتحانات کے پیپرز تیار کرنے والے پروفیسرز بھی ’کاپی پیسٹنگ‘ میں ملؤث پائے گئے ہیں۔ سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کے امتحانات جو فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے تحت لیے جاتے ہیں،میں ایک سوال انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد (آئی آئی یو آئی) کے داخلے کے ٹیسٹ پیپر سے لیا گیا تھا۔
ایک یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر نے یہ انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ جرنلزم کے ایک اختیاری سبجیکٹ کا پیپر تھا جو 18 فروری 2014ء کو لیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ’’جب مجھے یہ گمان ہوا تو میں نے سی ایس ایس کے امتحانی سوالات کا پرچہ دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ پہلی ہی نظر میں، میں نے یہ محسوس کیا کہ میں سوال نمبر سات کو پہلے بھی دیکھ چکا ہوں۔ میں نے اس کو دوبارہ پڑھا اور یاد کیا کہ ایسا ہی سوال انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ایم ایس کے داخلہ ٹیسٹ میں بھی پوچھا گیا تھا، اس لیے کہ میرا بیٹا سترہ جنوری کو اس ٹیسٹ میں شریک ہوا تھا۔‘‘
میں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے سوالیہ پرچے کو چیک کیا تو میں یہ دیکھ کر چونک گیا کہ دونوں سوالات ایک جیسے ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں علامات وقف اور سوالیہ نشان میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی پرچے کو ایک نظر میں دیکھنے سے کوئی بھی باآسانی سمجھ جائے گا کہ سی ایس ایس کا امتحانی پرچہ تیار کرنے والوں نے یہ سوال انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے امتحانی پرچے سے نقل کیا ہے۔ دیگر سوالات کے بارے میں بھی خیال کیا جاسکتا ہے کہ وہ بھی حال میں منعقد ہونے والے بعض امتحانات سے نقل کیے گئے ہوں۔
قائداعظم یونیورسٹی کے ایک فیکلٹی ممبر نے اس حوالے سے مزید کہا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو اس بات کی یقین دہانی کرلینی چاہیٔے کہ سی ایس ایس کے امتحانات کے لیے سوالات حال ہی میں منعقد ہونے والے امتحانات سے نہیں لیے گئے ہوں، اس لیے کہ اگر کوئی ان سوالات کے جواب پہلے بھی دے چکا ہوگا تو اس کے لیے ان کے جواب دینا نہایت آسان ہوجائے گا۔
جب سابق وفاقی وزیر اور معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر ایک سوال کا کچھ حصے میں اتفاق سے کسی دوسرے سوال سے مماثلت پائی جائے تو اس کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے لیکن اگر تین سطروں کا سوال دوسرے سوال کی نقل ہے تو اس کی اجازت نہیں ہے۔
ڈاکٹر عطاءالرحمان نے کہا ’’میں یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اس طرح کی چیزیں اب سی ایس ایس کی سطح پر کی جاسکتی ہیں۔ امتحانی سوالات تیار کرنے والوں کو علمی سرقے کی عادت کو ترک کرنا چاہیٔے۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *