دہشت گردی کے خاتمے میں ناکامی کی وجوہات اور غیر ملکی میڈیا

policeغیرملکی میڈیاکے نزدیک پاکستان میں دہشت گردی ختم نہ ہو نے کی وجوہات بڑی واضح ہیں ۔ اس موضوع پر تحقیقی تجزیے اور رپورٹس شائع ہوتی رہتی ہیں ۔لیکن لاہور میں ہونے والے دھماکے نے ایک دفعہ پھر پوری دنیا کی توجہ پاکستان کی طرف مبذول کرا دی ۔ غیر ملکی میڈیا کے بعض ادارے اس بات پر بہت حیران ہیں اتنے بڑے حادثے کو پاکستانیوں نے بہت جلدی بھلا دیا اور ان کی دلچسپی گالی گلوچ کرنے والے ایک لفنگے قسم کے مذہبی گروپ نے حاصل کر لی یا وہ را کے پکڑے جانے والے ایجنٹ کل بھوشن یا دیو کے موضوع پر الجھے رہے اور لاہور کے واقعے کو بھی اس کے ساتھ جوڑنے لگے۔فارن افیئر نامی میگزین کے نزدیک یہی وہ رویے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کو قابو پانے میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں ۔غیر ملکی میڈیا کی اس موضوع پر شائع ہونے قابل ذکررپورٹس کا اگر خلاصہ کیا جائے تو ان کے نزدیک پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے میں ناکامی کی وجوہات یہ ہیں :
*اچھے اور برے طالبان کی تقسیم ۔ان کے نزدیک پاکستانی اتھارٹی کی یہ تقسیم انتہائی مہمل اور ناقابل فہم ہے کیونکہ طالبان کی تمام تنظیموں میں روابط موجود ہیں ۔اختلاف کے باوجود ان کے ہاں ایک دوسرے کی مددشخصی طور پر ہوتی رہتی ہے اور اجتماعی طور پر بھی کیونکہ سب کا مسلک اور بنیادی مقصد ایک ہے یعنی اپنے فہم اسلام کے مطابق افغانستان اور پھر پوری دنیا میں ایک مسلم ایمپائر کا قیام۔ ان کے درمیان موجود اختلاف بہت وقتی اور معمولی نوعیت کے ہیں ۔ پھران کی تنظیم بہت ڈھیلی ڈھالی ہے۔ چنانچہ یہ عین ممکن ہے جس گروہ کو پاکستانی صبح کو اچھے طالبان سمجھتے ہوں وہ شام کو برے طالبان بن جائیں اور یہ ممکن ہے انھوں نے جن پر عدم اعتماد کاا ظہار کیا ہو وہ چند وقتی مفاد کی خاطر اپنے پرانے حمایتیوں یعنی پاکستانیوں کی مدد پر آمادہ ہونے کا فیصلہ کیے بیٹھے ہوں مگر کوئی ڈرون یا اچانک اٹیک ان کا خاتمہ کر دے۔اس لیے اچھے اور برے ’’دشمن ‘‘ کی یہ پالیسی مسئلے پر قابو نہ پانے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔
*پاکستان کی سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ایک دوسرے پر عدم اعتماد : اس حوالے سے یہ تجزہ نگار کہتے ہیں جب سے اپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا ہے ، اس پر مکمل طور پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سول اتھارٹی ایک تو اس قابل ہی نہیں کہ وہ اس میں کوئی تعاون کر سکے دوسرے یہ کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اپنے ذرائع اور اپنے راز ہیں جن کو وہ اپنے پاس ہی رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے نکٹا (NACTA ) ایک غیر فعال ادارہ ہے ، جو ملٹری اور سول اتھارٹی دونوں کی کوششوں کو یک جاکرتا ہے لیکن اس کاکوئی قابل ذکر اجلاس آج تک نہیں ہوا۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ نواز حکومت کی انڈیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی پالیسی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔ چنانچہ مودی کا نواز شریف کی سالگرہ پر اچانک رائے ونڈ آنا، اس سے پہلے 2015 ء میں پیرس میں دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات ، پھر سیکرٹری خارجہ کی سطح کے مذاکرات کی بحالی ایسے واقعات ہیں جن کو فوج نواز حکومت کی سولو فلائیٹ سمجھتی ہے چنانچہ یہ تجزیہ نگار پٹھان کوٹ اور اس سے قبل افغانستان میں مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے پر مبینہ طور پر پاکستانی نواز تنظیموں کی کارروائیوں کو بڑا معنی خیز قرار دیتے ہیں۔ اسی ضمن میں جب پٹھانکوٹ حملے کی جوائنٹ انکوائری کا ڈول ڈالا گیا تو لاہور والے واقعے سے صرف ایک روز قبل را کے ایجنٹ کل بھوشن یادو کی سٹوری منظر عام پر آ گئی۔ عالمی برادری اس سے قبل کارگل ایڈونچر، بمبئی حملے ،مودی حکومت سے قبل کانگرس حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران سرحدی کشیدگی وغیرہ کے واقعات کا ابھی نہیں بھولی۔ چنانچہ ان دونوں حالیہ واقعات کا وزیر اعظم نواز شریف پر اتنا دباؤ پڑا کہ انھیں امریکا میں اپنا طے شدہ دورہ ملتوی کرنا پڑا جہاں ان کی اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات متوقع تھی۔ اسی طرح پنجاب میں ناپسندیدہ دہشت گردوں کے خلاف پنجاب حکومت کی غیر موثر کارروائیوں کو بھی اسٹیبلشمنٹ اورسول حکومت کے درمیان عدم موافقت کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے۔
*غیر ملکی تجزیہ نگارملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ’’ دشمن کادشمن دوست ہوتا ہے ‘‘ کی پالیسی کو بھی پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پانے کی ایک وجہ گردانتے ہیں ۔ ان کے نزدیک حقانی نٹ ورک ہو یا کشمیر میں رسائی رکھنی والی تنظیم جیش محمد ، یہ سب وقتی طور پر پریشر تو تخلیق کر سکتی ہیں لیکن یہ مستقبل میں یہ سب ’’ جماعت احرار‘‘ اور ’’ٹی ٹی پی ‘‘اور لشکر جھنگوی بننے کی صلا حیت ، رجحان اور روایت بھی رکھتی ہیں ۔(اسامہ بن لادن کو بھگتنے والا امریکا اور مغرب بھلا اس ’’حادثے ‘‘ کو کیسے بھلا سکتا ہے!)
غیر ملکی تجزیہ نگاراس سارے معاملے پر یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو سوچنا چاہیے کہ کہیں اس نے اپنی بساط سے بڑھ کر تو محاذ تو نہیں کھول لیے ؟کیونکہ اسے بھارت کی دشمنی ، سول حکومت پر عدم اعتماد ، سول اسٹیلشمنٹ کی غیر موثر مدد ، ہر آن آنکھیں اور پینترے بدلنے والے سفاک دہشت پسند ، افغانستان کی مشکوک حکومت اور عالمی برادری کا کھردرا رویہ ۔۔۔ ان سب کا ایک ساتھ مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے معاملات پر جلد قابو پانے کے لیے اسے اپنی حکمت عملی کو ایک نظر دوبارہ دیکھنا ہو گا۔
( اس مضمون کو فارن افیئر ،دی اکنامسٹ، واشنگٹن پوسٹ ، سی این این کے تبصروں اور تجزیوں کی روشنی میں مرتب کیا گیا۔ اس سے Dunyapakistan.com اور مرتب کی رائے کا متفق ہونا ضروری نہیں )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *