Site icon DUNYA PAKISTAN

ڈیانا ایوارڈ جیتنے والے پانچ پاکستانی نوجوان

Share

رواں سال پانچ پاکستانی نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں تعلیم اور بچوں میں عمومی شعور اجاگر کرنے پر ڈیانا ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

‘دی ڈیانا ایوارڈ’ وہ واحد خیراتی ادارہ ہے جو ویلز کی شہزادی ڈیانا کی یاد میں قائم کیا گیا ہے اور اس کے تحت ہر سال ایوارڈ دیے جاتے ہیں۔ ادارے کو شہزادی ڈیانا کے دونوں بیٹوں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کی بھی حمایت حاصل ہے۔

اس میں نوجوانوں کی رہنمائی کے پروگرام کے علاوہ تعلیمی اداروں میں دیگر طالب علموں کو مارپیٹ سے روکنے اور سماجی سطح پر تبدیلی پیدا کرنے والے نوجوانوں کو ایوارڈ دیا جاتا ہے۔

دی ڈیانا ایوارڈ کی خاص توجہ نوجوانوں اور معاشرے میں تبدیلی لانے پر مرکوز ہے۔

اس ادارے کو برطانوی حکومت نے سنہ 1999 میں اس مقصد سے قائم کیا تھا کہ شہزادی ڈیانا کو خیراج عقیدت پیش کیا جاسکے اور ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو معاشرے میں بچوں کی تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں۔

2006 میں ایک آزاد خیراتی ادارہ بننے کے بعد ڈیانا ایوارڈ نے ادارے کو مکمل طور پر نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی مہم میں تبدیل کرلیا۔

رواں سال منعقد ہونے والے ایوارڈز میں پانچ پاکستانی نوجوانوں کی سماجی سطح پر خدمات کو سراہا گیا ہے جن میں محمد شعیب بنگش، راعنہ خان، نبیلہ عباس، عمر مختار اور احمد طور شامل ہیں۔

چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی نبیلہ کا ایک بڑا خواب

ضلع ڈیرہ غازی خان کے گاؤں چوٹی زریں سے تعلق رکھنے والی نبیلہ عباس نے پاکستان کے دیہی علاقوں کی فلاح و بہبود کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور اس کے حصول کے لیے وہ دیہی علاقوں میں رہنے والی لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہیں۔

خود ایک دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی نبیلہ عباس سمجھتی ہیں کہ معاشی اور سیاسی عدم استحکام ، یا ثقافتی رکاوٹوں کی وجہ سے خواتین کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دیانا ایوارڈ حاصل کرنے والی نبیلہ عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں کسی جدید شعبے میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کا بچپن سے ہی شوق تھا اور اسی غرض سے انھوں نے لاہور کی یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی سے ہوا بازی میں اپنا بیچلرز مکمل کیا۔

نبیلہ عباس نے ملک میں ایوی ایشن لٹریری فورم کی بھی بنیاد رکھی جو لڑکیوں کو ایویشن سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔

نبیلہ عباس نے بی بی سی کو دیہی علاقوں کے مسائل کے حوالے سے بتایا کہ ‘بنیادی وسائل کی کمی کی وجہ سے نہ صرف اعلی تعلیم بلکہ بہت سے بچےابتدائی تعلیم سے بھی محروم رہ جاتے ہیں اور کہیں نہ کہیں جہالت اور لاشعوری کا شکار بچے وڈیرا نظام کا حصہ بن جاتے ہیں’۔

نبیلہ عباس نے بتایا کہ میری لڑائی ہر اس حکومت اور انتظامیہ سے ہے جو دیہی علاقوں کی ترقی پر توجہ نہیں دیتے۔

‘مجھے بہت فخر ہے پر اس دوران عاجز رہنا بھی ضروری ہے’

پاکستان کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے احمد طور کو اس بات پر بے حد فخر ہے کہ وہ اپنے شہر کے پہلے ایسے شخص ہیں جنھیں ڈیانا ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

احمد طور میپس نامی سماجی ادارے میں بطور صدر دوسری مرتبہ منتخب ہوئے ہیں۔ یہ ادارہ بچوں کو ایک چھوٹی عمر میں پیشے کا انتخاب کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی استعطات کو بھی بڑھانے کے لیے مختلف سیمینارز اور ورکشاپس منعقد کرواتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احمد طور کا کہنا تھا کہ ‘سنہ 2012 سے لے کر اب تک ہمارا ادارہ مختلف پروگرامز کے ذریعے 80 ہزار بچوں کو مدد فراہم کرچکا ہے۔’

میپں کے دفاتر ملک کے 30 مختلف شہروں میں قائم ہیں۔ ایوارڈ ملنے پر احمد طور کا کہنا تھا کہ ‘مجھے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ جس ادارے کے ساتھ وہ گذشتہ چار سال سے منسلک ہیں اسے اب ایک بین الاقوامی سطح پر پزیرائی مل رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘مجھے بہت فخر ہے پر اس دوران عاجز رہنا بھی ضروری ہے اور ملک کے نوجوانوں کی بہتری کے لیے اپنا کام جاری رکھنا ہے۔’

‘علم طاقت ہے’

‘علم طاقت ہے’ ایک ایسا قول ہے جس پر عمر مختار پختہ یقین رکھتے ہیں۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے عمر مختار ‘کتاب فاؤنڈیشن’ کے بانی ہیں جس کے ذریعے ان کی کوشش ہے کہ دسیوں ہزار سکول جن کے پاس کتابیں خریدنے کے مالی وسائل نہیں انھیں یہ کتابیں مفت عطیہ کی جائیں۔

عمر مختار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عدم مساوات کا خاتمہ تعلیم کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔ صداقت فاؤنڈیشن نے ان علاقوں میں سکول تعمیر کرنے کے لئے 30 ہزار ڈالر جمع کیے جہاں نوجوان لوگوں کو معیاری تعلیم کی سہولیات نہیں معیسر۔

ایک نوجوان استاد ہونے کی حیثیت سے عمر کو شروعات میں مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر ان کے بقول ‘ایمان اور استقامت’ نے انھیں ان کے منصوبوں میں کامیابی سے ہمکنار کیا۔

ڈیانا ایوارڈ ملنے پر احمد مختار نے کہا کہ ‘میں امید کرتا ہوں کہ پاکستانی نوجوان میری مثال لے کر تعلیم کے شعبے میں مزید کام کریں گے۔’

مذہب اور فرقوں سے پہلے انسانیت

صرف 18 سال کی عمر میں ہی راعنہ خان خواتین کو بااختیار بنانے ، حفظان صحت ، مفت تعلیم اور سماجی کام میں کی جانے والی کوششوں کی بدولت ان کا شمار پاکستان کی بااثر خواتین میں ہوتا ہے۔ سے ایک کے طور پر ووٹ دیا گیا ہے۔

راغنہ خان نے ‘زنانا فاؤنڈیشن’ کی بنیاد رکھی جو ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے اور دنیا بھر سے رضاکاروں کی مدد سے ملک میں سکول قائم کر رہا ہے۔

اس ادارے کے ذریعے خواتین کو مختلف ہنر سکھائے جاتے ہیں اور یہ سب نوجوان لڑکیوں کے لئے خود کفالت کی سہولت فراہم کرتے ہیں جبکہ ماحولیاتی تحفظ اور استحکام کے لیے بھی یہ ادارہ کام کررہا ہے۔

ڈیانا ایوارڈ حاصل کرنے والی راعنہ خان نے زنانہ فاؤنڈیشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کےلیے ‘مذہب اور فرقوں سے پہلے انسانیت آتی ہے’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میرا ایوارڈ ہر اس شخص کا ہے جس نے جب بھی کوئی کام کیا ہے وہ صرف اور صرف انسانیت کے لیے کیا ہے۔’

قبائلی اضلاح سے تعلق رکھنے والے محمد شعیب نے سماجی بنیادوں پر ایک ادارہ قائم کیا جس نے سلامتی، تعلیم اور کھیل کے فروغ کے لئے اب تک 500 سے زیادہ نوجوانوں کی مدد کی ہے۔

انٹرنیٹ کی بندش اور وسائل کی عدم فراہمی کے باوجود بھی محمد شعیب نوجوانوں میں تعلیم حاصل کرنے کا شعور بیدار کررہے ہیں۔

Exit mobile version