بھارتی مداخلت کو عالمی فورمز پر اُٹھانا ہوگا

جاوید اقبال

javed iqbal

عرصے سے یہ بات کہی جا رہی تھی کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے بہت سی بین الاقوامی قوتیں سرگرم ہیں۔جس میں اہم کردار پڑوسی ملک بھارت کا ہے ،قومی سلامتی کے ادارے یہ بات ہمیشہ وثوق سے کرتے رہے لیکن ہماری حکومتی مشینری اس معاملے میں کچھ زیادہ متحرک نظر نہیں آئی اگر چہ کہ وقتا فوقتا رسمی طور پر اس حوالے سے تھوڑا بہت ضرور کہا گیا۔کل بھوشن یادیو کا چاہ بہار، بلوچستان اور کراچی میں نیٹ ورک ،اس نیٹ ورک کی کاروائیاں اور پھر اس دوران کل بھوشن کی گرفتاری پاکستان کے اُس دیرینہ موقف کی تائید ہے جس میں پاکستان ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ بھارت اس خطے میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے ۔بھارتی ایجنٹ کل بھوشن کابلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور کراچی میں دہشت گردوں کی مالی معاونت اور انہیں اسلحے کی فراہمی کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ محض ایک جاسوس ہی نہیں بلکہ ایک دہشت گرد بھی ہے جسے ریاست کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کل بھوشن بھارتی نیوی اور را کا حاضر سروس افسر ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے براہ راست را کے جوائنٹ سیکرٹری امیت کمار اور بھارتی حکومت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال سے رابطے میں رہا۔یاد رہے کہ اجیت ڈول نے اب سے کچھ عرصہ قبل ایک سیمینار میں پاکستان کے خلاف اپنے ناپاک عزائم کا جس طرح اظہار کیا،وہ سب کو معلوم ہے۔بھارت کا اکثر میڈیا اس معاملے پر خاموش نظر آتا ہے لیکن کچھ حقیقت پسند اخبارات نے اس اہم معاملے اور بھارتی کردار کے حوالے سے کئی سوالات اُٹھا دئیے ہیں۔مثلا یہ کہ کل بھو شن یادیو بلوچستان میں کیا کر رہا تھا،بھارتی حکومت کو کیا ایسی مجبوری تھی کہ نیوی کے حاضر سروس افسر کو چاہ بہار بھیجا گیا ،اس کیلئے دُکان کھلوا کر کاروبار شروع کروایا گیا اور اس کے کچھ عرصہ بعد وہ بلوچستان سے پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیز کے ہاتھوں گرفتار ہوجاتا ہے۔اس بھارتی میڈیا نے کل بھوشن کی بھارت میں ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی کئی انکشافات کئے ہیں جس میں کل بھوشن کو مبارک حسین پٹیل کے نام سے پاسپورٹ کا اجراء اور اُس پر اس کے گھرکے غلط پتے کے اندراج کا معاملہ بھی شامل ہے۔اس گرفتاری سے جڑا ایک اور اہم معاملہ بردار اسلامی ملک ایران سے ہے کیونکہ پاکستان اور ایران کے درمیان بہترین برادرانہ تعلقات ہیں اور ہم کبھی بھی یہ توقع نہیں رکھتے کہ ایران سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی کاروائی ہو۔اس لئے ایران کو بھی اس معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہونا پڑیگا اور پاکستان کو جس قسم کا تعاون درکار ہو اُس میں خلوص نیت کا مظاہرہ کرنا پڑیگا ۔دو ملکوں کے تعلقات بلا شبہ باہمی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ گودار میں پاکستان اور چین کے درمیان جس طرح کا تعاون موجود ہے ویسے ہی شراکت داری چاہ بہار میں بھارت اور ایران کے درمیان موجود ہے۔لیکن اگر چاہ بہار میں بیٹھ کر را نیٹ ورک پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کرتا ہے تو پھر پاکستان ایران سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے کہ ایران اس قسم کی کاروائیوں کو روکے۔یاد رہے کہ اس طرح کے معاملات میں ایران کو بھی پاکستان کا بھرپور تعاون حاصل رہا ہے۔ایرانی حکومت نے اس معاملے پر جس رد عمل کا اظہار کیا ہے اسے بھی انتہائی مثبت دیکھا جارہا ہے کیونکہ گزشتہ دنوں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات میں ایرانی سفیر نے درکار مدد پر بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔را کے ایجنٹ کل بھوشن یادیو کی گرفتاری بلاشبہ ہماری سیکیورٹی ایجنسیز کی ایک شاندار کامیابی ہے لیکن اس کامیابی میں اور اضافہ اُس وقت ہوگا جب بقول ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹنٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ جب ہماری حکومت اس معاملے کو موثر طریقے سے بین الاقوامی فورمزپر اُٹھائے گی۔حیران کن بات یہ ہے کہ ابھی تک وزیر اعظم سمیت اہم حکومتی وزراء اس معاملے پر خاموش نظر آرہے ہیں ۔حالانکہ اقوام متحدہ کے گزشتہ سال کے اجلاس میں ،میں خود موجود تھا جب وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر ،پڑوسی ممالک سے تعلقات اور ملکی معاملات میں بیرونی مداخلت کے حوالے سے ایک بھرپور موقف اپنایا تھا ۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے یہ محض اسٹیبلیشمنٹ ہی نہیں عوامی امنگوں کا بھی تقاضہ ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کا معاملہ بھرپور طریقے سے عالمی فورمز پر اُٹھایا جائے ،بھارت بغیر ثبوت کے اپنے ملک میں ہونے والے ہر واقعے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتا رہا ہے اور آج تک کبھی بھی اس کا ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکا لیکن آج ہماری سیکیورٹی ایجنسیز نے ایک حاضر سروس را کے ایجنٹ کو پکڑ کر دنیا کو یہ بتا دیا ہے کہ پاکستان پوری دنیا کے امن کیلئے اس خطے میں ایک جنگ لڑ رہا ہے لیکن سازشی قوتیں اسے غیر مستحکم کررہی ہے۔جسے روکنے کیلئے عالمی براداری کو اپنا ایک بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *